کالج ایڈمشن

کالج ایڈمشن

آج کل کالج میں داخلوں کا موسم عروج پر ہے جو بچے میٹرک کا امتحان پاس کرچکے ہیںاب وہ ہاتھوں میں فائلیں اٹھائے مختلف کالجوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ کالجوں میں میرٹ لسٹیں لگنے والی ہیں جن طلبہ کے نام میرٹ لسٹ میں آجاتے ہیں ان کی ساری پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں انہیں یہ اطمینان ہوتا ہے کہ چلو ایک مرحلہ شوق تو طے ہوایہ بچے قطار اندر قطار داخلے کے لیے اپنی باری کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیںشدید گرمی کے اس موسم میں یہ طلبہ اپنی آنکھوں میںخواب سجائے بے چینی سے پہلو بدلتے رہتے ہیںان کے سامنے ان کے خوابوں کی دنیا ہے زندگی انہیں حسین خواب دکھارہی ہے کالج کی زندگی کے بارے میں ویسے بھی کہتے ہیں کہ یہ بے فکری کا موسم ہوتا ہے اور پھر فرسٹ ائیر کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ first year is the rest yearلیکن آج کے اس ہنگامہ خیز دور میں آرام کہاں ! اب تو مقابلے کا زمانہ ہے جس نے زرا سی سستی کا مظاہرہ کیا بیچارہ پیچھے رہ گیا اب اس قسم کے جملے غلط ثابت ہوچکے ہیں اب تو بس کام کرنے سے ہی کام چلتا ہے اب اچھے طالب علم پہلے دن سے ہی محنت شروع کردیتے ہیں شروع ہی سے ٹیوشن سنٹرز آباد ہوجاتے ہیں سمجھدار طلبہ کی یہ پوری کوشش ہوتی ہے کہ وقت پر کورس ختم ہو اس کے لیے وہ خوب محنت کرتے ہیں ان کی منزل پروفیشنل کالج ہوتے ہیں ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ پروفیشنل کالجوں کے لیے مطلوبہ نمبر انہیں حاصل ہوجائیں کیونکہ اسی میں ان کے مستقبل کی کامیابیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ جب نوجوان بے روزگاری اقربا پروری سفارش جیسے مسائل کی وجہ سے پریشان ہوں اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہوں تو ایسے حالات میں انہیں زندگی کے اتار چڑھائو بتانا بہت ضروری ہوجاتا ہے انہیں یقین دلانا ہوتا ہے کہ تم کار گہہ حیات میں زندگی کی گاڑی کو کھینچ سکتے ہو آج کے نوجوانوں کی باتیں سن کر حیرانی ہوتی ہے وہ زندگی کے سلگتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کسی اچھے دانش ور کی طرح کرتے ہیں ہماری نئی نسل کتنی ذہین ہے وہ زمینی حقائق کا کتنا گہر ا شعور رکھتی ہے ہمارے طلبہ کو صرف رہنمائی کی ضرورت ہے اچھی اور معیاری درسگاہوں کی ضرورت ہے انہیں بے لوث اساتذہ کی ضرورت ہے بعض طلبہ اپنے مستقبل سے مایوس نظر آتے ہیں وہ باہر جانے کی باتیں کرتے ہیں لیکن انہیں یہ بتانا ہے کہ اس طرح تو مسائل حل نہیں ہوتے سب لوگ اگر باہر چلے جائیں تو اس ملک کے بگڑے ہوئے حالات کون سنبھالے گا ؟ ہم نے نوجوانوں سے کہنا ہے کہ تم پاکستان کے بیٹے ہوتم نے ہی اس مملکت خداداد کی حفاظت کرنی ہے اور پھر مایوسی تو کفر ہے آپ لوگوں نے ہی وطن عزیز کے بگڑے ہوئے حالات کو سنوارنا ہے ۔انسانی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کردار کی ہے چھوٹے چھوٹے کرتب دکھا کرکسی کو وقتی طور پر بے وقوف بنا کر آپ وقتی کامیابی تو حاصل کرسکتے ہیں لیکن سچی کامیابی آپ کو بڑے کردار سے ہی حاصل ہوتی ہے اگر آپ ایک شاندار شخصیت کے مالک ہیں پر اثر اور متاثر کن گفتگوکرسکتے ہیں لیکن آپ کے کردار میں بنیادی خوبیاں مفقود ہیں جیسے دیانتداری، سچائی اور محنت وغیرہ تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ اپنا اثر کھونا شروع کردیں گے آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ کامیاب لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں یہ دیکھیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کیسے گزاری تھی آپ ان کے نقش قدم پر چل کر وہی نتائج پیدا کرسکتے ہیں جو انہوں نے حاصل کیے جب دوسرے لوگ عملی قدم اٹھا کر اپنا مقصد حیات پاسکتے ہیں تو کیا آپ کسی سے کم ہیں؟ آپ بھی زندگی میں کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں بس آپ کو زندگی کے مسائل اور ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگازندگی میں کامیابی کے لیے سب سے بڑی بات عمل اور صرف عمل ہے زبانی دعوے کوئی حیثیت نہیں رکھتے عمل اس وقت کارآمد نتائج پیدا کرتا ہے جب آپ کو اپنی ذات پر پورا پورا اعتماد ہو آپ زندگی سے محبت کرتے ہوں تو پھر سچی کامیابی حاصل کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے اور یہ سب کچھ صرف اسی صورت میںممکن ہے جب آپ کے سامنے زندگی کا ایک واضح مقصد موجود ہو آپ ایک واضح نصب العین رکھتے ہوںہمارے طلبہ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اصلی اور سچی کامیابی صرف کردار اور محنت سے حاصل ہوتی ہے جو طلبہ کامیابی کے لیے شارٹ کٹ راستوں کا انتخاب کرتے ہیں وہ کبھی بھی حقیقی کامیابی حاصل نہیں کرسکتے سچی کامیابی کا تعلق کسی اچھے کالج میں داخلہ مل جانے سے نہیں ہوتاسچ مچ کی کامیابی کا تعلق آپ کے کردار آپ کے اخلاق آپ کی محنت و مشقت سے ہے جب یہ اوصاف کسی طالب علم میں پیدا ہوجاتے ہیں تو زندگی کا سفر اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے کامیابی خود اس کے دروازے پر دستک دیتی ہے آج ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے یہ سب ہمارے اپنے اعمال کا شاخسانہ ہے کہتے ہیں جب اللہ پاک کسی قوم سے ناراض ہوتا ہے تو اسے اچھے حکمران عطا نہیں کرتابارشیں وقت پر نہیں برستیں اسی طرح ان میں دوسری برائیاں بھی عام ہوجاتی ہیں آج آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو اسی قسم کے حالات نظر آئیں گے جسے دیکھیے پریشانی کی چادر اوڑھے زندگی کے دن کاٹ رہا ہے لیکن ہم نے ان حالات سے مایوس نہیں ہونا اگر ہم ہتھیار ڈال دیں تو پھر ہماری داستان ختم ہو جائے گی ہم نے ان حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرنی ہے دوسروں کے لیے آسانیاں ڈھونڈنی ہیں اور اللہ کی طرف سے مدد بھی اسی وقت آتی ہے جب کوئی قوم کمر ہمت باندھ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں