پھر دو عیدیں

پھر دو عیدیں


بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ حکومت کی تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود پشاور میں مسجد قاسم علی خان کی رویت ہلال کمیٹی نے شرعی شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد عید کا چاند نظر آنے کا اعلان کرتے ہوئے اتوار 25جون کو عید منانے کا اعلان کردیا جبکہ اس کے برعکس مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 25 جون ہی کو پشاور میں منعقد کرانے کا فیصلہ چند روز پہلے ہی کیا جا چکا تھالیکن اتوار کے روز سیکورٹی خدشات کاکہہ کر اسے اسلام آباد منتقل کرانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اور چونکہ رمضان کی ابتداء میں دونوں رویت ہلال کمیٹیوں کے مابین ایک دن کا فرق تھا اس لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہفتہ 24جون کو ہلال عید دیکھنے کے لئے کسی بھی صورت اجلاس کے انعقاد پر تیار نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ اس کی جانب سے رمضان کے اعلان میں ایک روز تاخیر کی وجہ سے ہفتہ 24جون کو 28روزے ہی ہوئے تھے۔افسوس کا مقام تو یہ بھی ہے کہ جس طرح گزشتہ برس ایک ہی دن عید منانے کا اہتمام کرنے کے لئے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو رضمان کے آخری عشرے میں عمرے کے لئے سعودی عرب بھیج دیا گیا تھا اب کی بار بھی ایسا ہی کیا گیا اور ہفتہ کے روز صبح ہی سے یہ افواہیں گردش کرنے لگی تھیں کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور ان کے ایک ساتھی کو حراست میں لے لیا گیا ہے تاکہ وہ مسجد قاسم علی خان میں حسب روایت ہلال عید کی شہادتیں جمع کرکے عید کا اعلان نہ کرسکیں۔ ان افواہوں کو تقویت ایک اور جید عالم دین کی فیس بک پر مسلسل سامنے آنے والی پوسٹوں سے ملتی رہیں جن میں مسجد قاسم علی خان کی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی راہ میں روڑے اٹکانے کی صورت میں عوام سے مسلسل اپیل کی جا رہی تھی کہ وہ سوشل میڈیا پر رابطے میں رہیں۔ ساتھ ہی مبینہ حکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد اور حق کی گواہی دینے کے حوالے سے عزم کا اظہار کیا جاتا رہا۔ دوسرے لوگ بھی مولانا شہاب الدین پوپلزئی کی مبینہ گرفتاری کے حوالے سے ایک دوسرے سے سوالات پوچھتے رہے مگر کہیں سے بھی تصدیق نہیں ہوتی رہی کہ اس دوران میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے 22 جون کو دوبئی جانے کے حوالے سے ان کے ہوائی جہاز کے ٹکٹ کو فیس بک پر پوسٹ کیا گیا۔ جس کے بعد جتنے منہ اتنی باتیں اس صورتحال پر عوام دل کا غبار ہلکا کرنے لگے اور حکومت کی اس حکمت عملی پر تنقید ہونا شروع ہوئی۔ ہم سمجھتے ہیں یہ کوئی معقول رویہ نہیں ہے اس اہم مسئلے سے نمٹنے کا۔ اور حکومت کتنے لوگوں کا منہ بند رکھنے میں کامیاب ہو سکتی ہے صرف اور صرف ایک شخص کو خوش کرنے اور اس کی جھوٹی انا کی تسکین کے لئے۔ اس حوالے سے دنیا بھر سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق عرب دنیا اور دیگر کئی ملکوں میں جن میں سب سے پہلی خبر جاپان سے موصول ہوئی کہ وہاں عید کا چاند نظر آگیا ہے صرف عمان میں چاند نظر نہیں آیا جبکہ خیبر پختونخوا میں صرف پشاور ہی نہیں مردان' چارسدہ اور دیگر علاقوں سے بھی چاند کی رویت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اسکے بعد اگر اتوار کے روز مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کا اہتمام اگر کیا بھی جا رہا تھا تو اس کا فائدہ کیا ہوا۔ اس لئے اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے مناسب اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سینٹ کی کمیٹی کی ہدایات کے باوجود کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کرکے اس کی سربراہی روٹیشن سے چاروں صوبوں کو تفویض کی جائے اور کمیٹی کے لئے مدت کا تقرر کیا جائے۔ مگر وفاقی وزیر مذہبی امور وعدے کے مطابق کمیٹی کی تشکیل نو کو التواء میں ڈالنے کی پالیسی پر کار بند نظر آتے ہیں اور صرف ایک شخص کو مسلسل قوم پر مسلط رکھنے کی کوشش سے قوم کو اس اہم مذہبی فریضے کے حوالے سے تقسیم کرنے کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں محکمہ موسمیات کے کردار پر بھی سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے جس کے اعلانات کی وجہ سے قوم تقسیم ہو رہی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے گورنر خیبر پختونخوا کا مشورہ بھی بڑا صائب ہے جنہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رمضان اور عید سعودی عرب کے ساتھ نتھی کیا جائے۔ بہر حال اس پر فیصلہ تو جید علمائے کرام سے مشاورت کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے تاہم وفاقی وزیر مذہبی امور بھی سینٹ کمیٹی کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے فی الحال مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کے لئے فوری اقدامات کریںاور موجودہ کمیٹی کے ارکان پر آئندہ کم از کم پانچ سے سات سال تک دوبارہ کمیٹی میں شامل کئے جانے پر مکمل پابندی لگائیںکیونکہ جب تک موجودہ کمیٹی قائم ہے ملک میں رمضان اور عید کے ایک ہی روز انعقاد کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا اور اب تک اس کمیٹی کی وجہ سے جتنے شرعی روزے قضا ہوئے یا پھر عید کے دن روزے رکھوا کر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی نفی کی گئی اس کے گناہ ثواب کی ذمہ داری بھی اسی کمیٹی کے ارکان پر عائد ہوگی اور روز قیامت جو پرسش ہوگی اس میں عام لوگوں کا کتنا قصور ہوگا اس پر بھی جید علمائے کرام ہی بہتر طور پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ بہر حال ہماری دعا ہے کہ عام لوگوں کی لغزش کو اللہ رب العزت معاف فرمائے۔

متعلقہ خبریں