کھلے ڈلے لوگ

کھلے ڈلے لوگ

ہمارا بھی یہی مزاج ہے۔ زندگی میں ہمیں کھلے ڈلے لوگ پسند ہوتے ہیں جو لگی لپٹی نہیں رکھتے' کتاب کے مانند ہوتے ہیں۔جہاں سے بھی ورق الٹ کر پڑھ لو۔ جب کوئی دیرینہ د وست سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے' مقطع چہرے کے ساتھ مصنوعی انداز میں گفتگو کرنے لگے تو اعصاب پر ایک بوجھ پڑنے لگتا ہے۔ ایسے میں ہم ان کا یا اپنا گریبان پھاڑنے پر سنجیدگی سے غور کرنے لگتے ہیں ۔ کچھ نہیں بن پاتا تو تصور ہی تصور میں تو ان کے سر پر دھول جما کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ جب آپ قہقہہ لگائیں اور مخاطب کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ پھیلتی نظر آئے جیسے موصوف آپ پر احسان فرما رہے ہیں آپ کی پر جوش گفتگو کے جواب میں وہ آپ سے اشاروں کی زبان بولنے لگیں تو ایک بار پھر ان کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ مارنے کو دل چاہتا ہے۔ دکھاوے کے تکلف کا اس سے بڑھ کرکیا جواب ہوسکتا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے

ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ
ہم کھلے ڈلے آدمی ہیں۔ چہرے پر چہرہ چڑھانے کا کام ہم سے نہیں ہوسکتا۔ ایک ہماری یہ عادت ہے کہ تعلق بنانے میں ہم پہل نہیں کرتے۔ کچھ ادھر کا بھی اشارہ پانے پر ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ دوستی کا ہاتھ ہم بڑے خلوص سے تھام لیتے ہیں۔ دو ایک سال پہلے کی بات ہے ایک نامی گرامی شخصیت سے برقی مراسلے کے ذریعے رابطہ قائم ہوا۔ پہلا مراسلہ ان کی جانب سے آیا تھا۔ ہم بھی بڑی بے تکلفی سے جواب دینے لگے۔ پھر انہوں نے فون کیا ہم بڑی بے تکلفی سے جواب دینے لگے۔ ان کی پہلی فرمائش قہقہہ سننے کی ہوتی۔ ہم جواب میں دو قہقہے پیش کردیتے۔ پھر اچانک تعلق میں گرہ پڑ گئی۔ ایک روز ملاقات میں انہوں نے حفظ ما تقدم کے طور پر ان سے کچھ زیادہ توقعات نہ رکھنے کی تنبیہہ کردی پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ وہ اپنی جگہ خوش ہیں اور ہم ان سے زیادہ خوش ہیں۔ ایک ذرا سی بات پر برسوں کے تو نہیں' دو ایک برسوں کے یارانے کا خاتمہ اسی کو کہتے ہیں۔ یہ ایک مصنوعی اور عارضی نوعیت کا تعلق ہوتا ہے جو ایک جذباتی فضا میں جنم لینے کے بعد اچاک ختم ہو جاتا ہے۔ ایک دوسرے بزرگ ہماری تحریروں کی وجہ سے قریب آئے۔ برقی مراسلہ بھیجا' ہم نے جواب دیا۔ ہم بھی ان کی علمیت سے ایک عرصے تک مستفید ہوتے رہے۔ دو ایک کالموں میں ان کا ذکر بھی کیا۔ ہمارے ایک کالم کا موضوع انہیں پسند نہ آیا۔ بے تکلف دوستوں سے کسی بھی موضوع پر کھلی ڈلی گفتگو مسائل کا حل ہوتا ہے۔ مگر وہ ہمارے جواب سے ایسے کبیدہ خاطر ہوئے کہ ''مرہ ورہ خواخے'' زود رنج ساس کی طرح بالکل لاتعلق ہوگئے۔ ہم کیاکرسکتے تھے ہم بھی کنارہ کش ہوگئے۔ افسوس اس بات پر ہوا بظاہر بڑے گور اندر سے کتنے چھوٹے ہوتے ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ ہمارے قہقہوں کی برداشت بہت کم لوگوں کو ہوتی ہے۔ چنانچہ ہمارے بے تکلف حلقہ احباب کا دائرہ محدود ہوتا جا رہا ہے۔ روشن ستاروں کی ایک جھرمٹ تھی جن کی روشنی آہستہ آہستہ ماند ہو رہی ہے۔ یہ وہ روشن دماغ لوگ تھے جن سے باتیں کرنے میں ایک سکون ملتا تھا۔ یہ ستارے ایک ایک کرکے غروب ہو رہے ہیں۔ کہنا پڑتا ہے
ہائے کیا لوگ میرے حلقہ احباب میں تھے
ان میں سے بیشتر لوگ گوشہ نشین ہوچکے ہیں ان کے رویوں میں وہ پہلی سی گرم جوشی نہیں رہی۔ ہمارے قہقہے کا جواب ان کی جانب سے قہقہے میں نہیں ملتا تو یوں لگتا ہے جیسے ہم زندگی کی کوئی قیمتی متاع کھو چکے ہوں۔وجہ پوچھنے پر ایک پھیکی مسکراہٹ اور منمناتے لہجے میں جواب ملتا ہے ' ستا د زڑہ زور زیات دے۔ بعض بے تکلف دوست جن کے دل کا زور ختم ہوچکاہے جب پشتو کے ایک ایسے محاورے میں جواب دیتے ہیں جس کا ہم بے ضرر مفہوم بھی بیان نہیں کرسکتے۔ تو ہمیں بے تحاشا خوشی ہوتی ہے ہماری بزرگی کی وجہ سے لوگوں کا ہمیں حضرت' حضور' جی' جناب کے پر تکلف رسمی قسم کے القاب سے مخاطب کرنا ان کی مجبوری ہوتی ہے۔ لیکن یقین جانئے ہم اپنے چھوٹوں سے بھی مہذب مگر منافقت سے پاک روئیے کی توقع رکھتے ہیں۔ ہماری اب بھی خواہش ہوتی ہے کہ ہم تھری پیس سوٹ پہنے کالج سے واپسی پر بازار میں کوئی چیز خریدنے کسی دکان پر کھڑے ہوں اور ہماری گردن پر ایک بے تکلف قسم کی چیست پڑے۔ مڑ کر دیکھیں تو طورخان کنڈکٹر ہمیں کہے۔
لاڑے ھلکہ پیرنگے شوے۔ طورے پرائمری سکول میں ہمارے ساتھ پڑھتا تھا۔ وہ پمرائمری سے نکلا تو محنت مزدوری کرنے لگا اور ہم یونیورسٹی سے ہوتے ہوئے کالج میں استاد بن گئے۔ ہم اب بھی چاہتے ہیں کہ گائوں میں میر حسن کی سائیکلوں کی مرمت کی دکان کے تھڑے پر بیٹھ کر اس سے کہیں یار تم ہماری شادی پر نہیں آئے تھے۔ اور تم جو نہیں آئے تھے ہمارا ان سے یہ گلہ ان کی موت تک جاری رہا۔ اتفاق سے ہم دونوں کی شادی کا دن ایک تھا۔ سو باتوں کی ایک بات ہمیں سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے ہوئے پر تکلف لوگوں میں بیٹھنے سے بڑی کوفت ہوتی ہے کھلے ڈلے مزاج کی وجہ سے قہقہے کا جواب قہقہے میں نہ ملے تو ایسے لوگوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ اگر سنجیدگی ان کی مجبوری ہے تو بے تکلفی ہمارا مزاج ہے۔

متعلقہ خبریں