آئندہ انتخابات میں پس منظر کا عمومی بیانیہ

آئندہ انتخابات میں پس منظر کا عمومی بیانیہ

پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کے امریکہ میں مامور کردہ پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے چند روز پہلے واشنگٹن پوسٹ میں جو مضمون شائع کیا تھا بظاہر اس کا مقصد امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ اور امریکہ کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنا تھا لیکن اس کا جواز پیش کرنے کے لیے ہزاروں امریکیوں کو سرکاری دستور العمل سے انحراف کرتے ہوئے ویزے جاری کرنے کی جو کارگزاری انہوں نے بیان کی ہے اس نے عین متوقع طور پر پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ ملک کی سیاسی سرگرمی آج کل خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا پر ہو رہی ہے۔ چند سو اینکر ' مبصر ' تجزیہ کار اور کالم نویس قوم کو سیاسی آگاہی فراہم کرنے اور سیاسی رخ متعین کرنے کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں۔ ایسے مطالبات بھی سامنے آئے کہ حسین حقانی اور سابق صدر آصف علی زرداری پر مقدمہ چلایا جائے۔ اس دوران ایک خط منکشف ہو گیا جس کے مطابق حسین حقانی کو امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کی ہدایت یا اجازت اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے دی تھی۔ یوسف رضا گیلانی پہلے ہی سوئس حکومت کو اس وقت کے صدر آصف زرداری کے اثاثوں سے متعلق خط نہ لکھنے کی پاداش میں وزارت عظمیٰ سے محروم ہو چکے ہیں۔ اب ان کے پاس پارٹی پر قربان کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وفاداری پکی کرنے کا موقع ضرور ہے کہ وہ یہ ذمہ داری قبول کریں۔ انہوں نے ملتان میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ حسین حقانی کو خط لکھنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کیا۔ نہ یہ بتایا کہ ان کا حقانی کو خط لکھنے کا فیصلہ صرف ان کا اپنا تھا یا پارٹی کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس خط کا جواز پیش کرتے ہوئے صیغہ ماضی شکیہ کا سہارا لیا اور کہا کہ حسین حقانی کی کارروائی سے سفارت خانے کے ذمہ دار افسر آگاہ ہوں گے اور اسی قسم کی اور باتیں۔ ان کا دفاع کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر میدان میں آ گئے ہیں۔
وہ بھی کم و بیش ایسی ہی باتیں کر رہے ہیں کہ سفارت خانے میں وزارت خارجہ کے حساس اداروں کے ذمہ دار افسر ہوتے ہیں ، سب کچھ ان کے علم کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا خط کس نے افشا کیا جس نے ہزاروں امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کی ذمہ داری صرف یوسف رضا گیلانی پر ڈال دی جس طرح سوئس حکام کو خط لکھنے سے انکار کو اس وقت کی حکومت اور پارٹی کی اعلیٰ کمان کا فیصلہ ہونے کی بجائے محض فردِ واحد اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ذمہ داری قرار دیا گیا تھااور انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ سے دستبرداری قبول کر لی۔ فرحت اللہ بابر نے اور بھی سوال اُٹھائے ہیں کہ ان کی پارٹی کے سابق دورِ حکومت سے پہلے فوجی حکمران صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب امریکہ کو شمسی ایئربیس آپریشن سونپ دیا گیا تھا تو اس ہوائی اڈے سے کتنے امریکی بغیر ویزے کے پاکستان آئے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اسامہ بن لادن جسے بین الاقوامی مفرور قرار دیا جا چکا تھا پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت سے پہلے کس طرح پاکستان میں (بغیر ویزے کے) آیا اور کئی سال تک مقیم رہا۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ جاری کر دی جائے جس سے ان سوالوں کا جواب سامنے آ جائے گا۔
استدلال یہ ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں کئی ہزار امریکیوں کو سرکاری دستور العمل سے صرف نظر کرتے ہوئے ویزے جاری کیے گئے تو پیپلز پارٹی کے اس دورِ حکومت سے پہلے دورِ حکومت میں بھی امریکی پاکستان میں دندناتے پھرتے تھے۔ بات تو ٹھیک ہے۔ لیکن ان دونوں ادوار میں فرق ہے۔ پہلے دور حکومت کو غیر جمہوری اور آمرانہ دور کہا جاتا ہے اور پیپلز پارٹی کے سابقہ دورِ حکومت کو جمہوری کہا جاتا ہے۔ آصف علی زرداری اس کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی نے جمہوریت کی خاطر دھاندلی زدہ انتخابات کے نتائج کو تسلیم کیا اور ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی کا کارنامہ انجام دیا۔ پہلے دور کے آمرانہ اور دوسرے دور کے جمہوری ہونے کے باعث ایک دوسرے کے برعکس ہونے کے باوجود امریکی ویزوں کے بارے میں مماثلت کا جواز انہوں نے نہیں بیان کیا۔اب وہ ایک عرصہ تک بیرون ملک مقیم رہنے کے بعد پاکستان واپس آ گئے ہیں اور جمہوریت کے تسلسل کی خاطر زور وشور سے آئندہ انتخابات کی تیاری کا اعلان کر رہے ہیں۔حسین حقانی کے مضمون کے شائع ہونے کے چند دن بعد ان کا بھی ایک مضمون ایک امریکی جریدے میں شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی میدان میں تعاون جاری رکھے اور وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں کہا ہے کہ وہ آمرانہ رویے پرعمل پیرا ہیں۔ پاکستان میںمسلم لیگ ن کی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ دکھائیں گے کہ انتخاب کیسے لڑا جاتا ہے۔ حالانکہ انتخابات سے متعلق طریقہ کار ان کا بھی وہی ہے جو مسلم لیگ ن کا ہے جس میں ووٹ حاصل کرنے کی ذاتی صلاحیت کے حامل لوگوں کو پارٹی ٹکٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ لیکن عام انتخابات کی تیاری کے حوالے سے انہوں نے حسین حقانی کے مضمون ، خود اپنے مضمون اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خط کی اشاعت کے ذریعے آئندہ انتخابات کے دوران عمومی بیانیہ میں ایک بڑی تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے۔ اب عام بحث یہ ہو گی کہ ملک کی سلامتی کے تقاضوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے کون بڑا امریکہ نواز ہے سابق فوجی حکمران ، پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن۔ اس طرح آئندہ انتخابات میں بحث پاناما لیکس' سوئس اکاؤنٹس اور کرپشن سے ہٹ جائے گی لیکن اس سے تو مسلم لیگ ن کو بھی فائدہ پہنچے گا! ۔

متعلقہ خبریں