عیدمبارک

عیدمبارک

ہم نے اپنے معبود کی خوشنودی کے حصول کے لیے خود پر حلال چیزوں کی بھی پابندی کردی تھی اور سرخروہوئے اس رب کے سامنے کہ جو اپنے روزہ داروں پر فخر کرتا ہے عید کا تہواراسی بات کی دلیل ہے ۔یہ مہینہ بھی تو اس پاک ذات کی نعمتوں کے نزول کا مہینہ ہوتاہے کہ جو ہمارے دسترخوانوں کو اپنی رنگ رنگ کی نعمتوں سے بھر دیتا ہے بے شک اللہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتاہے۔عید کا دن عام دنوں کی طرح کا ہی ایک دن ہوتا ہے لیکن یہ صبح اپنے ساتھ خوشیوں کا ایک سلسلہ لے کرطلوع ہوتی ہے کہ اپنے پرایوں کے ساتھ بغلگیر ہونے کا موقع ملتا ہے ۔دوستوں رشتہ داروں بزرگوں سے مصافحے اور معانقے سے دلی سکون میسر آتا ہے۔بڑوں کی عید تو بس نمازعید اور ملنے ملانے تک محدود ہوتی ہے جبکہ اس عید کا شدت سے انتظار تو خاص طور پر بچوں کو ہوتا ہے۔وہ تو اس عید تک کا ایک ایک دن گنتے رہتے ہیں ۔وہ بار بار الماری میں ٹنکے ہوئے اپنے سوٹ کواور اپنے نئے پیزاروں کو دیکھ دیکھ کرخوش ہوتے ہیں کہ کب عید کی صبح ہواور کب اس لباس وپیزار کو وہ پہنیں ۔بچوں میں لڑکیوں اور لڑکوں کے مشاغل بھی مختلف ہوتے ہیں۔ بچیاں تو چاندرات کو ہی ہاتھوں پر مہندی سجالیتی ہیں۔چوڑیاں خریدی جاچکی ہوتی ہیں۔چھم چھم کرتے کپڑے بھی ہینگروں میں ٹانک دیے جاتے ہیں۔لڑکے البتہ کچھ زیادہ ہی ایکشن فلموں سے متاثر دکھائی دیتے ہیںانہیں تولباس کے علاوہ بس پستول چاہیئے یا پھر پٹاخے ۔بھلا ہو چائنہ کا کہ اس نے ہمارے بچوں کے لیے خوبصورت پستول اور پٹاخے خوب ارزاں نرخوں پر بناڈالے ہیں حالانکہ خود چائنہ میں آتش بازی کے عام استعمال پر پابندی ہے لیکن ہمارے لیے اس پابندی کے نہ ہونے کا خوب فائدہ اٹھایاہے۔چائنہ کابھی کیا قصور وہاں تو جوبھی جائے اسے اس کی مطلوبہ چیزبنادی جاتی ہے۔ہم بظاہر چھوٹی چھوٹی نظر آنے والی باتوں کوچھوٹی سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہیں حالانکہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے بڑے نقصانات کا سبب بن جایا کرتی ہیںخاص طور پر اس قسم کی آتش بازی تو نہایت خطرناک ہوتی ہے ننھے منے بچے کے ہاتھ میں پٹاخے پکڑادینا کہاں کی عقل مندی ہے اس سے بچہ خودجھلس سکتا ہے یا کسی دوسرے کونقصان پہنچا سکتا ہے لیکن والدین اس بات کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ والدین کو تو بس اپنے بچوں کی خوشی پیاری ہوتی ہے چاہے وہ بارود کے ڈھیر ہی کیوں نہ اکٹھا کررہاہو۔حکومتوں کو تو ہم نے موردالزام ٹھہراناہی چھوڑدیا ہے ۔ جہاں اتنے بڑے بڑے پٹاخے پھوٹ رہے ہوںہاں چھوٹے موٹے پٹاخوں کی کسے توجہ۔بسنت پنجاب بالخصوص لاہور کا ایک اہم تہوا ر تھالیکن جب اسی تہوارنے لوگوں کی جانیں لینا شروع کردیا تو حکومت پنجاب نے بجائے اس کے کہ میٹل کی ڈوربنانے پر پابندی لگائی جاتی پورے تہوار ہی کو معطل کردیاہم بھی خاموش ہیں کہ کہیں پٹاخوں پر پابندی کی بات کی جائے تو حکومت خدانخواستہ عید کے تہوارپر ہی پابندی نہ لگادے اس لیے چُپ ہی میں بھلا ہے۔دوسری خطرناک بات تو چاند رات کو ہوتی ہے جب کوئی چانددیکھے نہ دیکھے اپنے ہتھیاروں کے منہ آسمان کی جانب کھول کر ایک دن پہلے ہی عید کی خوشی منالیتے ہیں ۔ پورا شہر گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھتا ہے ۔ ہم خوش ہوجاتے ہیں کہ ہم نے ایک اچھے مسلمان ہونے کا ثبوت دے دیاہے ۔ اس بات سے بے خبر کہ ہمارے ہتھیار سے نکلنے والی گولی کسی کے آنگن میں گر کر کسی کا گھر اجاڑسکتی ہے ۔ مگر ہمیں تو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ قتل ہم نے کیا ہے ۔ جہاں پورا شہر ہوائی فائرنگ کررہا ہووہاں اس قتل کی ایف آئی آر کسی پر کاٹی جائے کیونکہ قاتل نامعلوم ہوتا ہے ۔لیکن اللہ ضرور جانتا ہے کہ کس کی گولی سے کس کا گھراجڑا۔ عید کا دن پکوانوں کا دن بھی ہوتاہے ۔صبح ناشتے میں سویاں نہ ہوں تو بھلا وہ کیا عید ہوگی۔پھر دوپہر اور رات کے کھانوں میں کیا کیا نہیں بنتا۔خود بھی کھائیں اور مہمانوں کی تواضع بھی کیجئے ۔اللہ کی نعمتیں بھی تو بے شمارہیں۔اس مقام پر بھی خوش خوراکی کے مظاہرے دیکھے جاسکتے ہیں ۔بیچارہ معدہ جو رمضان میں ایک نفس کُش قسم کی صورتحال سے گزراہوتا ہے اچانک عید کے دن اس پر ایسی بمباری کی جاتی ہے کہ معدے کودن میں تارے نظر آجاتے ہیں۔حالانکہ کھاناہم کوئی پہلی بار تو کھانہیںرہے ہوتے البتہ کسی بھی کھانے کاآخری کھانانہ ہونے کی گارنٹی تو کوئی نہیں دے سکتا اس لیے ہم شاید اس کھانے کو آخری کھاناتصور کرکے ہی کھاجاتے ہیں۔خاص طور پر جب مہمان بن کردستر خوا ن پر بیٹھتے ہیں پھر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہم کیا کررہے ہوتے ہیں بس دسترخوان کوفناکرنا ہی ہمارافرض عین ہوتا ہے ۔اور یوں عید کے پہلے ہی روز بدخوراکیاں اور بدہضمیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور روزے کی ساری ریاضت پر پانی پھیردیاجاتا ہے۔دین اسلام نے اگر ہرچیز میں اعتدال رکھا ہے تو بے شک اسی میں انسان کی بھلائی مضمرہے۔اللہ کی نعمتیں توجاری وساری ہیں۔ایک لقمہ کھایاجائے یاایک ہزارلقمے ذائقہ اورمٹھاس اسی ایک لقمے والی ہی ہوگی پھر ہابڑ ا کیسا، بدتمیزیاں اور بدتہذیبیاں کیسی۔اور یہ بھی تو سوچنے والی بات ہے کہ اللہ کی نعمتیں کہیں بھاگی تونہیں جارہیں نہ ہی ان نعمتوں نے یک لخت ختم ہوجانا ہے ۔جورزق ہمارے مقدر میں لکھ رکھا ہے وہی تو ہمیں ملے گا اوربے شک ملے گا۔عید کی خوشی چھوٹی خوشی نہیں ہے بلکہ بہت بڑی نعمت ہے اس خوشی کو اسی انداز میں گزارناچاہیئے کہ جیسا اس کاحق ہے۔اللہ ہمیں ایسی خوشیوں سے ہمیشہ نوازے ۔آمین۔