مشرقیات

مشرقیات


شیخ سعدی کی ایک حکایت ہے کہ ایک بادشاہ رعایا کی فکر سے بے پروا اور بے انصافی اور ظلم پر دلیر تھا جس کے نتیجے میں لوگ گھر اور کاروبار چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کررہے تھے ۔ ایک دن یہ کم عقل اور ظالم بادشاہ اپنے دربار میں عہدیداروں اور وزیروں کے درمیان بیٹھا مشہور نظم ''شاہنامہ'' سن رہا تھا۔
اس میں بادشاہ ضحاک اور فریدون کا ذکر آیا تو اس نے اپنے وزیر سے سوال کیا کہ آخر ایسا کیوں ہوا کہ ضحاک جیسا بڑا بادشاہ اپنی سلطنت گنوا بیٹھا اور فریدون بادشاہ بن گیا جس کے پاس نہ لشکر تھا نہ خزانہ ؟اس کا وزیر بہت عقلمند تھا اس نے ادب سے جواب دیا کہ حضور والا اس کی وجہ یہ تھی کہ فریدون خلق خدا کا خیرخواہ تھا اور ضحاک لوگوں کے حقوق ادا کرنے سے بے پرواہ تھا۔ بادشاہی عوام کی مدد سے حاصل ہوتی ہے پھر وزیر نے بادشاہ کو نصیحت کی کہ سلطنت قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ حضور اپنا رویہ بدلیں لوگوں کو پریشان کرنے کی بجائے ان سے احسان اور انصاف کریں اس سے دلوں میں محبت بڑھتی ہے فوج کے سپاہی بھی وفادار اور جانثار بن جاتے ہیںیہ باتیں خیرخواہی کے جذبے سے کہی تھیں لیکن بادشاہ وزیر سے ناراض ہوگیا اور اسے جیل خانے بھجوا دیا۔ اس نے اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت محسوس نہ کی کچھ ہی دن بعد کرنا خدا کا کیا ہوا کہ بادشاہ کے بھائی بھتیجوں نے اس کے خلاف بغاوت کردی اور رعایا ان کی طرفدار ہوگئی کیونکہ ہر کوئی بادشاہ کے ظلم سے پریشان تھا۔
سلطنت اور ظلم یک جا ہو نہیں سکتے کبھی بھیڑیا بھیڑوں کی رکھوالی پہ کب رکھا گیاظلم و سفاکی پہ جو حاکم بھی ہوجائے دلیرجان لو قصر حکومت اس نے خود ہی ڈھالیاحضرت سعدی نے اس حکایت میں حکومت کا یہ اصول بیان کیا ہے کہ بادشاہ کی اصل قوت رعایا کی محبت ہے ورنہ بہت قریب کے لوگ بھی مخالف بن جاتے ہیں اور ظلم کرنے والا بادشاہ اپنا محل خود ہی گرا لیتا ہے۔اس دور میں بھی اس کی مثالیں آپ کو مل سکتی ہے۔ زیادہ دور مت جایئے عرب سپرنگ یعنی عرب بہار کے انقلاب کو دیکھیں ایک کے بعد ایک مطلق العنان حکمران اقتدار سے ہاتھ دھوتا رہا بلکہ بعض کو تو نشان عبرت بنادیا گیا۔
تیونس میں ایک غریب مزدور کے معاملے سے اٹھنے والے طوفان نے پورے عرب کی سیاسی ہیئت بدل ڈالی۔ پھر بھی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں ہی مطلق العنان ہوں تو وہ حقائق سے نظر ہی چراتا ہے۔ اصل طاقت عوام ہی ہیں۔ مگر عوام کو بھی یہ شعور ہونا چاہئے کہ حکمرانی کا سرچشمہ وہ خود ہیں تب ہی وہ اپنے لئے حکمران نہیں بلکہ صحیح معنوں میں خادموں کا انتخاب کرسکیںگے۔ مگر عوام کو یہ شعوربھی ہونا چاہئے کہ وہ انتخاب کے وقت مکمل ایمانداری سے اپنے لئے اہل حکمران چنیں تاکہ بعد میں احتجاج اور دھرنوں کی نوبت نہ آئے۔

متعلقہ خبریں