مشرقیات

مشرقیات


حضرت شیخ سفیان ثوری کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔ والد کا نام سعید' کوفی الاصل ہیں۔ اپنے زمانے کے پیشوا اور امام سمجھے جاتے تھے۔ علوم ظاہر و باطن میں یکتائے روز گار تھے اور پانچ مجتہدوں میں سے ایک آپ بھی ہیں۔ حضرت امام اعظم کے شاگرد رشید ہیں۔ بہت سے مشائخ سے شرف ملاقات حاصل تھا۔ 23سال تک آپ متواتر شب بیدار ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ پیغمبر علیہ السلام کی جو حدیث بھی میں نے سنی ہے اس پر عمل کیا۔ ایسی کوئی حدیث نہیں جو سنی ہو اور عمل نہ کیا ہو۔ روایت ہے کہ آپ کسی سے کوئی چیز قبول نہیں فرماتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ اگر مجھے اس کا علم ہوجائے کہ اس جہان میں در ماندہ عاجز نہیں ہوں گا تو میں کسی کی پیشکش کو قبول کرلوں اور اس کے احساس کا بار اپنے ذمہ لے لوں۔ ایک مرتبہ آپ بیمار ہوئے۔ خلیفہ کے پاس ایک آتش پرست طبیب تھا جو بڑا تجربہ کار اور حاذق تھا۔ آپ کی تیمار داری کے لئے اس نے اس طبیب کو بھیج دیا۔ جب طبیب نے آپ کی نبض دیکھی تو تشخیص کیا کہ خوف الٰہی سے اس مرد خدا کا جگر خون ہوگیا ہے اور پارہ پارہ ہو کر مثانہ کی راہ باہر بہتا ہے۔ جس دین میں ایسے لوگ موجود ہوں گے تو وہ دین باطل نہیں ہوسکتا۔ یہ کہا اور آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ خلیفہ نے کہا کہ میں نے پہچان کر طبیب کو ایک بیمار کے سرہانے بھیجا تھا مگر بیمار کو طبیب کی خدمت میں بھیج دیا۔شیخ ابن مبارک نے فرمایا کہ میں نے ایک ہزار ایک سو بزرگوں سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ سفیان سے زیادہ فاضل ہم نے نہیں دیکھا۔ روایت ہے کہ ایک نوجوان کا حج کسی وجہ سے فوت ہوگیا۔ اس محرومی پر اس نے ایک سرد آہ کھینچی۔ آپ نے فرمایا' میں نے چار حج کئے ہیں' سب تجھے بخشے۔ لیکن یہ آہ جو تونے بھری ہے یہ مجھے بخش دے۔ اس نے کہا: بخش دی۔ رات کو خواب میں دیکھا کہ کوئی کہتا ہے کہ ا ے سفیان تو نے اس تجارت میں وہ نفع کمایا ہے کہ اگر تمام اہل عرفات پر اس کو تقسیم کرو تو سب دولت مند ہو جائیں گے۔روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ گریہ کے دس حصے ہیں۔ نو حصے ریا اور ظاہر داری کے ہیں۔ ایک محض خدا کے لئے ہے۔ اس ایک حصہ کا ایک قطرہ بھی آنکھوں سے بہہ جائے اس کا اثر بھی بہت کافی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ زہد وتقویٰ نہ تو ٹاٹ کے کپڑے پہننے کا نام ہے اور نہ کھانا نہ کھانے کا نام۔ زہد حقیقت میں دنیا سے بے تعلق رہنے اور امید و آرزو کم کرنے کا نام ہے۔ نیز آپ نے فرمایا کہ خدا کے حضور سینکڑوں گناہوں کے ساتھ حاضری زیادہ آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ ایک گناہ کرکے تو مخلوق خدا کے درمیان ہو۔ آپ کی وفات بصرہ میں 3ماہ شعبان 161ھ میں ہوئی۔ ایک روایت کے مطابق سن وفات بجائے 161ھ کے 162ہے۔ آپ کی مدت عمر 63سال تھی۔ جب آپ کو غسل دیا جا رہا تھا آپ کی پیشانی پر قرآن کریم کی آیت لکھی ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں