چیمپئنر ٹرافی اور عید الفطر ، ذرا اعتدال

چیمپئنر ٹرافی اور عید الفطر ، ذرا اعتدال

اسلام اعتدال کا دین ہے ۔ اس کا ہر حکم اور عمل اور معاملات و عبادات غرض ہر چیز میں میانہ روی اور موزو نیت و تنا سب (سمٹری ) صاف جھلکتی ہے ۔خاتم النبیین ۖنے اپنے اس فرمان مبارک میں اس کا عرق پیش فرمایا ہے کہ ،ترجمہ'' بہترین کام میا نہ روی کے ہیں'' میانہ روی اور اعتدال سے مراد یہ کہ انسان کو زندگی میں مختلف حالات و واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں اور اقوام کو خزانے دے کر آزما تا ہے اور بعض افراد اور اقوام کو فاقوں کا شکار کر کے آزماتا ہے ، اوران دونوں قسم کے لوگوں کے ذریعے ایک دوسرے کو بھی آزما یا جاتا ہے ۔ لیکن غیر مسلم اقوام اور افراد اگر زندگی کے بعض معاملات میں حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں تو ہم اُن کو زیادہ مطعون اس لئے نہیں کرتے کہ اُن کے پاس اُن ساعتوں میں ہدایت و رہنمائی کے لئے تعلیمات کا فقدان ہوتا ہے ۔ گلہ اور شکایت تو امت مسلمہ کے افراد اور اقوام سے ہے کہ اُن کے پا س قرآن کریم اور سنت مطہرہ اور (احادیث مبارکہ ) کی صورت میں مکمل راہ ہدایت موجود ہے اور چھوٹے چھوٹے کاموں اور معاملات سے لیکر ریاستی اور بین الاقوامی امور میں رہنمائی کیلئے واضح ہدایات آج بھی موجود ہیں ۔ گھر اور گھر کی چاردیواری سے لیکر دنیا کے ہر فرد اور قوم کے ساتھ لین دین اور تعامل میں میانہ روی کی راہ سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں ، مکی زندگی میں نبی کریم ۖ اور صحابہ کرام کیسی آزمائشوں سے گزرنے ، کون سی اذیت تھی جو ان مقدس نفوس کو نہ دی گئی ۔ یہاں تک کہ پوری قوم نے مل کر آپ ۖ کے خاندان کا معاشی و معاشرتی بائیکاٹ کر شعب ابی طالب میں محصور کیا اور اگلے مرحلے میں ہجرت پر مجبور کیا ۔ لیکن پھر جب ہجرت کے آٹھ برس بعد مکہ المکرمہ میں خاتم النبیینۖ صحابہ کرام کے ساتھ فاتحانہ داخل ہوئے تو سورہ نصر کی تلاوت فر ما رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور استغفار کر رہے تھے ۔ ایک صحابی رسول ۖ نے کفار کے مظالم کے پیش نظر جذبات میں آکر نعرہ بلند کیا کہ ''آج انتقام کا دن ہے ''۔ نبی ۖ رحمت نے اُن کے ہاتھ سے جھنڈ ا لے کر دوسرے صحابی کے سپر د کیا ۔ اسلامی تاریخ میں فتح مکہ المکرمہ ، عظیم ترین فتح ہے ، لیکن کہیں سے بھی ثابت نہیں ہے کہ صحابہ کرام نے کوئی جشن فتح منایا ہے یا فتح کی خوشی میں حدود سے تجاوز کر گئے ہیں یا زبان پر ایسے الفاظ لائے ہیں جو میانہ روی اور اعتدال سے ہٹ کر ہوں ۔ اسلام میں توخوشی منانے کا بہترین انداز یہ ہے کہ اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لایا جائے ۔ صحابہ کرام اور تابعین کرام نے ہر خوشی کے موقع پر اللہ کا شکرادا کر کے ادا کیا ہے اور تکلیف و مصیبت کے وقت بھی دو رکعت کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے استعانت و دعا مانگی گئی ہے ۔ اور آج ہم پاکستانی اور دیگر مسلمان معمولی سی خوشی حاصل ہو جائے یا شادی بیاہ کا موقع ہوتو آسمان سر پر اٹھا نے سے بھی دریغ نہیں کرتے خلیجی عرب ممالک میں خوشی کے مواقع پر آتش بازیوں اور بعض دیگر غیر مشروع افعال کا ارتکاب یقینا عدل و اعتدال کی خلاف ورزی ہے وہ تو چلو ، پھر بھی پٹرو ڈالر کے مالک ہیں ، ہم در ماندہ و مقروض قوم نہ جانے کیوں ، کرکٹ جیسے کھیل پر جیت کی صورت میں ائیر پورٹوں ، سڑکو ں ، پارکوں ،اور گھر وں میں ایک بہت سے ہنگامہ بر پا کر دیتے ہیں اور خاص کر ہوائی فائرنگ کے ذریعے اسراف کرتے ہوئے اعتدال سے نکل جاتے ہیں دوسرا اپنے ہی بھائی بندوں کی قیمتی جانوں کے دشمن بن جاتے ہیں کیا ہوائی فائرنگ کرنے والوں کو اس بات کا احساس ہے کہ قیامت کے دن اُس سے پو چھا جائے گا کہ اس قیمتی جان کو کس گنا ہ کی پاداش میں ضائع کیا تھا ۔ کیا اپنی دو منٹ کی خوشی کے لئے آپ نے دوسرے انسان کے آنگن میں صف ماتم بچھا دینا کہا ں کی انسانیت ہے ۔ عید الفطر جو ایک مقدس مذہبی فریضہ ہے اور شوال کا چاند نظر آنے کے بعد چاہیئے تو یہ کہ ہم سب عید کی رات یا چاند رات جس کو حدیث میں لیلة الجائزہ ، یعنی رمضان کے روزوں کا صلہ اور بدلہ کی رات فرمایا گیا ہے عبادت میں اللہ کے حضور سرنگو ں ہوجائیں ، ہم بازاروں میں اور گھروں میں ہوائی فائرنگ کے ذریعے اپنے لوگوں کی جانوں کو خطرات سے دوچار کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کو دعوت دیتے ہیں ۔ لہٰذا ضرورت ا س بات کی ہے کہ ہم سب مل کر اس بات کا عہد کریں کہ بحیثیت ایک ذمہ دار شہری کے ہم زندگی کے معاملات میں اعتدال سے کا م لیں گے ۔ اور حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بھی کرکٹ جیسے کھیل سے اتنی جذباتی نہ ہو کہ کوئی کھلاڑیوں کو عمرہ کرانے ، کوئی فی کس کروڑ روپے اور کوئی پلاٹ اور نقدی دینے کے اعلانات کرتا ہے ۔ کیا ہم نے ایک لمحے کے لئے سوچا ہے کہ ہمارے معاشرے کے نوجوانوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ والدین اپنے بچوںسے یہی بات کرتے ہیں کہ بیٹا ، پڑھنے وڑھنے میں کچھ نہیں رکھا ۔ بیٹ اور بال ہاتھ میں لو اور کرکٹ میں کمال پیدا کرو ۔۔دولت آ پ کے گھر کی باندی بن جائیگی ۔اگر یہی حال رہا تو تعلیم کے میدان میں جو ہم پہلے ہی بہت پیچھے ہیں اور بھی بیک فٹ پر چلے جائیں گے ۔امید کرتے ہیں کہ بس اب چیمپئنرٹرافی کا جشن اختتام پذیر ہوگا اور عید الفطر کو مذہبی جوش و عقیدت سے مناتے ہوئے اس کو محبت ، تعاون اور اسلام سے لگائو کی علامت بنا کر منائیں گے اور ہوائی فائرنگ سے مکمل اجتناب کریں گے ۔
تمام اہل وطن کو عید مبارک ۔

متعلقہ خبریں