پاک امریکہ تعلقات کا نازک موڑ

پاک امریکہ تعلقات کا نازک موڑ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا افغانستان اور امریکا میں بیٹھے چند عناصر کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشی پر تشویش کا اظہارسنجیدہ معاملہ ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ سے امریکا کے افغانستان میں ریزولیوٹ سپورٹ مشن کے کمانڈر جنرل نکلسن سے ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال اور بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال سمیت پاکستان اور امریکا کا خطے میں امن وسلامتی کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیاگیا۔ملاقات میں آرمی چیف نے افغانستان اور امریکا میں بیٹھے چند عناصر کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی الزام تراشیاں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ یہ ہرگز اتفاق نہیں کہ ایسی الزام تراشیاں اس وقت کی جارہی ہیں جب امریکا، پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی کا جائزہ لے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اشتعال کے باوجود پاکستان مثبت انداز میں دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔اس موقع پر جنرل نکلسن نے پاک فوج کے پیشہ وارانہ معاملات کو سراہا اور استحکام کے لیے پاکستان کے عوام کی کوششوں کی تعریف کی۔ملاقات میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل بھی موجود تھے۔اگرچہ بدلتے حالات میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت میں بھی تبدیلی واضح دکھائی دیتی ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی اہمیت اور ضرورت سے دونوں ممالک بخوبی واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دلچسپی کے امور میں کمی آنے اور ترجیحات میں تبدیلی کے باوجود باہم تعلقات بارے سنجیدگی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ اس ار کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھائو وقت اور حالات کی مرہون منت چلا آیا ہے گو کہ پاکستان کی ضروریات اور امریکہ کے احتیاجات میں فرق ضرور ہے ۔ لیکن بہر حال دونوں ممالک کا دریا کے دو کناروں کی طرح ساتھ چلتے رہنے اور کبھی نہ ملنے کی مانند تعلقات رہے یہ ضرور ہوتا رہا کہ کبھی دریا کا پھیلائو اس قدر بڑھا کہ آبنائے اور خلیج پیدا ہوگئیں اور کبھی اس قدر گھاٹی میں سے گزرے کہ دونوں کناروں کے درمیان فاصلے مٹ گئے اور قریب آگئے۔ مگر بہر حال کناروں پر ہی رہے۔ اس وقت بھی گو کہ بدلتی دنیا اور ضرورتوں نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی خلیج وسیع کردی ہے دونوں کی ترجیحات اور دلچسپیاں بدل گئی ہیں۔ مگر اس کے باوجود دونوں ممالک کے باہم تعلقات کی ضرورت و مجبوریوں کا دونوں کو پاس ضرور ہے۔ روس اور چین سے پاکستان کی قربت خاص طور پر روس سے پاکستان کے ماضی کے برعکس تعلقات کے بعد گو کہ آج امریکہ پاکستان کے لئے اس قدر اہمیت کا باعث ملک نہیں مگر د ونوں ممالک کے درمیان ماضی کے معاہدوں سے لے کر امداد اور بعض مشترکہ عالمی منصوبوں میں حصہ داری اور خاص طور پر افغانستان کے خصوصی حالات اور دہشت گردی کے خلاف نا مکمل جنگ کی تکمیل ایسے معاملات ہیں جس کی بناء پر یہ ممالک آج بھی ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ خطے میں بدلتے حالات سے جن ممالک کے انا کو ٹھیس پہنچی ہے ان میں خود امریکہ کا شمار اگر نہ بھی ہو تب بھی خطے میں پاکستان کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر بھارت اور افغانستان کی خاص طور پر یہ سعی دکھائی دے رہی ہے کہ وہ پاکستان کو مطعون کرکے عالمی سطح پر اس کی وقعت اور بڑھتی ہوئی اہمیت کو گھٹا سکیں گو کہ ہماری خارجہ پالیسی اور ملکی حالات از خود اس امر کے لئے کافی ہیں کہ ہمیں عالمی سطح پر مشکلات کاسامنا کرنا پڑے۔ کچھ اندرونی عناصر کی وجہ سے بھی بیرونی دنیا میں درپیش ہماری مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ ان پر قابو پانا اور اس طرف توجہ ہمارے داخلی معاملات ہیں۔ پاکستان کو بیک وقت بھارت اور افغانستان کی طرف سے ہی نہیں خود امریکہ کی طرف سے بھی عدم اعتماد اور الزامات کا سامنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تمام تر اقدامات کامیابیوں اور قربانیوں کے باوجود امریکہ کی ''لاھل من مزید'' قسم کی فرمائشیں پوری کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائی اور خاص طور پر حقانی نیٹ ور ک کے حوالے سے ہمیشہ سے دبائو رہاہے۔ اس ضمن میں امریکہ نے اب دو قدم آگے بڑھ کر پاکستان کے ساتھ تمام امدادی روابط معطل کرنے کا اٹھایاگیا ہے۔ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کی طرف سے جس طرح پاکستان کے خلاف الزامات کی فہرست کی طوالت میں مسلسل اضافہ جاری ہے اور امریکہ جس انداز میں ان کی آواز کو اہمیت دینے لگا ہے اس صورتحال سے خطے میں خلیج کے اضافے کا باعث بننا فطری امر ہوگا۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو ہمسایہ ممالک کی مرضی و منشاء اور ان کے رجحان کے تابع نہیں ہونا چاہئے۔ امریکہ کو ان ممالک کی ایما پر پاکستان سے سرد مہری اور دست تعاون کو واپس کھینچنے کا نہیں ہونا چاہئے مگر اس وقت بعینہ ایسی ہی صورتحال ہے۔ امریکہ کو اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ اگر پاکستان دھیرے دھیرے ان حالات سے نمٹنے اور ان حالات میں پنپنے کا عادی بنتا جائے اور امریکہ پر انحصار میں بتدریج کمی آئے تو اس کا لا محالہ نقصان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر بھی پڑے گا۔ امریکہ کی اگر افغانستان میں موجودگی نہ ہوتی اور افغانستان میں اپنے مقاصد و مفادات سے اس کو غرض نہ ہوتی تب تو ایسا ممکن تھا لیکن اگر امریکہ اس خطے میں اپنی موجودگی کا خواہاں ہے تو پھر یکساں سلوک اپنانا ہی مصلحت ہوگی۔ امریکہ کو افغانستان اور امریکہ میں بیٹھے پاکستان پر الزام تراشی کرنے والے عناصر کی سننے کی بجائے پاکستان کی معروضات کو بغور سننے اور ان کا جائزہ لینے اور پاکستان سے تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت کا احساس کرنا ہوگا۔ آرمی چیف نے امریکہ کا افغانستان میں سپورٹ مشن کے کمانڈر کو صورتحال کے حوالے سے جو معروضات پیش کی ہیںجن تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور جس جانب توجہ مبذول کرائی گئی ہے اس بارے امریکہ کا سنجیدہ رویہ اور معروضیت پر مبنی حقائق کا ادراک ہی دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کے تقاضوں کا ضامن ہوگا۔ یکطرفہ طور پر کسی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر کئے جانے والے اقدامات سے اگر وقتی طور پر پاکستان کودبائو میں لانے میں کامیابی ہو بھی جائے تو اس کے آئندہ اثرات کسی طور مثبت اور موافق برآمد نہیں ہوسکتے۔ بہتر ہوگا کہ حقائق کا ادراک کیا جائے اور زمینی حقیقت کے برعکس اقدامات پر نظر ثانی کی جائے۔

متعلقہ خبریں