سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کیجئے ، صاحبان !

سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کیجئے ، صاحبان !

پانامہ کیس کا فیصلہ کتنا دور ہے اور کتنا قریب یہ سوال ان دنوں ہر شخص دریافت کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے پانچ پیاروں کی پریس کانفرنس اور بیانات تو یہ بتاتے ہیں کہ غلام دوڑ رہے ہیں مشعلیں بجھا نے کو مگر اس کے بیچوں بیچ پیپلز پارٹی کے پچھلے دور میں امریکیوں کو دیئے گئے ویزوں اور اسامہ بن لادن کے خلاف ہوئے ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے درمیان نیا میدان جنگ تیا ر بلکہ شہسوار اپنے اپنے ''فن ''کا مظاہر ہ شروع کر چکے ۔ کیا یہ اصل مسئلہ (پانامہ کیس ) سے تو جہ ہٹانے کی شعوری کوشش ہے ؟ کیا پیپلز پارٹی اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات سوفیصد نہیں ہوپائے یا پھر مسلم لیگ (ن) پنجاب میں پاکستا نیت اور اسلامیت پر ستی کا سودا فروخت کر کے سیاسی زندگی حاصل کرنا چاہتی ہے ؟ آگے بڑھتے ہیں مگر ایک چھوٹی سی بات پر غور کرلیتے ہیں ۔ پنجاب کے جس بڑے میڈیا ہائوس کے مالکان کے ساتھ مستقبل کی شراکت داری کے حوالے سے شریف فیملی کے ایک حصے کے معاملات طے پا چکے ہیں وہ طے شدہ معاملات کے مطابق ہی خارجہ امور کے فقط ان تجز یہ کاروں سے امریکی ویزوں ، اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن سمیت متعلقہ امور پر آراء لے رہا ہے تا کہ پنجاب کے لوگوں کی ذہن سازی کی جاسکے ؟ ۔ میرا جواب اثبات میں ہے مستقبل کی شراکت داری کے تحفظ کی جنگ کا جس طور آغاز ہوا ہے وہ فیشنی سیاست کا حصہ نہیں لگتا ۔ یہاں ایک اور نکتہ قابل غور ہے ۔ مسلم لیگ کے راولپنڈی سے سابق رکن قومی اسمبلی اور سابق سینیٹر سید ظفر علی شاہ امریکیوں کے ویزوں کے سوال کو لے کر عدالت کا رخ کرچکے ہیں اور ان کی استدعا یہ ہے کہ حسین حقانی ، صدر زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ شاہ جی نے یہ درخواست ''اُن'' کے کہنے پر دی ہے جن کے کہنے پر انہوں نے 1999ء میں نواز شریف حکومت کے خاتمے کے خلاف درخواست دائر کی تھی اور فیصلہ اقتدار پر قبضہ کرنے والے جنرل پرویز مشرف کے حق میں کچھ اس طرح آیا تھا کہ عدالت نے فر و واحد کو آئین میں ترامیم تک کے اختیارات بھی عطا کر دیئے تھے ۔
جس بنیادی سوال کو ہم سب نظر انداز کرر ہے ہیں وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کیخلاف 9/11کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں پاکستان بطور ریاست امریکہ کا اتحادی اور نیٹوکی رکنیت کے بغیر مدد گار بننے سے پاکستان پابند تھاکہ امریکی مفادات کے تحفظ کی نگرانی کرنے والے حکام کو پاکستان کے ویزے بلا چُوں چراں جاری کرے ۔ ڈرون حملوں کی طرح کایہ معاملہ بھی عالی جناب جنرل پرویز مشرف نے طے کیا اور ان کے دور میں اس پر خوش اسلوبی سے عمل ہوتا رہا ۔ امریکی ایف بی آئی نے مشرف دور میں القاعدہ کے بعض ذمہ داران کی گرفتاری کے لئے لاہور ، فیصل آباد ، شیخو پورہ ، راولپنڈی اور فیصل آباد کے علاوہ لاہور میں تو باقاعدہ دفترکھول رکھے تھے ۔ جنرل پرویز مشرف پر انگلی اٹھانے کی جرات نہ کرنے والے اب پیپلز پارٹی پر قومی مفادات کی غداری کا الزام لگا رہے ہیں ۔ کیا ایک سادہ سا سوال دریافت کیا جا سکتا ہے ۔ یہ قومی مفادات ہیں کیا اور کب کس نے کہا ں طے کیئے ؟ حتمی سوال یہ ہے کہ جولائی 1977ء کے بعد پاکستان میں آزاد خارجہ پالیسی کا رواج کب ہوا اور کب دفتر خارجہ نے پارلیمنٹ کے تعاون سے ایک مربوط اور طویل المدتی خارجہ پالیسی وضع کی؟۔ان تلخ حقائق کی موجودگی میں اگر سیاستدانوں کو قومی مفادات کی گُلی ڈنڈا کھیلنے اور غداری کے الزامات لگانے کا شوق ہے تو خوشی کے ساتھ پورا کریں ۔ مگر جن بنیادی سوالات کا جواب عشروں سے اس ملک کے عوم مانگ رہے ہیں ان کا جواب بھی دیں ۔ ان میں اولین سوال یہ ہے کہ القاعدہ یا دوسری دہشت گرد تنظیموں کے جو لوگ دنیا کو مطلوب ہوتے ہیں وہ پاکستان سے کیوں برآمد ہوتے ہیں ؟ القاعدہ او ردوسری دہشت گرد تنظیموں کے انتہائی مطلوب افراد پاکستان کی جس مذہبی سیاسی جماعت کے لوگوں کے گھروں سے پکڑے گئے اس مذہبی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کیو ں نہ کی گئی ۔ کیا کوئی سیاسی حکومت اقتدار کے اصل مالکوں کی مرضی کے بغیر فیصلہ سازی میں آزاد ہے ؟ آسانی کے ساتھ سمجھ میںآنے والا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں جو دکھتا ہے وہ ہے نہیں جو ہے وہ دکھتا نہیں ۔ ثانیاً یہ کہ اقتدار کے چوتھے سال کے اختتام کے قریب مسلم لیگ اور اس کے دستر خوان پر پھلنے والوں کو اچانک کیوں یاد آیا کہ پیپلز پارٹی تو غداری کی مرتکب ہو چکی ۔ چارسال تک ان غداروں کے ساتھ مل کر جمہوریت بچانے کے ہلارے لینے والے خود کتنے محب وطن ہیں ۔ معاف کیجئے گا حب الوطنی اور غداروں کا یہ لاہوری کم اسٹیبلشمنٹی کھیل اب بند ہونا چاہیئے ۔ جسے بہت زیادہ زعم حب الوطنی ہے وہ فوری طور پر ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے لائے ۔مکرر عرض ہے کہ جو معاملات سنجیدہ اقدامات کے متقاضی ہیں انہیں چوراہوں پر اچھالنے اور سیاست کرنے کی ضرورت نہیں ۔ لاریب مسلم لیگ (ن) کے مالکان اور حکومت دونوں دبائو میں ہیں مگر اس دبائو کو زائل کرنے کے لئے 1980اور 1990ء کی دہائیوں کی طرح غداروں کا کھیل کھیلنے سے بہت نقصان ہوگا ۔ اس لئے تحمل او ر ذمہ دارانہ طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے ۔ کیا ہم امید کریں کہ ان معرو ضات پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے گا ؟۔

متعلقہ خبریں