بس کیجئے

بس کیجئے

جناب سراج الحق کہتے ہیں کہ پاناما کیس کا فیصلہ جو بھی ہو ، حکومتی ساکھ ختم ہوگئی ہے ۔ میں جناب سراج الحق کی بہت عزت کرتی ہوں ۔وہ بڑے ہی باکمال آدمی ہیں ۔ قاضی حسین احمد کے بعد شاید وہی ہیں جو جماعت اسلامی میں جان ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کی بات سن کر ہنسنے کو جی چاہتا ہے ۔ شاید وہ جانتے نہیں کہ وہ کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں ۔ یا وہ بھول گئے ہیں ، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھول جانا چاہتے ہوں اور کردار کے ترازومیں اچھائی کے باٹ رکھ کر اس ساری صورتحال کو تول رہے ہوں ۔ اچھے لوگوں کے ساتھ یہ بھی بہت مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ ہر ایک کو اپنی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ اپنے اصولوں کے آنکڑے پر جانچنے کی کوششیں کرتے ہیں ۔ یہ ساکھ ، کردار ، نیک نامی یہ سراج الحق جیسے لوگوں کے لیے اہم باتیں ہیں ان جیسے ہی لوگ ان باتوں کی پرواہ کیا کرتے ہیں ، لیکن انہیں یہ دیکھنا پرکھنا اورسمجھنا ہے کہ وہ آخر کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں ، وہ لوگ جن کے حوالے سے عدالت عالیہ میں تحقیقات ہورہی ہیں مقدمہ چلایا جارہا ہے ان لوگوں کے مسلسل جھوٹ سامنے آتے ہیں اور انہیں ذرا بھی شرمندگی یا اپنے جھوٹ پکڑ ے جانے پر تاسف محسوس نہیں ہوتا ۔ ان کے چہروں پر اسی طرح مسکراہٹیں رہتی ہیں ۔ ان کی باتوں میں وہی غرور دکھائی دیتا ہے ۔ ان کے نمک خوار ہوئے ننھے سیاستدان اسی طرح ان کے حکم پر دیگر سیاست دانوں اور سیاسی اخلاقیات کے جسم ادھیڑ تے رہتے ہیں ۔ ان لوگوں کے بارے میں ہم پہلے بھی کسی خوش گمانی کا شکار نہ تھے ۔ یہ پہلے بھی اس ملک کو اسی طرح نوچتے کھسوٹتے رہے ہیں ۔ یہ ملک پہلے بھی ان کے ہاتھوں لٹتا رہا ہے ۔کبھی موٹروے کے نام پر ، کبھی یلو کیب سکیم کے نام پر ،کبھی اورنج ٹرین کی شکل میں ، کبھی میٹروبس سروس کے عنوان سے ، لوٹ مار کے کتنے قصوں کا اس ملک کے بچے بچے کو پتا ہے ابھی ہم حدیبیہ پیپر ملز کی بات ختم نہیں کر چکے کہ نندی پور پاور پراجیکٹ کی فکر ستانے لگتی ہے ۔ ساہیوال پاور پراجیکٹ اور ایسے کتنے ہی عنوان ہیں جو ہمیں ان کی بد عنوانی کے قصے سناتے ہیں ۔ یہ ساری باتیں ہم جانتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی مالی حیثیت کیا تھی ؟ ہم ان کے ساتھیوں کی صورتحال بھی جانتے ہیں اور اب کے کمالات بھی ہمارے سامنے ہیں کہ اب بیٹے باپ کو کروڑوں تحفے میں اور قرض حسنہ میں دیتے ہیں۔ میاں نواز شریف کے والد کے قطر کے حکمرانوں سے کب تعلقات پیدا ہوئے اور عدالت کے سامنے پیش کئے جانے والے قطر ی شہزادے کے خط کی کیا سچائی ہے ،ہم جانتے ہیںکہ یہ لوگ اپنی بچت کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔ یہ ایس آر اوز کی آڑے لے کر کیا کمالات دکھا یا کرتے تھے ہمیں یہ بھی معلوم ہے ۔ اس ملک کے عوام بہت کچھ جانتے ہیں اور جو کچھ عوام جانتے ہیں اس سے کہیں زیادہ حقائق جناب سراج الحق کے سامنے آشکار ہیں ۔ مجھے حیرانی اس بات کی ہے کہ سب جانتے بوجھتے بھی جناب سراج الحق وہ حسن ظن رکھتے ہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومتی ساکھ ختم ہوگئی ہے ۔ ان جیسے لوگوں کے لیے ساکھ کیا معنی رکھتی ہے ۔ انہیں کیا معلوم کہ ساکھ کیا ہوتی ہے ۔ جھوٹ اور بد عنوانی کی بنیادوں پر بنائی گئی ان کی بزنس ایمپائر بھلا سچ اور ساکھ کے بوجھ کہاں برداشت کر سکتی ہے ۔ انہیں ساکھ کی پرواہ ہوتی تو کیا یہ اسی وقت مستعفی نہ ہوجاتے جب ان کا نام پاناما لیکس میں آیا تھا ۔ساکھ کی پرواہ تو برطانیہ کے وزیر اعظم کو تھی جو اس ساکھ پر اتنا دھبہ بھی برداشت نہ کر سکا کہ اس کے حوالے سے چند ہزار پائونڈ کی کوئی بات کی جائے ۔ ساکھ کی پرواہ تو آئس لینڈ کے وزیر اعظم کو تھی جنہوں نے پاناما لیکس میں نام آتے ہی اپنی وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا ۔ ان سے تو بہتر ABN AMROکی پروائزی بورڈ کے ممبر تھے جنہوں نے پاناما لیکس میںنام آنے کے بعد اس بورڈ کا ممبرر ہنے سے معذرت کر لی ۔ سپین کے وزیر صنعت کو ان سے زیادہ اپنی ساکھ کی پرواہ رہی ہوگی ، چلی کے ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کے صدر کو ان سے زیاد ہ اپنی ساکھ کی پرواہ ہوگی ۔ ناموں کی ایک لمبی فہرست ہے اور اس فہرست میںان کے نام کا سایہ بھی دکھائی نہیں دیتا ۔ ساکھ کی پرواہ کس کو ہے ۔ ساکھ کی ضرورت کس کو ہے ۔ یہ تو انتخابات میں ووٹ خریدنے والے لوگ ہیں ،جعلی ووٹ ان کا طرہ امتیاز ہیں ۔1985کی اسمبلی میں یہ جعلی ووٹ لے کر آئے تھے اور اس کی گواہی طلب کرنے کے لیے بہت دور جانے کی بھی ضرورت نہیں ۔ سراج الحق! انہیں ایسی باتوں سے شرم نہیں آتی ۔ انہیں ایسی باتوں سے کوئی گھبراہٹ اور پریشانی محسوس نہیں ہوتی ۔ آپ جیسے لوگ ساکھ کی بات بھی کرتے ہیں اور پرواہ بھی تبھی تو آ پ سپریم کورٹ بھی ایک عا م آدمی کی طرح تشریف لاتے ہیں ۔ آپ جیسے لوگوں کو اپنی عزت کی فکر دامن گیررہتی ہے کیونکہ آپ نے ساری زندگی میں صرف عزت ہی کمائی ہے ۔ جنہوں نے دولت کمانی ہوتی ہے ان کے لئے یہ سب چھوٹی موٹی باتیں ہیں ۔ ان کے فضول چکروں میں وہ نہیں پڑتے تبھی تو ان کے پاس رائے ونڈ میں محل ہیں اور آپ کے پاس صرف عزت ۔ ان کے پاس لندن میں فلیٹ ہیں اور آپ کے پاس صرف ساکھ ۔ آپ کے بارے میں تو ان کے سیاست دان بھی بات نہیں کرتے آپ کے بارے میں تو عدالت عالیہ کے جج بھی کہہ دیتے ہیں کہ آئین کی دفعہ 62اور 63کی بات ہوئی تو صرف سراج الحق باقی رہ جائینگے ۔ ایسی باتیں نہ کریں ۔ آپ کے سکے سیاست کے اس بازار میں نہیں چلتے ۔ آپ جیسے لوگ اگر ملک میں مٹھی بھر بھی ہوتے تو کیا ہماری یہ حالت ہوتی ۔

متعلقہ خبریں