مشرقیات

مشرقیات

ہارون رشید حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آئے تو قاضی القضاة امام ابو یوسف کو حکم دیا کہ وہ شہر کے مشہور محدثین کو ملاقات کے لئے اس کے پاس لے کر آئیں۔ امام ابو یوسف نے تمام محدثین کے پاس پیغام بھیجا تو مکہ مکرمہ کے تمام محدثین جمع ہوگئے۔ مگر حضرت عبداللہ بن ادریس اور حضرت عیسیٰ بن یونس تشریف نہ لائے۔ ہارون رشید کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے اپنے دونوں صاحب زادوں امین اور مامون کو حضرت عیسیٰ بن یونس کے پاس بھیجا کہ ان سے احادیث پڑھ کر آئیں۔ جب یہ دونوں ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے خوشی سے حدیث پڑھا کر انہیں واپس بھیج دیا۔ ہارون رشید نے اس کے صلے میں عیسیٰ بن یونس کے پاس دس ہزار درہم روانہ کئے مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ہارون رشید سمجھے کہ انہوں نے دس ہزار درہم کو کم سمجھ کر رد کیا ہے' اس لئے دوبارہ دوگنی رقم بھیج دی' جب یہ رقم حضرت عیسیٰ بن یونس کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا اگرکوئی مجھے حدیث کے معاوضے میں اس مسجد کو چھت تک سونے سے بھرکر پیش کرے۔ تب بھی میں اسے قبول نہ کروںگا''۔ چنانچہ ہارون رشید نے پھر رقم قبول کرنے پر اصرار نہ کیا۔انہی حضرت عیسیٰ بن یونس کی عادت تھی کہ وہ ایک سال حج کرتے تھے اور ایک سال جہاد' لہٰذا انہوں نے اپنی عمر میں 45 حج کئے اور 45 جہاد۔ (جمع الوسائل ص25,24)
حضرت جنید بغدادی اپنی زندگی کا ایک عجیب واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:''ایک دن میرا گزر کوفے کی طرف ہوا۔ وہاں میں نے ایک عالی شان مکان دیکھا جو کسی بڑے رئیس کی ملکیت معلوم ہوتا تھا۔ اس مکان کے کئی دروازے تھے اور ہر دروازے پر نوکروں اور غلاموں کا ہجوم نظر آرہا تھا۔ ابھی میںدل ہی دل میں ان لوگوں کی بدمستی اور بے خبری پر افسوس کر رہا تھا کہ اچانک ایک خوش گلو عورت کی آواز سنائی دی۔جب کوئی مہمان بے گھر ہو تو ایسے مہمان کے لئے تو کیسا اچھا گھر ہے''۔حضرت جنید بغدادی نے عورت کے اشعار سنے تو یہ کہتے ہوئے آگے تشریف لے گئے ''ان لوگوں کی حالت بہت نازک اور سنگین ہے۔ یہ دنیا اور اس کی رنگینیوں میں مکمل طور پر غرق ہوچکے ہیں''۔ پھر ایک مدت کے بعد اتفاق سے حضرت جنید بغدادی کا گزر اسی محل نما مکان کی طرف سے ہوا۔ آپ نے حیران ہو کر اس عشرت کدے پر نظر ڈالی۔ کوئی نوکر اور غلام وہاں موجود نہیں تھا۔ در و دیوار انتہائی خستہ ہوچکے تھے اور جگہ جگہ سے اینٹیں گر رہی تھیں۔ اس کی ساری خوبیاں جاتی رہیں اور رنج و الم نمایاں ہوگئے۔ زمانے کا یہی مزاج ہے کہ وہ ایسے کسی مکان کو صحیح و سالم نہیں چھوڑے گا''۔ ''لہٰذا اس مکان کے اندر جو انس (محبت) پایا جاتا تھا اسے وحشت میں بدل دیا گیا اور کیف و سرور کی جگہ شور ماتم برپا کردیاگیا''۔قانون قدرت ہے کہ دنیا کی کوئی شے باقی نہیں رہے گی سوائے ذات باری تعالیٰ کے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔

متعلقہ خبریں