اصولی اختلاف یا نیا سیاسی ایشو

اصولی اختلاف یا نیا سیاسی ایشو


خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا وفاق کی جانب سے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار اور چیئر مین فاٹا اصلاحات کمیٹی اور وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کی ان مطالبات کی وضاحت میں تو کوئی قباحت نہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس غیر سیاسی معاملے کو سیاسی بنا دینے کی ٹھان لی گئی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں خیبر پختونخوا کو محروم رکھنے کا بڑا واویلا کیاگیا لیکن پھر ایسی چپ سادھ لی گئی کہ اب کوئی اس کا نام بھی نہیں لیتا۔ حالانکہ سی پیک کے روٹ میں نہ کوئی بنیادی تبدیلی لائی گئی اور نہ ہی اس منصوبے پر صوبے میں عملی کام کا کوئی سنجیدہ عمل سامنے آیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے کی نمائندگی کا صوبائی حکومت کو حق ضرور حاصل ہے اور منتخب نمائندے ہونے کی بناء پر صوبے کے جملہ معاملات میں عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہئے مگر اس امر کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے کہ ایک معاملے کو ایشو بنا کر اس پر آسمان سر پر اٹھا لیا جائے اور پھر کسی ٹھوس وجہ کے بغیر اس پر چپ سادھ لی جائے اور عرصے بعد ایک نیا ایشو سامنے لایا جائے۔ فاٹا اصلاحات کی حقیقت ابھی ہوائی قلعے تعمیر کرنے کی حد تک ہی ہے ۔ اس ضمن میں سنجیدہ اقدامات ہونا باقی ہے جس پر اصولی اختلاف اور موقف دینے کے بہتیرے مواقع ہیں ۔ جن مجوزہ اقدامات پر اب اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں اصلاحات میں یہ تجاویز پہلی مرتبہ شامل نہیں کی گئی ہیں بلکہ اس پر کافی عرصے سے بحث و مباحثہ ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے لیکن فی الوقت اعتراضات اٹھانے اور اس معاملے کو تختہ مشق بنانے سے گریز ہی کیا جائے تو بہتر ہوگا ۔ بہر حال وفاقی کابینہ کی جانب سے فاٹا اصلاحات سے متعلق سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات کی اصولی طور پر منظوری کے بعد قبائلی علاقہ جات کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ سیاسی زعما کو پانچ سالہ مدت پر اعتراض ہے۔ وہ یہ حقیقت نظر انداز کررہے ہیںکہ اتنے بڑے فیصلے پر عملدر آمد راتوں رات ممکن نہیں بلکہ مرحلہ وار سوچ سمجھ کر اور عملی طور پر پیشرفت کے دوران سامنے آنے والی مشکلات اور پیچید گیوں کو دور کر کے ہی کرنا احسن اور ممکن ہوگا اور یہی عملی اور معروضی صورتحال کا تقا ضا بھی ہے ۔ اس کمیٹی کے قیام اور سفارشات کی تیاری کے دوران بھی اس امر کا یقین نہیں تھا کہ اس'' کا رلا حاصل''کا کوئی نتیجہ نکلے گا ۔ مگر بالا خر'' یہ کارلا حاصل''خوشگوار طور پر نتیجہ خیز ثابت ہوا اور اس کی سفارشات کی منظوری کے بعد وہ تمام خدشات غلط ثابت ہوئے ۔معدودے چند تحفظات اور خوشہ چینی کی ہر جگہ گنجائش رہتی ہے اور کسی بھی معاملے پر سوفیصد اتفاق رائے ویسے بھی ممکن نہیں ہوا کرتا ۔ سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر تحفظات ہیں کہ وفاقی حکومت نے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کی بجائے پانچ سال کے بعد انضمام کا فیصلہ کیوں کیا ۔ سیاسی جماعتوں کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے انہیں انضمام کے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے از خود اس امر کا احساس ہوگا کہ حکومتی فیصلہ درست تھا ۔ دہشت گردی سے متاثرہ اور پسماندہ قبائلی علاقہ جات کی پانچ سال بعد قومی دھارے میں شمولیت ملکی تاریخ کا اہم دن ہوگا۔ قبائلی عوام بتدریج جن مراحل سے گزریں گے اس کا رخ تو متعین ہوگیا ہے ۔ایف سی آر کو رواج ایکٹ کے ساتھ تبدیل کرنے کے بعد اجتماعی ذمہ داری کا قانون ختم ہوگا اور ہر شخص اپنے اپنے انفرادی فعل کا ذمہ دار ہوگا جس کے بعد فطری طور پر جزا و سزا کاعمل لاگو ہوگا۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے سے فاٹا کے لوگوں کو مساوی حقوق ملیں گے اور وہ اپنے آپ کو دوسرے درجے کا شہری سمجھنے کی بجائے تمام حقوق کے حقدار شہری سمجھنے لگیں گے ۔ فاٹا میں قیام امن کیلئے 20ہزار لیویز کی بھرتی سے بیس ہزار قبائلی نوجوانوں کو روز گارکے مواقع میسر آئیں گے ۔فاٹا کے تمام علاقوں کو اپ گریڈ کر کے خیبر پختونخوا کے علاقوں کے برابر لایا جائے گا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان بیت المال اور مائیکرو فنانس سکیموں کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا۔ سٹیٹ بنک فاٹا میں بنکوںکی شاخیں کھولنے کیلئے بنکوں کی حوصلہ افزائی کر ے گا ۔ فاٹا کو سی پیک کے ساتھ مناسب مقامات پر جوڑا جائے گا فاٹا کو این ایف سی ایوارڈ کا تین فیصد حصہ دینے سے قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے خطیر رقم میسر آئے گی۔ ان تمام محاسن کے باوجود اور فاٹا کے انضمام کے اعلان کے باوجود ابھی کئی پیچید گیوں مشکلات اور اختلافات کا سامنا کرنا باقی ہے کیونکہ فاٹا کے عوام ا س سلسلے میں ایک رائے نہیں رکھتے ایک عنصر انضمام کا جبکہ دوسرا عنصر فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانے کا حامی ہے ۔مستزاد وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نیا نکتہ لے کر میدان میں آگئے ہیں جس سے اصلاحات کے عمل کے متنازعہ ہونے اور تاخیر کے امکانات بڑھتے نظر آتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے حوالے سے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی ایجنڈے کے تحت انضمام کی حامی ہیں لیکن انہیں اس صورتحال سے کوئی سر کار نہیں جس سے یہ حساس خطہ متاثر ہوگا۔ بہر حال معاملا ت کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور حکومت کو ان اصلاحات اور فاٹا کے مستقبل کے موجودہ فیصلے کو حتمی مرحلے تک لیجانے اور اس پر عملدرآمد میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں اس بارے وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے سوائے اس کے کہ حکومت ایسے امور جن میں قبائلی عوام میں کوئی اختلاف نہیں ان معاملات کو اولین ترجیح بنا کر آگے بڑھے تاکہ قبائلی علاقوں میں شعور و ذہن سازی کے ساتھ قبائلی عوام کا اعتماد بڑھے۔ جو ں جوں قبائلی عوام اپنے اور شہری علاقوں کے عوام کے درمیان تفاوت میں کمی ہوتی ہوئی محسوس کریں گے توں توں وہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے فیصلے کے قریب ہوتے جائیں گے اور بالآخر فاٹا قومی دھارے میں شامل ہوگا۔ قبائلی عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی ملے گی اور فاٹا عملی طور پر خیبر پختونخوا کا حصہ بن جائے گا۔

متعلقہ خبریں