تعلیمی بورڈز کے نظام امتحان پر اٹھتے سوالات

تعلیمی بورڈز کے نظام امتحان پر اٹھتے سوالات

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے پوزیشن کے حامل طالب علموں کی انٹری ٹیسٹ میں اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق نمبر حاصل کرنے میں ناکامی سے ہمارا مروجہ تعلیمی نظام کے دوشاخہ ہونے ' اس کے غیر موثر اور طلبہ کے رجحان و استعداد اور حقیقی قابلیت جانچنے میں ناکامی کو ثابت کرتاہے۔ ہمارے مروجہ امتحانی نظام میں طلبہ کا مطالعہ جانچنے' ان کی قابلیت و علم آ شنائی کی جانچ کی بجائے ان کے حافظے کا امتحان لیا جاتا ہے جس کے باعث وہ لکیر کے فقیر بن کر رہ جاتے ہیں۔ جہاں بھی ان کے رٹے رٹائے سوالات سے ہٹ کر معروضی سوالات پوچھے جاتے ہیں ساری محنت اور تیاری کے باوجود ہونق شکل سامنے آتی ہے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں بار بار اس کی نشاندہی ہوئی ہے اس کا اعتراف بھی کیاجاتا ہے مگر صورتحال کو تبدیل کرکے طرز امتحان ایسا مرتب کرنے کی نوبت نہیں آتی جس میں طلبہ کا حقیقی ٹیلنٹ اس طرح سے سامنے آئے کہ اس کی مزید جانچ کے لئے کسی انٹری ٹیسٹ وغیرہ کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ ہمارا نظام تعلیم تضادات کا مجموعہ ہے اور سکولوں میں مختلف قسم کا طریقہ کار رائج ہے۔ نصاب بھی یکساں نہیں اور طریقہ کار بھی مختلف ہیں۔ اگر پرائمری سطح سے ہی یکساں نصاب تعلیم اور یکساں نظام تعلیم متعارف کروایا جائے تو ایک ہی طرز کی تربیت اور طریقہ تعلیم و تعلم نہ تو مسائل و تضادات کا باعث ہوگا اور نہ ہی طالب علموں کو مشکلات پیش آئیں گی۔ ہمارے طالب علموں کو یہ جو آئوٹ آف کورس کی شکایت رہتی ہے درحقیقت اس کی وجہ ہی یہی ہے کہ وہ درسی کتب کے بعض حصوں کو کورس کا حصہ سمجھتے ہی نہیں اور نہ ہی ان حصوں کواساتذہ پڑھانے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ اساتذہ ہوں یا کوچنگ سنٹرز اور ٹیوشن پڑھانے والے' سبھی کی سعی ہوتی ہے کہ طالب علم کو ذہانت و قابلیت سکھانے کی بجائے امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے اس کا مطالعہ وسیع کرنے کی بجائے اس کو ایسے سوالات زبانی یاد کرانے پر زور دیا جاتا ہے جس کے بل بوتے پر وہ بورڈ کے امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرسکے۔ اس طرح کے طلبہ جب کسی ٹیسٹ اور انٹرویو میں بیٹھتے ہیں تو ان کو اپنے حاصل کردہ نمبروں کو حقیقی ثابت کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے اور جانچنے والوں کی نظر میں ان کا مشکوک ہونا ان کے لئے ناکامی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے جس سے ان میں عدم اعتماد اور مایوسی پیدا ہوتی ہے ان کے برعکس جو طالب علم مطالعہ اور رٹہ لگانے کی بجائے سمجھ کر سیکھتے ہیں ان کو اعتماد کے ساتھ اپنی قابلیت کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔ بہر حال اس سے قطع نظر انٹری ٹیسٹ میں ٹاپ پوزیشن کے حامل طالب علموں کے نمبر اچھے نہ آنا خود متعلقہ بورڈوں میں مارکنگ سسٹم اور ممتحنین کی جانچ پڑتال میں خامیوں سمیت بعض دیگر معاملات بارے سوالات اٹھانے کا باعث امر ہے۔ امتحانی نظام کا مشکوک ہو جانا ایسے طالب علموں کے لئے خاص طور پر حوصلہ شکن معاملہ ہے جو اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ہی آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ماہرین تعلیم اور بورڈز کے منتظمین و ممتحنین کو اس صورتحال پر ایک مرتبہ پھر غور و خوض کرکے ایسا نظام رائج کرنے کو یقینی بنانا چاہئے کہ بورڈز سے سند کے حصول کے بعد طالب علم کسی بھی پلیٹ فارم پر اپنے آپ کو اس حاصل شدہ سند کے مطابق اہل ثابت کرسکے اور یہ عمل اس قدر با اعتماد ہو کہ انٹری ٹیسٹ کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔

متعلقہ خبریں