پی آئی اے اورچند یاد داشتیں

پی آئی اے اورچند یاد داشتیں

ایک وقت تھا جب پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کا شمار دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں ہوتا تھا۔ اپنے قیام کے چند سالوں میں ہی پی آئی اے نے اپنا نام اور مقام پیدا کیا کہ بڑی بڑی فضائی کمپنیاں اس کے آگے پانی بھرتی نظر آتی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب باکمال لوگ واقعی لاجواب تھے۔ آئیے پی آئی اے کے روشن ماضی پر کچھ ان لوگوں کی زبانی نگاہ ڈالتے ہیں جنہوںنے اسے بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔پی آئی اے کا سنگِ بنیاد کیسے رکھا گیا؟ کیپٹن سید آفاق رضوی بتاتے ہیں کہ پی آئی اے سے پہلے تین چار ایئر لائنز موجود تھیں جن میں پاک ایئر ' اورینٹ ایئرویز ، کریسنٹ ایئرویز شامل تھیں۔ پی آئی اے نے تینوں ایئرلائنز خرید لیں ۔ یوں 1955ء میں یہ تمام ایئر لائنز ایک ہو گئیں اور ایک کارپوریشن بن گئی۔1958ء میں پاکستان میں مارشل لاء لگ گیا ۔ ایئر کموڈور نور خان پی آئی اے میں شامل ہو گئے۔پوری دنیا میں ایک مقابلے کا آغاز ہو گیا کہ کونسی ایئر لائن پہلا جیٹ بوئنگ 707اُڑائے گی۔ بھارت نے سب سے پہلے اس جہاز کا آرڈر دیا کیونکہ وہ ایک امیر ملک تھا۔ایئر کموڈور نورخان نے بہترین کام یہ کیا کہ پین ایم سے ایک 707لیز کروا لیا جو کہ پہلی پرواز بھرنے والا 707بن گیا۔ یوں پی آئی اے جیٹ پرواز کرانے والی پہلی ایئرلائن بنی اور اس طرح پی آئی اے نے برٹش ایئرویز اور ایئر انڈیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ عمر قریشی کو پبلک ریلیشنز افسر بنانا ایئر کموڈورنورخان کا بہترین فیصلہ تھا کیونکہ عمر قریشی کامیاب افسر تھے اور انہوں نے ہی "Great People to Fly With"کا سلوگن دیا۔ جن میں ٹوکیو میں بہترین سروس کا ایوارڈ اور کراچی میں تین سے چار سال تک بہترین سروس کے ایوارڈز شامل ہیں۔ پی آئی اے پہلی ایئرلائن ہے جس نے مسافروں کی انٹرٹینمنٹ کے لئے دوران پرواز فلمیں دکھانے کا آغاز کیا۔ 1965ء میں پی آئی اے ٹرانسپورٹ کمانڈ تھی۔ ایئرفورس کے پاس ٹرانسپورٹ نہیںتھی ، پی آئی اے ایئر فورس کے لیے بوئنگ 707اُڑاتی تھی ۔ 1971ء کی جنگ میں بھی ایئرفورس کے پاس ٹرانسپورٹ نہیں تھی ، پی آئی اے نے ہی ایئرفورس کو ٹرانسپورٹ فراہم کی تھی ۔ 1971ء میںپاکستان کے دو ٹکڑوں میں بٹ جانے سے پی آئی اے نقصان میںچلی گئی ۔ مشرقی پاکستان کی تمام پروازیں بند ہو گئیں، پی آئی اے کا نقصان بڑھتا رہا ۔ اس وقت سہگل پی آئی اے کے چیئرمین بنے ۔ وہ ایک کاروباری شخص تھے اور پیسے کا کھیل سمجھتے تھے۔ انہوں نے پی آئی اے کو اس بحران سے نکالا۔ ان ہی کے دور میں کچھ ایئر کرافٹ مالٹا کو دیے گئے اور ہم نے مالٹا کے لیے پروازیں شروع کیں۔ انہوںنے ہی ایمریٹس شروع کیا اور اپنے پائلٹ' ایئرہوسٹس بھیجیں۔ تین سے چار مہینے تک ہمارے لوگ جدہ میںرہے اور چارٹر اُڑانیں بھرتے رہے۔ ضیاء الحق نے پی آئی اے بار پر پابندی لگا دی اور بار کا یہ مطلب نہیںتھا کہ تمام مسلمانوں کو شراب پلائی جائے لیکن جب کوئی بین الاقوامی فرسٹ کلاس مسافر شراب طلب کرے تو وہ موجود ہو۔ اس دن بین الاقوامی مارکیٹ میںپی آئی اے کا نام خراب ہو گیا۔ پی آئی اے میں داخل ہوتے ہی پہلا اعلان عربی میں ہونے لگا ۔ مطلب اگر کوئی یورپی مسافر پی آئی اے میں سفر کرے تو اسے یہ احساس ہوتا کہ یہ ایک اسلامی ایئرلائن ہے۔ ''پائلٹ سلیکشن کا ذمہ دار تھا۔'' مجھے یاد ہے کہ پہلے دو خواتین نے ہیڈ لائنس حاصل کیا تو پوچھا گیا کہ یہ دو پٹا پہنیں گی یا نہیں۔ میں نے کہا اس کا دوپٹے سے کوئی تعلق نہیں انہیں جہاز اُڑانا ہے۔'' وہ وہی پہنیں گی جو تمام لوگ پہنتے ہیں ۔ پرواز کے دوران دوپٹا گلے میں پھندا لگا سکتا ہے ۔''اگست 1956ء سے مارچ 1982ء تک میںپی آئی کاحصہ رہا۔ پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے ان دنوں بحران کا شکار ہے جس کی پانچ وجوہات ہیں جو سینیٹ کی پی آئی اے پر قائم کی گئی خصوصی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پیش کیں۔ وہ یہ ہیں: ١۔ سیاسی مداخلت اورسیاستدانوں کی ناکامی ۔
٢۔ یونینز اور ایسوسی ایشنز کی سیاسی پشت پناہی۔
٣۔ اعتماد اور لیڈر شپ کا فقدان ۔
٤۔ عہدوں کے لیے غیر موزوں ڈائریکٹرز۔
٥۔ کرپشن۔
مذکورہ بالا سطور میں ہم نے پی آئی اے کے سفر اور روشن ماضی کی مختصر تاریخ بیان کی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس عرصے کے دوران دنیا میں درجنوں ایئر لائنز وجود میں آئیں اور نام کمایا ،جب کہ پی آئی اے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تنزلی کا شکار ہوتی چلی گئی۔ پی آئی اے کا آج بھی وہی سلوگن ہے ''باکمال لوگ لاجواب سروس'' کیا پی آئی اے بھی ویسی ہی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ملے گا،آج پی آئی اے کی جو صورتحال ہے وہ یہ ہے کہ لوگ پی آئی اے کے بجائے دیگر ایئر لائنز کو ترجیح دیتے ہیں بہ امر مجبوری ہی پی آئی اے پر سفر کرتے ہیں ،جو پی آئی اے کسی وقت نفع بخش سمجھی جاتی تھی آج اسے چلانے کیلئے سالانہ بجٹ میں رقم مختص کرنی پڑتی ہے ۔پی آئی اے کو تباہ کرنے کا ذمہ دار کون ہے فرد واحد یا ہمارا کرپٹ سسٹم؟ اور کیا ہمارے دیگر قومی ادارے بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے پی آئی اے کی تباہی میں جن امور کی نشاندہی کی ہے کیا ان کرداروں کے خلاف کبھی کارروائی ہو سکے گی؟۔

متعلقہ خبریں