کیا امریکہ کو افغانستان میں قیام امن سے دلچسپی نہیں

کیا امریکہ کو افغانستان میں قیام امن سے دلچسپی نہیں

امریکہ کا اگلے ماہ روس کے شہر ماسکو میں افغان امن کانفرنس میں اعتماد میں نہ لئے جانے کا بہانہ کرکے شرکت سے انکار افغانستان میں قیام امن کی مساعی سے لا تعلقی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ کانفرنس میں پاکستان' چین' افغانستان' ایران اور بھارت سمیت کئی وسطی ایشیائی ممالک شرکت کریں گے جس میں اگر امریکہ بھی شریک ہوتا تو افغانستان میں قیام امن میں مدد گار ہوتا۔ ہمارے تئیں اب تو اس معاملے میں امریکہ ایک غیر جانبدار ملک نہیں بلکہ افغانستان کی بگڑتی صورتحال کاذمہ دار فریق بن چکاہے جبکہ عالمی حالات اور جغرافیائی صورتحال اور اس کی نوعیت کو مد نظر رکھا جائے تو پاکستان' چین' ایران اور بھارت بھی معاملے کے حل میں موثر کردار کے حامل ممالک ہیں جو اگر مل بیٹھ کر سنجیدگی کے ساتھ مسئلے کا حل نکالنا چاہیں تو قابل قبول فارمولہ دے سکتے ہیں۔ البتہ بہر حال معاملے کے اصل فریق افغان حکومت اور عوام ہی ہیں جن کو اولاً اپنے داخلی معاملات پر اتفاق رائے حاصل کرنا ہے محولہ ممالک ایسا کرنے میں ان کی مدد کرسکتے ہیں اور ضرورت پڑے تو ضامن کاکردار ادا کرسکتے ہیں۔ ماسکو کانفرنس میں امریکہ کی جانب سے شرکت سے انکار کے باوجود بھی کانفرنس ناکام تو نہیں ہوگی لیکن شاید زیادہ موثر ثابت نہ ہو۔ اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی اور امریکی مفادات کی وابستگی از خود ایک بڑا مسئلہ ہے جو افغانستان کے لئے مشکلات کا باعث ہے جب تک امریکی فوج افغانستان میں موجود ہے طالبان کا مذاکرات کی میز پر آنا مشکل بلکہ نا ممکن ہے۔ طالبان بار بار اعلان کرچکے ہیں کہ وہ غیر ملکی فوجیوں کے ہوتے ہوئے کسی مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہوں گے۔ امریکہ کو اگر افغانستان میں قیام امن مطلوب ہے تو اسے چاہئے کہ وہ افغانستان میں اپنے ساز گار حالات کے مواقع پیدا کرے کہ افغان ملت باہم بیٹھ کر اپنے داخلی مسائل کے حل پر کسی فارمولے پر اتفاق رائے کرسکے۔ امریکہ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرلینی چاہئے اور ماسکو میں افغانستان پر کانفرنس میں شرکت کرکے اسے مضبوط اور موثر بنائے تاکہ خطے کے ممالک بشمول افغانستان کسی ایسے فارمولے پر پہنچ سکیں جس کے نتیجے میں افغانستان میں امن بحال ہو۔

متعلقہ خبریں