قطر کا گھیرائوخلیجی ممالک کے لئے تباہ کن ہوگا

قطر کا گھیرائوخلیجی ممالک کے لئے تباہ کن ہوگا

وہ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہے لیکن ایک اعلیٰ پائے کا دانشور بھی۔بھلے وقتوں اس نے سعودی عرب میں بڑے بڑے تعمیراتی پراجیکٹس پر کام کیا۔پاکستان واپس آیا تواس کے ساتھ کئی طویل نشستیں ہوئیں۔یہ وہ دور تھا کہ جب پاکستان میں سعودیہ پر تنقید کا تصور بھی نہ تھا لیکن وہ کھل کر پاکستان کے بیشتر مسائل کا ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیتا تھا۔ہم لوگوں کو جب یہ بات ہضم نہ ہو پاتی تو اس پر سوالات کی بوچھاڑ کر دیتے۔ وہ بڑے تحمل سے ہر سوال کا جواب دیتا اور اپنے تھیسس کے حق میں دلائل کے انبار لگا دیتا۔دلائل بڑے ہی مضبوط ہوتے اس لئے ہم توجہ سے سنتے۔
وہ کہتا بھولے بادشاہو امریکہ اور روس کی جنگ،جسے تم لوگ جہاد کہتے ہواس کے حوالے سے صرف امریکہ اور پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہو،جبکہ اس میں سعودی عرب کا بہت اہم کردار تھا۔ریاض تمہارے حکمرانوں کوجو کچھ بھی دیتا رہا اس کی قیمت وصول کرتا رہا۔ہمارے حکمران اس کی کٹھ پتلی بنے رہے ۔اس کا کردار جس قدر میز کے اوپر نظر آتا ہے اس سے زیادہ میز کے نیچے ہے لہٰذا اپنے اپنے رومانس سے باہر نکلو اور اس باریک نکتے کو سمجھو کہ مفادات کی لڑائی میں تم لوگ ہمیشہ استعمال ہوتے ہو۔سعودی قیادت نے پاکستان کو یمن کی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی تو مجھے وہ انجینئر یاد آیا لیکن جب پاکستانی قیادت نے تاریخ میں پہلی بار عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس جنگ سے دوری اختیار کی تو مجھے حوصلہ ہوا کہ دیر سے ہی سہی لیکن اب اسلام آباد کو سودوزیاں کا احساس ہونے لگا ہے ۔ اس کے بعد جب جنرل (ر) راحیل شریف کو اتحادی افواج کا سربراہ بنا کر سعود ی عرب بھیجا گیا تو مجھ ایسوں کو پھر دھچکا لگا لیکن خلیج کے مستقبل کا صحیح منظر نامہ اس وقت عیاں ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب آئے اور شاہی خاندان نے جس والہانہ انداز میں اس کا استقبال کیا اسے دیکھ کر دنیا حیرت و استعجاب کی تصویر بن کر رہ گئی۔یو ںمحسوس ہو رہا تھا جیسے ڈونلڈ ٹرمپ ہی اس خطے کا اصل حکمران ہے اور باقی سب اس کے ملازم۔اس کے بعد قطر کا جس بھونڈے انداز میں گھیرائو کیا گیاوہ اس امر کی بین دلیل ہے کہ امریکہ اس خطے میں ایک شیطانی کھیل کھیلنا چاہتا ہے ۔نفاق ،نفرت اور عداوت کا ایسا خطرناک کھیل کہ جس کے نتیجے میں عرب قلاش ہو جائیں اورفرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم اتنی گہری ہو جائے کہ خطے کا مستقبل امریکہ کے اشارہ ابرو کا محتاج ہو کر رہ جائے۔ اس سیناریو میں قطر اور ایران مزاحمت کی واحد علامت ہیں جنہیں بہت سے ملک ایک متعصبانہ اتحاد کے ذریعے یہ جتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر تم اطاعت گزار نہ بنے تو تمہارا گھیرائو کر کے عبرت کا نشان بنا دیں گے۔اس صورتحال کے علی الرغم ہنرمند دوست کا پاکستان کے بارے میں یہ گمان کہ وہ مداخلت کر کے بیچ بچائو کرا سکتا ہے اس امر کی دلیل ہے کہ قطر اور ایران پاکستان سے بہرحال ایک امید رکھتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس ساری سازش کا مرکزی کردار امریکہ ہے جو پاکستان کی پیش نہیں چلنے دے گا اور خطے میں گند ضرور پڑے گا۔میرے خیال میں وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب پاکستان کو قطر اور سعودی عرب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا اور یہ مرحلہ بڑا ہی کٹھن ہوگا۔قومی مفاد کے حوالے سے یوں توقومی سطح پر آج تک جو بھی کیا گیا وہ الٹا پڑا لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان مستقبل کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر ایسے فیصلے کرے جو دوررس نتائج کے حامل ثابت ہوں۔پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ قطر، ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کرائی جائے لیکن ماضی کے ریکارڈ کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کی پیش نہیں چلنے دے گا کیونکہ شاہی خاندان پاکستان سے ماضی کی طرح یہ توقع کرے گا کہ پاکستان اس کے کسی بھی غلط فیصلے کا اسی طرح ساتھ دے جیسے ماضی میں دیتا رہا ہے ۔سو ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو قطر کو تنہا چھوڑ دینا بدترین غلطی ہوگی۔دوسری طرف اگر ایران کویہ احساس ہوا کہ پاکستان کھل کر اس کا ساتھ نہیں دے رہا توایرانی عوام اس گمان میں مبتلا ہوں گے کہ پاکستان بھی دیگر سنی ممالک کی طرح اسے تنہا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔حالیہ ریاض کانفرنس میں جس طرح پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو نظر انداز کیا گیا وہ پاکستانی قوم کی توہین تھی اور اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ سعودی عرب اب بھی پاکستان کو ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی سمجھتا ہے۔
لہٰذا سعودی قیادت کو یہ واضح پیغام جانا چاہئے کہ ایٹمی پاکستان اپنے فیصلے خود کرنے پر قادر ہے۔چین کے ساتھ پاکستان جس حد تک آگے جا چکا ہے اس سے ایک نئے پاکستان کا ظہور ہونا چاہئے۔روس کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات جس بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں ان میں رکاوٹ نہیں آنی چاہئے اور یہ بات بھی ذہنوں میںرہنی چاہئے کہ چین روس کے زیادہ قریب ہے اور مشرق وسطیٰ تنازعے میں وہ جانبدار نہیں رہ سکے گا۔امریکہ خلیج میں جو گند ڈالنا چاہتا ہے،اس گندگی میں خود کو آلودہ کرنا پرلے درجے کی حماقت ہوگی۔اس لئے سعودی عرب پر یہ واضح کر دینا بہت مناسب بات ہوگی کہ پاکستانی عوام کسی بھی ایسے اتحاد کا حصہ بننے کو تیار نہیں جو مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کر کے ٹرمپ کے شیطانی کھیل کو آگے بڑھائے ۔قطر نے کبھی ہمیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا نہ کرے گا سو ہم کیوں اس کے خلاف ایک سازشی کھیل کا حصہ بنیں۔

متعلقہ خبریں