دا وخت بہ ہم تیر شی!

دا وخت بہ ہم تیر شی!

یہ ١٩٩٩ کی بات ہے۔جب میں جماعتِ نہم کا طالبعلم تھا۔ ایک دن ہمارے اردو مضمون کے استادِ محترم محمد اقبال سبق پڑھانے کلاس روم میں آئے۔ ہم احترام میں کھڑے ہوئے اور پھر خاموشی سے بیٹھ کر اپنی کتابیں کھول دیں۔ اقبال صاحب دوسرے دنوں کے برعکس خاموشی سے اپنی کرسی پر بیٹھ گئے اور چند لمحے سوچنے کے بعد بولے کہ آج کچھ بھی نہیں پڑھنا۔ ہم تھوڑے سے حیران لیکن دل ہی دل میں بہت خوش ہوئے کہ چلو آج کیلئے ایک کلاس سے جان تو چھوٹی۔ پھر وہ اٹھے، ہاتھ میں چاک اٹھایا اور تختہ سیاہ کی جانب بڑھے۔ پھر ہماری طرف دیکھا اور بولنے لگے کہ آ ج میں آپ لوگوں کو صرف ایک جملہ لکھوانا چاہتا ہوں۔ اور ساتھ ہی تاکید کی کہ جو میں لکھنے جارہا ہوں وہ سب اپنی اپنی کاپیوں میں لکھو اور آج کی تاریخ اس پر ڈال دو۔ اور یہ کاپیاں اپنے پاس محفوظ رکھو اور سالوں بعد جب تم میں سے کوئی ڈاکٹر، انجینئر، استاد، بزنس مین، دکاندار اور یا پھر جو بھی بنا ہوگا اور یہ کاپیاں دیکھوگے تو تم لوگوں کو اس کی سمجھ آجائیگی۔ اور میری یہ بات اور یہ وقت بھی تم لوگوں کو یاد آجائیگا۔ تم میں سے کچھ لوگ اس کو دیکھ کر اگر خوشگوار یادوں کے ساتھ خوشی محسوس کریں گے تو بہت سے اس کو دیکھ کر دکھی بھی ہونگے۔ پھر انہوں نے بڑے بڑے اور موٹے الفاظ میں بورڈ پر لکھ دیا '' دا وخت بہ ہم تیر شی''۔(یہ وقت بھی گزر جائیگا)۔پھر وہ کچھ دیر کیلئے کھڑکی سے باہر دیکھنے کے بعد دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ وقت بادشاہ کی طرح ہوتاہے۔ تم اس کی اطاعت اور قدر کروگے تو یہ نہ صرف تمہاری قدر کرے گا بلکہ تم کو نوازے گا بھی اور مالامال بھی کرے گا۔ اور اگر تم اس کی قدر نہیں کروگے اور اس کی مخالف سمت میں چلنے کی کوشش کروگے تو یہ نہ صرف تمہیں پیچھے چھوڑے گا بلکہ سزا بھی دے گا۔ ہم چونکہ اس وقت شعور کے اس درجے میں تھے جب ہمیں بہت سی چیزوں کی سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن آج اٹھارہ سال بعد جب مجھے اپنی وہ پرانی کاپی ہاتھ لگی اور میں نے وہ جملہ پڑھا تو پڑھتے ہی اپنے محترم استاد کی ایک ایک بات میرے ذہن کے دریچوں میں تازہ ہوگئی۔ پہلے تو ایسا لگا کہ یہ بات انہوں نے کل ہی ہمیں کہی اور لکھوائی تھی۔ پھر سوچنے لگاکہ انہوں نے اٹھارہ سال پہلے ہمیں کتنی بڑی بات سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ دل ہی دل میں ان کا مشکور ہورہا تھا اور ساتھ ہی دل میں حسرت جاگ رہی تھی کہ کاش وقت تھم جائے اور میں اٹھارہ سال پیچھے اپنے سکول کے اس کمرے میں چلا جائوں جہاں اقبال صاحب اپنی کرسی پر بیٹھے ہوں اور مجھے ان کے ہاتھ چومنے کا موقع مل جائے۔ ظاہرسی بات ہے کہ وقت پہ کسی کا لگام ہے اور نہ یہ کسی کے اختیار میں ہے۔ کسی نے وقت کو دوست بنا لیا تو دوستی نبھانے میں بے مثال ہے اور اگر کسی نے وقت کو آنکھیں دکھا کر اس کو دشمن بنانے کی غلطی کر لی تو اس سے بڑا دشمن کوئی اور نہیں۔وقت کی اہمیت کا اندازہ صرف ان کو ہوتا ہے جنہوں نے اسے ضائع کیا ہو اور یا پھر ان کو جن کے ہاتھوں سے وقت نکل چکا ہو۔ وقت ایک ایسا خاموش استاد ہے جو بنا بولے بہت سی چیزیں سمجھاتا ہے۔ وقت اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی۔ زندگی کے دائو پیچ میں انسان پراگر اچھا وقت آتا ہے تو کبھی کبھی اس کو برے وقت کا بھی سامنا کرنا پڑتاہے۔ اگر اچھے وقت میں کوئی شخص اپنی اوقات بھول جائے تو وہ بھی گزر جاتا ہے اور یہ بھی ہے کہ برا وقت ہمیشہ کیلئے نہیں ہوتا۔ ایک مشہور قصہ بھی ہے کہ جب مغل بادشاہ اکبر نے اپنے ذہین وزیر بیر بل سے کہا کہ مجھے کوئی ایسی بات بتائو کہ اگر میں خوش ہوں تو غمگین ہوجائوں اور اگر پریشان ہوں تو خوش ہوجائوں۔ بیربل نے ایک ہی جملہ کہا جس میں بادشاہ کو جامع جواب مل گیا۔ بیر بل نے کہا،'' عالی جاہ! یہ وقت بھی گزر جائیگا''۔زندگی مختلف حادثات اورواقعات کا مجموعہ ہے۔ ہمیں اگر دکھ ملتا ہے تو خوشیاں بھی ہمارے حصے میں آتی ہیں۔ ترقی ہے، تو تنزلی بھی زندگی کاحصہ ہے ۔ صحت ہے تو بیماری بھی ہے۔ ہماری زندگی ہمیں اپنے مختلف رنگ دکھاتی ہے۔ لیکن کسی بھی حالت میں مغرور یا ناامید نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ میرے ذہن میں یہ سوال بھی بار بار اٹھ رہا ہے کہ آخر کونسی وجہ ہے کہ مجھے اس حوالے سے اپنے استاد کی ایک ایک بات نہ صرف یاد آرہی ہے بلکہ بہت اچھی بھی لگ رہی ہے۔ تھوڑا سوچنے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انہوں نے ہمیں جو بات کہی تھی وہ کتاب اور نصاب سے ہٹ کر ہے۔ وہ ایک ایسی بات ہے جو ہماری زندگی کے عملی پہلوئوں پر اثرانداز ہونے سے تعلق رکھتی ہے۔ میں نے اس سے یہ بھی نتیجہ نکالا ہے کہ اگر ہمارے اساتذہ کرام ہفتہ میں ایک بار بھی بچوں کومعمول سے ہٹ کر اور مختلف موضوعات پرلیکچر دیں تو نہ صرف انکی ذہنی نشو ونما پر مثبت اثر پڑے گا بلکہ وہ زندگی کی مختلف جہتوں سے بھی واقف جائیں گے اور جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو ان کو زیادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اساتذہ کا چاہے وہ سکول کے ہوں ، کالج کے یا پھر یونیورسٹی کے، نہایت احترام کرنا چاہئے کیونکہ یہی وہ ہستیاں ہیں جو ہمیں پڑھانے کے ساتھ ساتھ ہمارے شعور کو پختہ اور بیدار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ہمیں وقت اور اپنے اساتذہ کی ایک جیسی قدر کرنی چاہئے کیونکہ اگر اساتذہ ہمارے وقت کو قیمتی بناتے ہیں تو یہی وقت ہمیں موقع دیتا ہے کہ ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ استاد کی کوئی بھی بات بے معنی اور وقت کا کوئی بھی لمحہ فضول نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں