پاکستان اور افغانستان کیلئے واحد آپشن ، دوستی

پاکستان اور افغانستان کیلئے واحد آپشن ، دوستی

پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث پاکستان میں پھنس جانے والے افغان باشندوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے پاکستان کے اس فیصلے کو افغانستان میں سراہے جانے کی توقع تھی جس کے تحت وزارت داخلہ نے پشاور پاسپورٹ آفس کو افغان باشندوں کے ویزوں میں توسیع کا اختیار دے دیا ہے۔ لیکن افغان وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹی وی انٹرویو میں اس کا ذکر تک نہیں کیا اُلٹا پاک افغان سرحد کے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو ''سرحدکی خلاف ورزی'' اور ''جارحانہ اقدامات'' قرار دیا ہے۔ افغان حکمران اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ فاٹا میں دو سال جاری رہنے والے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ہزاروںکی تعداد میں شدت پسند تنظیموں کے ارکان نے افغانستان میں پناہ لی۔ اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کی ڈیڑھ ہزار میل سرحد میں متعدد ایسے راستے ہیں جن سے ٹرک آ جا سکتے ہیں اور سینکڑوں ایسے راستے ہیں جن سے پیدل سرحد عبور کی جا سکتی ہے اور مویشیوں کے ذریعے آمدورفت ممکن ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان سے روزانہ تیس پینتیس ہزار لوگ چند دن پہلے تک بغیر سفری دستاویزات کے سفر کرتے رہے ہیں۔ اس میں بھی کسی شک کی گنجائش نہیں کہ افغانستان میں پناہ لینے والے دہشت گرد علی الاعلان پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں پناہ لینے والے دہشت گرد افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے قریب ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں ۔ اس بات کا اعتراف خود حکومت افغانستان نے چند ماہ پہلے کیا تھاجب حکومت پاکستان نے مطالبہ کیا تھا کہ ملا فضل اللہ کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ حکومت افغانستان سے جواب موصول ہوا تھا کہ ملا فضل اللہ پاک افغان سرحد کے علاقے میں متحرک رہتا ہے اسے گرفتارکرنا محال ہے۔ تاہم افغانستان کی طرف سے کسی ایسی کوشش کی بھی اطلاع نہیں آئی تھی کہ ملافضل اللہ کی گرفتاری کے لیے کوئی کارروائی کی گئی ہو۔ یہ بھی ناقابلِ تردید ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں جن خود کش بمباروں نے حملے کیے ان کا تعلق افغانستان سے نکلا اور یہ بات بھی ناقابلِ تردید ہے کہ پاکستان کو اپنی بین الاقوامی سرحد بند کرنے اور غیر قانونی طور پر اپنے علاقے میں آنے والوں کو روکنے کا حق ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ملنے والی سرحد کاانتظام بہتر بنانے کی کارروائی دو ماہ پہلے کی تھی جب طور خم سرحد پر گیٹ کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تھا لیکن جب افغان فورسز نے اس گیٹ کی تعمیر پر مامور لوگوں پر فائرنگ کی اور پاک فوج کے ایک کیپٹن سمیت متعدد افراد کو شہید کر دیا ، اس کا محرک کیا تھا یہ وضاحت کرنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ بتانا بھی افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ طورخم سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔ ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے افغان حکومت کا بھی یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ اپنے باشندوں کو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے سے روکے اور پاکستان سے کسی کو غیر قانونی طور پر افغانستان میں داخل نہ ہونے دے۔ لیکن افغان حکومت نے پاکستان کی طرف سے سرحدی انتظام میں تعاون کی تجویز کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ اس کا مطلب یہی لیا جا سکتا ہے کہ افغان حکمران غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کو نہیں روکنا چاہتے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں یہ ظاہر ہونے کے بعد کہ حملہ آورافغانستان سے آئے تھے اور افغانستان میں مقیم دہشت گرد تنظیموں نے پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی ذمہ داری بھی دھڑلے سے تسلیم کی تھی ، یہ ضروری تھا کہ افغانستان سے غیر قانونی آمدورفت بند کی جائے جو چند روز پہلے کی گئی۔ افغانستان کے سرحد سے متصل علاقوں میں دہشت گرد تنظیموں کے اڈوں پر گولہ باری بھی کی گئی جس میں ان تنظیموں کے تربیتی اڈے بھی تباہ ہوئے اور بعض اہم لیڈر بھی مارے گئے۔ حالانکہ یہ ذمہ داری افغانستان حکومت کی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ نہ صرف یہ کہ اس ذمہ داری کے پورے کیے جانے کی طرف کوئی اقدام نہیں کیا گیا بلکہ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاک فوج کی اس کارروائی کو جارحانہ اقدام قرار دیا ہے حالانکہ اگر افغان حکمران خود ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں تو پاک فوج کی کارروائی کی معاونت کی جانی چاہیے تھی تاکہ افغان سرزمین غیر قانونی طور پر مقیم دہشت گردوں سے خالی کرائی جا سکتی ہے ۔ جارحیت تو افغانستان کی سرزمین سے ایسے عناصر کر رہے ہیںجن کو افغان حکومت اپنا شہری بھی تسلیم نہیں کرتی۔ اگر یہ عناصر افغانستان میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں تو جارح تو یہ عناصر ہیں جن کے خلاف افغان حکومت کو کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ الٹا اگر پاکستان حفظ ماتقدم کے طور پر ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو اسے جارحانہ اقدام کہنا ان عناصر کی حمایت کی حیثیت رکھتا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہی ثبوت فراہم کیا ہے۔ افغان اہل سیاست کی یہ بھول ہے کہ آج وہ پاکستان مخالف قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل کرکچھ عارضی فوائد حاصل کر لیں گے لیکن تاریخی حقائق اس سوچ کو باطل کر دیں گے۔ افغان حکمرانوں کوتدبر سے کام لینا چاہیے جوآج کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔ پاک افغان عوام کے روابط ان کے مذہبی اور لسانی رشتے صدیوں پر محیط ہیں اور صدیوں پر محیط رہیں گے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بین حقیقت بیان کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے لیے واحد آپشن دوستی ہے۔ اس حقیقت سے انکار سے افغانستان کو بھی نقصان ہی ہو سکتا ہے اور پاکستان کو بھی نقصان ہی پہنچایا جا سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے بہتر مستقبل کا انحصار باہمی تعلقات کی بہتری میں ہی ہے۔

متعلقہ خبریں