وہ بلند ی اوریہ پستی

وہ بلند ی اوریہ پستی

چندروز قبل سوشل میڈیا پرایک تصویر پہ نظر پڑی تو وہ تصویر مجھے ماضی کے جھروکوں میں لے گئی، اس تصویر میں سابق جنرل و صدر ایوب خان اپنے ہم منصب کی گال پر ہاتھ سے تھپکی دے رہے ہیں اور امریکی صدر مؤدب کھڑے ایوب خان کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے ہیں ،یعنی ہماری تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ہم امریکی عہدے داروں سے برابری کی بنیاد پر برتاؤ کیا کرتے تھے اور ایک وقت یہ بھی ہے کہ اگر آج امریکی صدر ہمیں فون کال کردے تو ہم اس کرم نوازی پہ پھولے نہیں سماتے ۔کسی فرمانبردار کی طرح امریکی دوستی میں ہر حد تک جانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ جب سے امریکہ سے ہماری دوستی ہوئی ہے ہمیں ہر میدان میں خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں شریک ہوئے ہمیں دو دہائی کا عرصہ ہونے کو ہے ۔ کہنے کو ہم امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں ہم نے اپنی معیشت تباہ کی ہے، جانی نقصان اس کے علاوہ ہے اور آج بھی پورا ملک آگ اور خون میں ڈوبا ہوا ہے۔ امریکہ کی دہشت گردی کی جنگ میں لڑتے ہوئے ہمیں اتنا وقت گزر گیا ہے کہ مزید کی گنجائش نہیں۔ مشرف دور سے لے کر آج تک سوارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہم اُٹھا چکے ہیں ، جب کہ غیر ملکی قرضے تقریباً 70ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکمرانوں کو سر جوڑ کر امریکہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کی جنگ کو سمیٹ لینا چاہیے۔ امریکہ کو پاکستان میں داخل ہونے کا اذنِ عام تو مشرف نے دے رکھا تھا ، مگرآج کے حکمرانوں نے مشرف کی خودساختہ پالیسیوں کو ختم کرنے کی بجائے زیادہ شدومد کے ساتھ جاری رکھا ، جس کے نتیجے میں وطن عزیز ہر طرح کی پاکستان دشمن ایجنسیوں کی آماجگاہ بن گیا۔ امریکہ نے اول تو کوئی امداد نہیں دی، اور اگر دی تو بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر، جب کہ پاکستان امریکی دوستی یا خود ساختہ خوف کے تحت ہر طرح کے نقصانات برداشت کر رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ مل کر جنگ لڑنے کا یہ بھی نقصان ہوا کہ وہ ملک بھی ہمارے دشمن بن گئے جو ہمارے ارد گرد ہیں۔ بھارت کو اس قدر کھلی چھٹی دی گئی ہے کہ وہ اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے اور امریکہ کے کہنے کے باوجود بھارت نے پاکستان کا پانی روک رکھا ہے تاکہ رہی سہی کسر وہ پوری کر دے۔ امریکہ کی دوستی پر حد سے زیادہ انحصار کرنے کی بجائے اسلامی دوست ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے ہوتے تو اس کے نتائج یقینا مثبت برآمد ہونے تھے یا کم ازکم اپنے وسائل کو ہی بروئے کار لایا ہوتا ، اللہ تعالیٰ نے وطن عزیز کو ہر طرح کے قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہے، یہاںکی زمین سونا اُگلتی ہے ، چار موسم بہت کم ممالک کو نصیب ہوتے ہیں ۔ ایک تقریب میں روس کے سفیر کے ساتھ ملاقات ہوئی تو پاکستان کی خوبصورتی بارے روس کے سفیر نے بہت مثبت احساسات پیش کیے۔ ان میں سے ایک نعمت دھوپ بھی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ہمیں پورا سال دھوپ کی نعمت میسر نہیں ہوتی ، اس نے کہا کہ میں جب تک پاکستان نہیں آیا تھا پاکستان کے بارے میں میرے خیالات اچھے نہ تھے، اب جب کہ میں پاکستان میںہوں اور مختلف شہروں کا دورہ کر چکا ہوں تومیرا تاثرتبدیل ہو چکا ہے ،میرے خیال میں نہ صرف یہ کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے بلکہ یہاں کے لوگ بھی فراخ دل ہیں۔ میں نے جو سکون پاکستان میں محسوس کیا ہے ، دیگر ممالک میں ایسا سکون بہت کم نصیب ہوا ہے۔ ہمارے روس کے مہربان دوست نے یہ بھی بتایا کہ ہماری پہچان دیگر ممالک میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر ہوتی ہے ۔ مغربی ممالک کے لوگوں کے ذہنوں میں جو بات بڑی شدت کے ساتھ بٹھا دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کا ہر دوسرا شخص دہشتگرد ہے۔روسی سفیر نے بتایاکہ جب تک میں پاکستان نہیں آیا تھا تو میرا خیال بھی یہی تھا کہ جب میں پاکستان جاؤں گا تو راہ چلتے کوئی مجھ پر دھاوا بول دے گا، مجھ پرحملہ کرکے میرا سامان چھین لے گا ،لیکن جب میں پاکستان آیا تو مجھے لگا کہ نہ صرف یہ کہ یہاں کے لوگ پرامن ہیں بلکہ بہت بڑے قدردان بھی ہیں۔ جو مہمان نوازی یہاںکے لوگوں میں ہے شاید ہی دوسرے ملک کے حصے میں آئے کیونکہ پاکستان کے لوگوں کو جب پتہ چلتا ہے کہ یہ شخص باہر کے کسی ملک سے آیاہے تو ان کا پیار و محبت قابلِ دید ہوتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ پاکستان کے لوگ پرامن ، مہمان نواز اور اعلیٰ ظرف کے مالک ہیں ، رہی یہ بات کہ آج کل کے احساس محرومی کا ذمہ دار کون ہے ، تو اس کے لیے صرف ایک کام کیجئے ، امریکی دوستی سے باہر نکل آئیے اور امریکہ کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کے بجائے ویسا ہی برابری کا رویہ اپنائیے جیسا کہ جنرل ایوب خان امریکی صدر جانسن کے ساتھ اپناتے تھے۔ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کے امریکہ کے ساتھ رویے کے بارے یہی کہا جا سکتا ہے کہ
تو جھکا جب غیر کے آگے ،نہ تن تیرا نہ من