سیاست میں نفرت کا ابھرتا ہوا کلچر

سیاست میں نفرت کا ابھرتا ہوا کلچر

ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک سپریم کورٹ پانامہ پر اپنا فیصلہ صادر کر چکی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اقامہ معاملے میں نواز شریف کے اس اعتراف کے بعد کہ انہوں نے ملازمت کی،سپریم کورٹ فیصلے کے لئے مزید کچھ وقت لے لے ۔

فیصلہ جو بھی ہو لیکن پانامہ کے اس سارے ہنگامے میں ہم نے ستر سال کی بعض ایسی روایات کا جنازہ نکلتے دیکھا ہے جوہماری اقدار کی محافظ اور ہماری معاشرت کی پہچان تھیں۔ کپتان نے غیر شائستہ زبان کے استعمال میں جو '' فراخ دلی'' دکھائی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب ان کا مخالف کیمپ بھی آپ سے ''تم'' پر چلا گیا ہے اور یوں لگتا ہے کہ جیسے تم سے'' تُو'' کی طرف معاملہ جا رہا ہے۔''دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی'' کے مصداق نون اور جنون بدتمیزی کی انتہائوں کو چھو رہا ہے۔ ماں بہن کی گالی چھوڑ کر ایسی گندی زبان استعمال کی جا رہی ہے کہ خدا کی پناہ۔لیکن مورخ جب اس نفرت کے بارے میں لکھے گا تو یہ ضرور لکھے گا کہ اس کلچر کو رواج عمران خان نے دیا اور مسلم لیگیوں نے اسے فالو کیا۔
سوشل میڈیا دونوں طرف کے لوگوں کی جو افسوس ناک داستان بیان کر رہا ہے اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا۔تحریک انصاف سے وابستہ لوگ نون لیگیوں کو اور نون والے تحریکیوں کو ایسی ایسی گالیاں دے رہے ہیں اور ایسے ایسے القابات سے نواز رہے ہیں کہ پڑھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ دونوں گروپوں میں جنم جنم کی دشمنی ہے۔ بخدا پاکستانی قوم میں جو باہمی نفرت ستر سالوں میں پروان نہ چڑھ سکی،جس دشمنی کو فرقہ واریت کا جن بھی انتہا کو نہ پہنچا سکا اس کی داغ بیل پڑ چکی ہے اور شائستگی، رواداری کی روایت دم توڑ چکی ہے۔
ہمیں خوب یاد ہے کہ ایک زمانے میں جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان شدید مخاصمت تھی اور پیپلز پارٹی کے کارکن مسلم لیگیوں کو اس بنیاد پر رد کرتے تھے کہ وہ اس ضیاء الحق کے حاشیہ نشین ہیں جس نے بھٹو کو پھانسی دلوائی،تب بھی سیاسی دشمنی اس د رجے پر نہیں پہنچی تھی جہاں آج ہے۔
اس مخاصمت اور نفرت کے ساتھ جب دونوں جماعتیں اگلے الیکشن کے لئے میدان میں اتریںگی تو لڑائی جھگڑوںکا کیا عالم ہوگا یہ سوچ کر ہی دل لرز جاتا ہے۔نفرت کے ساتھ سیاست ایک ایسا المیہ ہے جو بدقسمتی سے پاکستان میں رونما ہو چکا ہے اور اگر الیکشن سے پہلے کسی انٹرنیشنل سروے گروپ نے اس حوالے سے سروے کر لیا تو شاید یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہو جائے کہ ایسی صورت حال میں الیکشن کا انعقاد کرانا ہی حماقت ہوگی۔
کل مجھے ایک جاننے والا کہہ رہا تھا کہ وہ فوری طور پر چینل بدل لیتا ہے جب عمران خان نمودار ہوں۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والا یہ شخص کہنے لگا خان کو دیکھتے ہی میرا دماغ گھوم جاتا ہے اور میں اسی لمحے کوئی اور چینل کی طرف شفٹ کر جاتا ہوں۔
پی ٹی آئی کے ایک دوست نے بتایا کہ وہ بھی نواز شریف کی شکل دیکھنا نہیں چاہتا۔جیسے ہی ان کا کوئی کلپ ٹی و ی پر چلتا ہے تومیرا یہ دوست مسلم لیگی جاننے والے کی طرح چینل ہی بدل ڈالتا ہے۔حالت یہ ہو چکی ہے کہ مسلم لیگی جیو دیکھتے ہیں اور تحریکی اے آر وائی کیونکہ ایک چینل واضح طور پر نواز شریف کی حمایت کر رہا ہے اور دوسرا عمران خان کی پشت پر کھڑا ہے۔ ہر سطح پر سوچ اور عمل کی تقسیم نظر آ رہی ہے۔صحافیوں میں بھی دو واضح گروپ بن چکے ہیں ۔ایک گروپ نواز شریف کی حمایت کر رہا ہے اور دوسرا گروپ عمران خان کی۔حد تو یہ کہ بات توتکار کی حدوں کو چھونے لگی ہے۔
سیاست کے معنیٰ ہی بدل گئے ہیں۔سیاست میں تہذیب و شائستگی کی جو روایت بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان نے شروع کی تھی،جو انداز معراج خالد جیسے سیاستدان کے تھے،جس روایت کو رضا ربانی جیسے سیاستدان پروان چڑھا رہے تھے وہ بد زبانی کی نذر ہو کر اپنے زخم سہلا رہی ہے۔اس منظر نامے میں اگر نواز شریف کو گرانے کا ہدف حاصل کر بھی لیا گیا،پی ٹی آئی اگلا الیکشن جیت کر اقتدار میں بھی آگئی تو سیاسی نفرت کی یہ روایت اس کے ساتھ ساتھ چلے گی کیونکہ مسلم لیگ ن کا ووٹر اور سپورٹر تو اپنی جگہ موجود رہے گا۔یاد رہے کہ چوٹی کے سیاستدان حالیہ دنوں میں تکرار کے ساتھ یہ بات کر چکے ہیں کہ سیاسی راہنما اپنی وفاداریاں بدلتے ہیں کارکن نہیں۔
اس کلچر کے ہوتے ہوئے اگر پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ وہ سکون اور اطمینان سے حکومت کر لے گی تو یاد رکھئے ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔جو کانٹے آج نواز شریف کے راستے میں نظر آتے ہیں اس سے دگنے کانٹے عمران خان کے راستے میں ہوں گے بشرطیکہ ''شاطروں '' کے ٹولے نے انہیں وزیراعظم ہائوس میں گھسنے کے قابل چھوڑا تو۔
میں داد دیتا ہوں شاہ محمود قریشی کو جو غصے کے عالم میں بھی شائستگی اور اعتدال کا دامن تھامے رکھتے ہیں ۔سخت سے سخت بات کو بھی اتنی نرمی اور سلیقے سے کرتے ہیں کہ مخالف کو بھی ان کی بات بری نہیں لگتی۔اسی طرح خورشید شاہ بھی دھیمے لہجے کے بردبار آدمی ہیں جو وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کریں تو نون لیگی ان کی بات کا برا نہیں مناتے لیکن عمران خان نے مخالفین کے لئے گفتگو کے جو معیار سیٹ کر دئیے ہیں ان کا نتیجہ بہت برا نکلے گا۔

متعلقہ خبریں