ریسٹ ہائوسز کی نیلامی

ریسٹ ہائوسز کی نیلامی

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے گلیات میں تمام سرکاری ریسٹ ہائوسز جی ڈی اے کے حوالے کرنے اور انہیں مناسب ریٹ پر عام سیاحوں کیلئے کھولنے کے بعد ان کی آمدن میں کئی گنا اضافہ کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم حکام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ دیگر شعبوںکے علاوہ ریسٹ ہائوسز کو کامیابی کے ساتھ چلانے کا بہترین طریقہ ان کی آئوٹ سورسنگ ہے۔ بہتر ہے کہ انہیں کمرشل بنیادوں پر نیلام کیا جائے تاکہ حکومتی آمدن میں اضافے کے علاوہ ریسٹ ہائوسز کے معیار اور خدمات میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ گلیات میں موجود سرکاری ریسٹ ہائوسزکا خود اہم عہدوں پر تعینات سرکاری حکام جس طرح غلط استعمال کرتے ہیں وہ اظہر من الشمس ہے۔ مختلف سرکاری محکموں کے نام پر انگریزوں کے دور سے قائم شدہ ان ریسٹ ہائوسز کو متعلقہ محکموں ہی کے افسران گرمی کے موسم میں اپنے خاندانوں' رشتہ داروں اور دوست احباب کے لئے پہلے سے بک کرکے مستقل اپنے تصرف میں رکھنے کے جس طرح عادی ہیں اس حوالے سے حقائق کو مشکل ہی سے جھٹلایا جاسکتا ہے۔ اس لئے پہلے تو عام سیاحوں کو ان ریسٹ ہائوسز کی بکنگ ملتی ہی نہیں تاہم اگر کسی کو خوش قسمتی سے ایسا موقع مہیا ہو بھی جائے توان کے ساتھ نیم جاہل ملازمین کا رویہ خاصا قابل اعتراض ہوتا ہے۔ اس لئے اصولی طور پر ان ریسٹ ہائوسز کو کمرشل بنیادوں پر چلانے کے لئے ان کی نیلامی کا فیصلہ یقینا خوش آئند ہے لیکن ایک تو اس بات کے خدشات موجود ہیں کہ نیلامی کے عمل میں ''سفارش'' کو شاید خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکے گا اور جس طرح صوبے کے دوسرے نفع بخش کاموں کے ٹھیکوں میں مخصوص لابی کو نوازنے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہیں ان ریسٹ ہائوسز کی کمرشل بنیادوں پر نیلامی پر بھی بعد میں اس قسم کے الزامات سامنے نہ آئیں جن کی وجہ سے حکومت کی بدنامی کا خدشہ ہے۔ دوسرے یہ کہ ریسٹ ہائوسز کو نیلام کرنے کی شرائط میں عام سیاحوں کے لئے یہاں ٹھہرنے کے کرائے مقرر کرتے ہوئے مناسب معاوضہ ضرور مقرر کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ جو لوگ ان کو ٹھیکے پر حاصل کریں وہ ان کے اتنے معاوضے وصول کریں یا پھر ہر سال ا ن میں اس قدر اضافہ کرتے جائیں کہ عام لوگوں کی دسترس سے ہی باہر چلے جائیں۔ اس لئے کہ کمرشل بنیادوں پر ان ریسٹ ہائوسز کو حاصل کرنے والوں کو اپنے من مانے کرائے وصول کرنے سے بعد میں کوئی بھی نہیں روک سکے گا اور یہ صورتحال کسی بھی طور صوبے کے مفادات میں نہیں ہوگی۔