پشاور میں سیکورٹی مزید سخت

پشاور میں سیکورٹی مزید سخت


پشاور پولیس نے عیدالفطر کے قریب آنے اور بازاروں میں بڑھتے ہوئے رش کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی انتظامات مزید سخت کردئیے ہیں اور بازاروں کی طرف جانے والے بیشتر راستے ٹریفک کے لئے بند کردئیے ۔ صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ روز پارہ چنار' کوئٹہ اور کراچی میں ہونے والی تخریب کاری واقعات کے بعد اگرچہ پورے ملک میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ پر ڈال دیاگیا ہ تاہم وفاقی وزیر داخلہ نثار علی خان کے اس بیان کے بعد کہ خیبر پختونخوا میں تخریب کاری کے حوالے سے پہلے ہی تحریری طور پر متعلقہ اداروں کو خبردار کردیاگیا تھا۔ پارہ چنار میں ہونے والی تخریب کاری پر سوالیہ نشان ثبت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ادھر پشاور میں بھی سیکورٹی اداروں نے بھاری تعداد میں اسلحہ پکڑ کر پشاور کو بڑی تباہی سے دو چار ہونے سے بچا لیا ہے۔ یہ بات خاص طور پر ذہن نشین ہونی چاہئے کہ چند برس پہلے مسلم مینا بازار کے دہانے پر علاقہ چڑویکوبان میں جو تخریب کاری ہوئی تھی اس میں خواتین اور بچوں کی بہت بڑی تعداد شامل تھی اور چونکہ عید کے دنوں میں نہ صرف مسلم مینار بازار جناح سٹریٹ پشاور صدر میں خواتین اور بچوں کی خریداری کے لئے بہت بڑی تعداد میں نکلنا پڑتا ہے اس لئے ایسی مارکیٹیں جہاں خواتین اور بچوں نے خریداری کرنا ہوتی ہے ان میں مردوں کے داخلے پر پابندی گزشتہ کئی برس سے معمول کی بات ہے اور عوام کے جانوں کے تحفظ کے لئے بازاروں کی نگرانی سخت کرنے' بڑی گاڑیوں کے ان علاقوں کے آس پاس آنے کو روکنے کے اقدامات بالکل جائز ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری پولیس جس مستعدی اور خلوص سے یہ خدمات انجام دیتی ہے اس پر پولیس حکام اور اہلکاروں کی ستائش نہ کرنا یقینا زیادتی ہے۔ ماضی میں یہ پولیس اہلکار یہ تھے جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے یاتو دہشت گردوں کے مذموم مقاصد پورے نہ ہونے دئیے۔ بہر حال عید کے موقع پر عوام کے تحفظ کے لئے کیے جانے والے اقدامات قابل قدر ہیں اور امید ہے کہ عید کے دنوں میں بھی جب لوگ عزیزوں رشتہ داروں سے ملنے جاتے ہیں اور شہر میں ٹریفک کا اژدھام ہو جاتا ہے پولیس اہلکار جانفشانی سے اپنی ڈیوٹی دے کر عوام کو سہولتیں مہیا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں