تبدیلی کا راستہ پارلیمان کے اندر سے

تبدیلی کا راستہ پارلیمان کے اندر سے

فقیر راحموں کہتے ہیں میاں نواز شریف کے پاس موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لئے تین آپشن ہیں۔ اولاً یہ کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہو کر غسل طہارت لیں اور نئے پاکستان کے لئے جدوجہد کریں۔ ثانیاً پیپلز پارٹی میں شامل ہوں اور نا اہل ہو جائیں۔ ثالثاً یہ کہ ماضی کی طرح ضامن لائیں اور پتلی گلی سے نکل لیں۔ جان ہے تو جہان ہے۔ پہلے بھی تو لوگ معافی نامہ اور معاہدہ جلا وطنی بھول ہی گئے تھے اب کون یاد رکھے گا۔ لگتا نہیں کہ میاں صاحب ان تینوں میں سے کوئی ایک آپشن اپنانا پسند کریں گے۔ ان کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ اتنا وقت مل جائے کہ وہ اپنی صاحبزادی مریم صفدر کو سیاسی وارث کے طور پر پارٹی کی ملکیت باضابطہ طور پر سونپ سکیں۔ سیاسی جماعتوں میں حق ملکیت کااحساس دو چند ہے۔ بہت ساری خرابیوں کے باوجود پیپلز پارٹی کی یہ خوبی بہر طور ہے کہ اس نے دو بار اپنے کارکنوں کو وزیر اعظم بنوایا ایک کو صدر مملکت بھی۔ سندھ کی سیاست میں اسے جب بھی اقتدار ملا وزارت اعلیٰ اپنے کارکن کو ہی سونپی۔ ماضی میں ایک بار ممتاز بھٹو فیض یاب ہوئے مگر ان کے بوئے ہوئے نفرتوں کے بیج پیپلز پارٹی آج بھی سندھ میں چن رہی ہے۔ خیر اس ذکر کو ایک طرف رکھئے۔ فی الوقت جو صورتحال ہے اس میں نون لیگ کے لئے بہر طور مشکلات ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نون لیگ کے لئے مشکلات اور گمبھیر مسائل پیدا کرنے میں وہ رجیم پیش پیش ہے جو کبھی پرویز مشرف اور ق لیگ کی وفادار تھی۔ 2008ء میں نون لیگ کی کشتی میں سوار ہوئی۔ ادھر خود جناب نواز شریف ہر وقت یہ دریافت کرتے ہیں کہ انہیں بتایا جائے کہ ان پر الزامات کیا ہیں۔ لا علمی ہے یا سادگی یا پھر ان کے خیال میں لوگ کچھ نہیں جانتے؟ سوال مشکل نہیں ہے مگر جواب تو تب سمجھ میں آئے گا جب وہ سمجھنا چاہیں گے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں دائیں بازو کی شناخت رکھنے والے بہت سارے اہل علم و قلم اور کچھ لبرل حضرات جمہوریت بچائو ترلہ پروگرام شروع کئے ہوئے ہیں۔ موجودہ طبقاتی نظام میں جس سے عام شہری کی زندگی اجیرن ہے اسے جمہوریت سمجھ کر زہر کیسے پھانک لیا جائے۔ اس بارے بہتر تو انجمن محبان جمہوریت کے پر جوش محافظین ہی بتا سکتے ہیں۔

میاں صاحب کو البتہ سمجھنا ہوگا کہ کاروباری سیاست کاری اور جمہور دوستی کی سیاست میں بہت فرق ہے۔ نون لیگ بنیادی طور پر رجعت پسند دائیں بازو کی پارٹی ہے۔ لاکھ کوشش کی جائے اس کا ترقی پسند روشن خیال چہرہ بنتا ہی نہیں۔ 2013ء کے انتخابی عمل میں اسٹیبلشمنٹ اور طالبانی قوتیں پوری استقامت کے ساتھ اس کے ساتھ کھڑی تھیں۔ پچھلے دور حکومت میں جو پیپلز پارٹی کا دور تھا میثاق جمہوریت کے باوجود نون لیگ کا رویہ عجیب تھا۔ مثلاً میثاق جمہوریت میں طے تھا کہ دونوں جماعتیں پی سی او ججز کا راستہ قانونی طریقے سے روکیں گی۔ مگر جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ پی سی او جج افتخار چودھری کو آزاد عدلیہ کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا انہوں نے سموسوں کی قیمت اور ٹریفک جام کے معاملات تک پر سوموٹو ایکشن لیا۔ بسا اوقات تو ایسے لگتا تھا کہ پیپلز پارٹی والے پاکستان کے شہری ہی نہیں کسی اور سیارے سے آئے اور اقتدار پر قابض ہوگئے۔ افتخار چودھری اس کے سامنے چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ اسی دور میں وفاقی کابینہ کے بعض ارکان مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے ہی ساتھی وزراء کے خلاف درخواستیں لے کر سپریم کورٹ میں چلے گئے۔ ان درخواستوں کی بنیاد پر افتخار چودھری نے جو تماشے لگائے وہ غالباً خدمت جمہوریت کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس لئے بعض دوستوں کا یہ موقف درست نہیں کہ نواز شریف کی فکری مخالفت یا اس خاندان کے اثاثوں اور دوسرے معاملات پر تنقید کرنے والے تاریخ کے مجرم ٹھہریں گے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کیا کسی الزام کی تحقیقات غلط ہے۔ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ ان کے خاندان کی دولت مندی اور غیر ملکی اثاثوں پر اٹھتے سوالات محض الزام تراشی ہیں تو انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ حیرانی تب ہوتی ہے کہ جب ایک طرف ان کی جماعت سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے اعلان پر مٹھائیاں تقسیم کرتی ہے اور پھر جب جے آئی ٹی تحقیقات کو آگے بڑھا رہی تھی تو مٹھائیاں بانٹنے والے اس پر چڑھ دوڑے ۔ خود وزیر اعظم اور ان کے چند ساتھی سازشوں کی ہا ہا کاری کے پردے میں دھمکیاں دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعتاً کوئی سازش ہوئی ہے تو وزیر اعظم اس سازش کے کرداروں کے چہروں سے پردہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ 2013ء کے انتخابی عمل سے قبل ان کے اور اصل مالکان کے درمیان جو معاملات طے پائے تھے نواز شریف کی حکومت اس پر پورا نہیں اتری۔ کم سے کم وقت میں پچھلا نقصان پورا کرنے کے جنون نے مسائل پیداکئے اداروں کے درمیان بد اعتمادی کی خلیج بہت گہری ہے اس جھگڑے کو ایک طرف رکھ کر صرف اس ایک سوال پر غور کرلیجئے کہ پچھلے چار برسوں کے دوران بلوچستان اور سندھ میں قوم پرستوں کے ساتھ جو کچھ ہوا یا مختلف مذہبی گروہوں کے ساتھ ن لیگ حکومت نے کب اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں پوری کیں۔ مجھے حیرانی ان پشتون قوم پرستوں پر ہوتی ہے جو صبح شام پنجاب کو ہر مسئلہ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کوستے رہتے ہیں مگر جیسے ہی پنجاب سے تعلق رکھنے والے نواز شریف کامعاملہ آئے تو یہ وسطی پنجاب کے پنجابیوں سے بھی زیادہ پر جوش انداز میں نواز شریف حکومت کے دفاع میں جت جاتے ہیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ احتساب ہونا چاہئے اور سب کا مگر کہیں سے شروعات تو ہو البتہ تبدیلی اگر بہر طور لازم ہو بھی تو پارلیمان کے اندر سے تبدیلی آنی چاہئے کسی نئے تجربے یا پرانے ماڈل کو پھر سے اپنانے کا نتیجہ بہت سارے مسائل پیدا کرے گا یہ بات سب کو سمجھنا ہوگی۔

متعلقہ خبریں