افغانستان کا ایشیائی حل

افغانستان کا ایشیائی حل

امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ایک وسیع تر سیاسی مفاہمت کے لئے چار ملکی گروپ کا حصہ بننے سے انکار کر تے ہوئے پاکستان پر دبائو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پاکستان میں ڈرون حملے تیز کرنا اور نان نیٹو اتحادی کے طور پر درجہ کم کرنا اس دبائو کی ممکنہ صورتیں ہیں۔ امریکہ کی طرف سے ڈومور کے طور پر پاکستان پر دبائو بڑھانے کی ان خبروں کے ساتھ ہی چین نے عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو بھرپور خراج تحسین پیش کرنا ضروری سمجھا ۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کنگ شوانگ نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے ۔ یہ خطے میں امن وسلامتی اور استحکام وعلاقائی ترقی کا ضامن ہے ۔ اسی دوران اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے افغانستان کے ایشیائی حل کے حوالے سے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اہم باتیں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اورچین نے مل کر افغانستان میں امن واستحکام کے لئے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے مگر ڈرون حملے برداشت نہیں کریں گے ۔ یہ امریکہ ،چین ،افغانستان اور پاکستان کو شامل کرکے مسئلے کے حل کی ایک کوشش تھی جس کا مرکزی خیال طالبا ن کو مذاکرات کے ذریعے افغان سیاسی عمل کا حصہ بننے پر آمادہ کرنا ہے ۔اس وقت یہ چار ملک ہی افغان مسئلے کے سٹیک ہولڈرز ہیں ۔افغان سرزمین جنگ کا میدان ہے اور اس کا وجود لہولہان ہے ۔پاکستان افغانستان کا ہمسایہ ہونے کی وجہ سے اس جنگ کے تمام برے اثرات کا سامنا کررہا ہے ۔امریکہ افغانستان میں ایک قوت کا مسیحا دوسری کا قابض ہے او ریوں تنازعہ کا اہم کردار ہے جبکہ چین افغانستان کے قریب ہونے کی وجہ سے پاکستان کی طرح اس صورت حال سے متاثر ہو سکتا ہے اورایک غیر جانبدار طاقت کے طورپراس عمل کو غیر جذباتی انداز میں حل کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے ۔ اس لئے افغان مسئلے کے اس انداز سے حل کو''میڈ ان ایشیا '' حل کہا جا سکتا ہے ۔اس میں مزاحمت کی صورت حال اور خطے کے مزاج کو سامنے رکھاجا رہا ہے ۔امریکہ نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اب تک جتنی بھی کوششیں کی ہیں وہ افغانستان کے زمینی حقائق سے مطابقت رکھنے کی بجائے تصورات اور خواہشات پر مبنی ہوتی تھیں ۔اس لحاظ سے یہ بدیسی حل تھے ۔ افغانستان جس مریض جاں بلب کا نام تھا اس کا علاج دیسی طریقہ ٔ علاج میں تھا مگر اتحادیوں نے اس پر مغربی نسخہ ٔ علاج آزمانے کی کوششیں جاری رکھیں۔اس کا نتیجہ ''مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی '' کی صورت میں برآمد ہوتا چلا گیا ۔زمینی حقائق اور عوامی اور علاقائی مزاج کو نظر انداز کرکے مسئلے کے حل کی ہر کوشش ناکامی پر منتج ہوئی ۔اس عرصے میں المیہ یہ ہوا کہ اگر پاکستان سمیت کچھ علاقائی طاقتوں نے مسئلے کے لئے دیسی طریقہ ٔ علاج اپنانے کی کوشش کی امریکہ نے ایک ڈرون مار کر اس کوشش کو ناکام بنادیا ۔مثلاََامریکہ کے لئے یہ خواب مسحور کن ہو سکتا تھا کہ وہ طالبان کو طاقت کے ذریعے شکست دے کر اپنی حتمی فتح کا اعلان کرتا اور اس سے خطے میں امریکہ کی دھاک بیٹھ جاتی اور سولہ برس قبل امریکہ کے افغانستان میں فوج داخل کرنے کو سند ِجوازیت بھی حاصل ہوجاتی۔اس کا کیا کیجئے کہ سولہ برس کے بعدبھی طالبان افغانستان کی سب سے بڑی زمینی حقیقت ہیں۔بہت سے مسائل اسی حقیقت کے انکار سے پھوٹتے ہیں۔منظر اور میدان پر ان کا غلبہ ہے کیونکہ وہ ایک گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں ۔ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں جبکہ جس نظام کے ساتھ وہ لڑ رہے ہیں اس کے پاس کھونے کو ساکھ اعتماد اور طاقت سمیت بہت کچھ ہے ۔ڈیڑھ عشرے سے امریکہ ،نیٹو اور ایساف سمیت دنیا بھر کی باوسیلہ افواج افغانستان میں امن بذریعہ طاقت کے فلسفے کے تحت آتش وآہن کے کھیل میں مگن رہیں مگر ہاتھ کچھ نہ آیا ۔خطے کا عدم استحکام بڑھتا اور پھیلتا چلا گیا ۔افغانستان کی صورت حال کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے ملک کو مسئلے کا حل بنانے کی بجائے مسئلہ بنا کر الگ تھلگ کرنے کی سوچ اپنا ئی گئی اور بھارت کے ذریعے افغان مسئلے کا حل تلا ش کرنے کا راستہ اپنایا گیا ۔اس سے یہ ہوا کہ افغانستان پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک نئی رسہ کشی کا مرکز بن گیا ۔بھارت نے افغانستان میں حاصل ہونے والی پوری سپیس کو پاکستان کی مخالفت اوراسے گھیرنے کے لئے استعمال کیا اور پاکستان کی ترجیح اس گھیرے کو توڑنا رہی۔اس دوران افغانستان میں طالبان سے بھی سخت گیر گروہ داعش کی صور ت میں سامنے آتا گیا ۔یہ چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کے حوالے سے بھی خطرے کی گھنٹی تھی ۔اس لئے افغانستان کے آئیڈیل حل کی بجائے عملیت پسندی کی بنیاد پر حل تلاش کرنے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے ۔ایسا حل جس میں طاقت آزمائی اور طالع آزمائی کی بجائے واقعی امن واستحکام کو مرکزیت حاصل ہو۔امریکہ اس حل سے الگ رہ کر ایک اور غلطی کررہا ہے ۔یہ افغان حکمرانوں ،سیاست دانوں اور عوام کے سوچنے کا مرحلہ ہے کہ کون حتمی فتح کا پھریرا لہرانے کے شوق میں اس ملک کوجہنم بنائے ہوئے ہے اور کون اس ملک کے زخموں پر پھاہا رکھنا چاہتا ہے ۔افغان عوام کے پاکستان کے ساتھ گلے شکوئوں کی داستان لمبی ہے تو پاکستان کی شکایتوں کا سلسلہ بھی ستر برس پر محیط ہے ۔افغان قیادت نے اپنے پہلو میں مسلم برصغیر کے بطن سے جنم لینے والی اس ریاست کو ایک معاون ملک کے طور پر دیکھنے کی بجائے ہمیشہ معاندانہ انداز سے دیکھا ۔یوں دو طرفہ شکایتوں کا انبار لگتا چلا گیا ۔اب اس تلخ ماضی کی راکھ کر ید کر اختلافات کی چنگاریاں تلاش کرنے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ۔افغان عوام کو چین اور پاکستان کی طرف سے اس ایشیائی حل کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا ۔

متعلقہ خبریں