پاکستان کو سبق سکھانے کا امریکی منصوبہ

پاکستان کو سبق سکھانے کا امریکی منصوبہ

ٹرمپ انتظامیہ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے حوالے سے امریکی پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لے رہی ہے جو کہ اس وقت تکمیل کے مراحل میں ہے اور امید کی جارہی ہے کہ بہت جلد اس پالیسی کا اعلان ہو جائے گا۔ بہت سے ماہرین کے مطابق نئی پالیسی افغانستان میں ملٹری آپریشن میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ امریکی رویے میں سختی اور امریکہ کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری کاباعث بنے گی۔ لیکن یہاں پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں کون سے اہداف کا حصول چاہتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی حلقے میںشامل جرنیلوں کے مطابق نئی انتظامیہ کا مقصد افغانستان سے دہشت گردی اور شدت پسندی کا مکمل طور پر خاتمہ کرنا ہے لیکن قرائن سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان جرنیلوں کے مقاصد صرف افغانستان میں قیامِ امن تک محدود نہیں ہیں۔ افغانستان میں حالیہ امریکی اقدامات سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ امریکی انتظامیہ افغانستان میں اپنی کٹھ پتلی حکومت بنانا چاہتی ہے جس کے ذریعے افغانستان کے ساتھ ساتھ پورے خطے سے چین، روس، ایران اور پاکستان کے اثرورسوخ کو کم کیا جاسکے۔ پورے خطے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے لئے امریکہ افغانستان کو اپنے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے جس کا عندیہ افغانستان کے امریکی کمانڈنگ جنرل اپنے بیان میں دے چکے ہیں۔ مذکورہ بیان میں ان کا کہنا تھا 'ہم افغانستان میں موجود رہیں گے (غیر معینہ مدت تک )' ایک طرف تو افغان حکومت اور امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات پر متفق نظر آتے ہیں لیکن دوسری جانب ایسے مطالبات سامنے رکھے جاتے ہیں جو کہ کسی بھی صورت میں طالبان کے لئے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں صورتحال بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہو رہی ہے۔ افغانستان میں حالات کی خرابی کی صورت میں امریکہ کو ملک میں رہنے کا مزید موقع مل جائے گا جس سے وہ بھارت کے ساتھ مل کرچائنا پاک اکنامک کاریڈور (سی پیک ) کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ چین کی بحیرہ عرب اور بحرِ ہند تک براہِ راست رسائی میں رکاوٹ پیدا کی جاسکے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو کوئٹہ میں افغان طالبان قیادت کی موجودگی یا فاٹا میں طالبان کے محفوظ ٹھکانوں کی زیادہ اہمیت نہیں رہتی کیونکہ اس وقت افغانستان میں حالات کی خرابی کے ذمہ دار وہ افغان طالبان اور داعش کے جنگجوہیں جو کہ افغانستان کے دور دراز علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ لیکن واشنگٹن آج بھی پاکستا ن کو افغانستان میں بدامنی کاذمہ دار ٹھہراتا ہے جس کی وجوہات میں سے پہلی وجہ امریکی فوج کی ناکامی کی وضاحت، دوسری وجہ امریکی فوج کی جانب سے زمینی اور فضائی کاروائیوں میں اضافے کی وضاحت اور تیسری وجہ پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے دبائو ڈالنا ہے ۔ اس کے علاوہ ان بیانات کا مقصد افغان سرزمین سے پاکستانی علاقے میںتخریب کاری کی کاروائیوں کا جواز پیدا کرنا ہے تاکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ سی پیک منصوبے کو بھی عدم استحکام سے دوچار کیا جاسکے۔امریکہ اس وقت پاکستان سے صرف افغان طالبان یا حقانی نیٹ ورک کی حوالگی کا مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ اس وقت پاکستان سے کشمیری علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جارہاہے جس کا مقصد بھارت کو خوش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ایک طرف تو بھارت کشمیر میں ظلم وستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ کے ذریعے پاکستان پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ کشمیری حریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے ۔ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جو پاکستان کے لئے ماننا ناممکن ہے جس کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کے امکانات بھی بہت کم ہیں۔ امریکہ کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کی وجہ سے پاکستان کے لئے افغانستان میں امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔امریکی میڈیا ، تھنک ٹینکس اور کانگریس میں پاکستان کے خلاف تجویز کئے جانے والے اقدامات میں کولیشن سپورٹ فنڈ کا خاتمہ شامل ہے۔ اس حوالے سے امریکی ڈیفنس سیکرٹری نے 2016ء میں آنے والے اخراجات کی ادائیگی کے لئے دی جانے والے 50 ملین ڈالر کی قسط روک دی ہے جسے افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک اور کشمیری گروپس کے خلاف کارروائی کرنے سے مشروط کردیا گیا ہے۔ یہ وہ شرائط ہیں جو کہ پاکستان کے لئے ماننا تقریباً ناممکن ہے ۔ اس کے علاوہ پاکستان کا 'نان نیٹو اتحادی' کا درجہ ختم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے جس پر عمل درآمد کی صورت میں پاکستان پر زیادہ بُرے اثرات مرتب نہیں ہوں گے کیونکہ پاکستان مستقبل میں امریکہ سے اسلحہ خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملوں میں اضافے کی تجویز بھی ان سفارشات میں شامل ہے جو کہ پاکستانی خود مختاری کی بدترین خلاف ورزی ہوگی۔ امریکی اور افغان سیکورٹی فورسز کی جانب سے پاکستانی علاقوں میںکارروائی بھی ان تجاویز کاحصہ ہے جس سے نہ صرف مغربی سرحد پر جنگ کا خطرہ بڑھے گا بلکہ مشرقی سرحد بھی محفوظ نہیں رہے گی کیونکہ ایسی کارروائیوں سے بھارت کا حوصلہ بھی بڑھے گا ۔ پاکستانیوں اور خاص طور پر سرکاری اہلکاروں پر ویزہ کی پابندیاں بھی ان سفارشات میں شامل ہیں ۔

متعلقہ خبریں