پاک افغان تعلقات میں حالیہ کشیدگی اور اس کا حل

پاک افغان تعلقات میں حالیہ کشیدگی اور اس کا حل

مال روڈ لاہور پر ہونے والے خود کش بم دھماکے سے شروع ہونے والی دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کاشکا رہوچکے ہیں اور پاکستان نے 15 فروری کو افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کردیا تھا جس سے کشیدگی کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے افغان سرحدی علاقوں میں گولہ باری کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں جس کے بعد پاکستان کی جانب سے دہشت گردوںکی ہلاکت کے دعوے اور افغانستان کی جانب سے مذمتی بیان بھی میڈیا کی زینت بن چکے ہیں۔ کابل اور جلال آباد میں پاکستان مخالف ریلیاں نکالی گئی ہیں جن میں' 'پاکستان مردہ باد'' کے نعروں کی گونج پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سرحد پار تک سنائی دی ہے۔ اس طرح کے جذبات19فروری کو پاکستانی سول سوسائٹی کے وفد اور افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز(اے سی سی آئی ) کی میٹنگ میںبھی ظاہر کئے گئے جو اس سفارتی پیش رفت کے ایک دن بعد منعقد ہوئی جس میں پاکستان نے افغانستان کو 76 دہشت گردوں کی فہرست دی تھی جو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔
توقع کے عین مطابق، پاکستان سے ملنے والی دہشت گردوں کی فہرست کے بعد افغانستان نے بھی پاکستان کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے قائدین سمیت 85افراد کی فہرست دی ہے جو افغان حکومت کے مطابق پاکستان کی سرزمین پر موجود ہیں اور 'افغانستان کے عوام کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں' ۔سفارتی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات دیگر شعبوں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس کشیدگی کی وجہ سے مال بردار ٹرکوں کے علاوہ کئی مسافر بسیں اور ویگنیں بھی سرحد کے دونوں جانب پھنسی ہوئی ہیں جس سے تاجر برادری کو نقصان ہونے کے ساتھ ساتھ ہزاروں مسافروں اور سرحد کے پار ان کے اہلخانہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جہاں تک تجارتی سامان کی بات کی جائے تو سرحد بند ہونے کی وجہ سے ایسی بہت سی چیزیں خراب ہو رہی ہیں جس سے تاجروں کو روزانہ لاکھوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی تاجر پچھلے پانچ سالوں میں پاک۔ افغان سرحد کی وقتاً فوقتاً بندش کی وجہ سے ہونے والے بھاری نقصانات کی شکایت کرتے بھی نظر آتے ہیں ۔ پچھلے کچھ سالوں میں تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کے ذریعے ہونے والی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بھی بہت زیادہ کمی واقع ہوئی ہے ۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسافروں اور تجارتی سامان پر پابندی، کشیدہ تعلقات اور سفارتی جنگ ہمیں پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی یاد دلاتے ہیں لیکن کئی دہائیوں پر محیط اس دشمنی کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کو آج تک کیا فائدہ حاصل ہوا ہے ؟ اگر یہی فارمولا پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر لگایا جائے تو ان دونوں برادر ہمسایہ ممالک کو بھی تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے نقصان ہی اُٹھانا پڑے گا اور دونوں ممالک کے عوام اسی طرح مشکلات کا شکار رہیںگے۔ رواں سال کے آغازسے ہی دونوں ممالک میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر آئی ہے جس میں 400 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں ۔ اس تناظر میں افغانستان کا دورہ کرنے والے ٹریک 1.5 کے وفد سے بات کرتے ہوئے قائم مقام افغان وزیرِ خارجہ اور این ڈی ایس کے ایک اعلیٰ ترین عہدیدار کا کہنا تھا کہ افغان حکام متنازعہ معاملات پر پاکستان سے بات کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ اگر افغان طالبان جماعت الاحرار، ای ٹی آئی ایم، آئی ایم یو، چیچن دہشت گردوں اور جند اللہ کو پناہ فراہم کررہے ہیںتو کیوں نہ اس حساس معاملے سے مل کر نمٹا جائے ۔ دوسری جانب بہت سے افغان حکام اس الزام کو مسترد کرتے ہیں کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کو سبق سکھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور حالیہ دہشت گردی کی لہر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حال ہی میں سابق بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے قومی ٹی وی بات کرتے ہوئے پاکستان سے نمٹنے کے لئے پاکستان میںبلوچ علیحدگی پسند تحریکوںجیسی دیگر باغی تحریکوں کی مدد کا نسخہ پیش کیا ہے تاکہ افواجِ پاکستان کشمیر پر توجہ دینے کی بجائے باغی تحریکوں اور اندرونی خلفشار میں الجھ کر رہ جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کو پاکستان کے اندرونی حالات کی خرابی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جس سے پاکستان فوج کی توجہ بھی سرحد پار کی بجائے سرحد کے اندر ہونے والے خون خرابے کی جانب مبذول ہوجائے گی۔ بھارتی آرمی چیف کی جانب سے دیئے جانے والے اس بیان کے تناظر میں پاکستان اور افغانستا ن کی اعلیٰ قیادت کو بیٹھ کر بات کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو ختم کرکے کسی تیسرے ملک کوان تنازعات سے فائدہ اُٹھانے کا راستہ بند کر دیا جائے۔ اس حوالے سے باڈر مینجمنٹ کے لئے جدید آلات کا استعمال اور انٹیلی جنس شیئرنگ ایسے معاملات ہیں جن سے مذاکرات کا آغاز کیا جاسکتا ہے ۔سرحدپر جدید آلات کے استعمال سے انسانوں کے داخلے کے ساتھ ساتھ سامان کی ترسیل کے نظام میں بھی بہتری لائی جاسکتی ہے۔ پاک ا فغان سرحد کے دونوں جانب بسنے والے کروڑوں انسانوںکی فلاح کے لئے دونوں ممالک کو ماضی کی غلطیاں بھلا کر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا ۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون ،ترجمہ:اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں