مالی امداد کی انوکھی درخواست

مالی امداد کی انوکھی درخواست

اردو فلموں کی ایک ممثلہ جو آئے دن سکینڈلز کی زد میں رہتی ہیں جن میں ہمیشہ ان کی شادی ہونے یا نہ ہونے کا ذکر ہوتا ہے غالباً آج کل بھی لاہور کی کسی عدالت میں ایک مقدمہ زیر سماعت ہے جس میں کسی کھاتے پیتے تاجر نے ان پر اپنی منکوحہ ہونے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے امریکہ میں مقیم کسی پرائیویٹ ائیر لائن کے پائلٹ سے ان کا رشتہ ٹوٹنے اور جڑنے کی خبریں نمایاں رہیں۔ ہمیں ان کی نجی زندگی سے کیا لینا دینا۔ لیکن جب یہ تمام اور اس طرح کی دوسری اداکارائوں کے بارے میں اطلاعات میڈیا پر اچھالی جاتی ہیں تو پھر ہمارا بھی ان پر تبصرہ کرنے کو جی مچلنے لگتا ہے۔ مثلاً نجی پرائیویٹ چینلز اور اخبارات میں یہ خبر نمایاں رہی کہ وینا ملک نام کی ایک ممثلہ نے جن کی دو سال پہلے دبئی میں ایک تاجر سے بڑی دھوم دھام سے شادی ہوئی تھی لاہور کی کسی عدالت میں اپنے شوہر سے خلع لینے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔ عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دائر کردیا کیونکہ ان کے شوہر نے اس کی پیروی نہیں کی تھی۔ پھر کچھ علماء کرام نے یہ رشتہ ٹوٹنے کا نوٹس لیا۔ کراچی کے ایک مفتی صاحب نے دونوں کو طلب کیا۔ ان کے درمیان صلح صفائی کی باتیں ہوئی جو کامیاب ہوگئیں اور ایک بار پھر میاں بیوی نے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کیس میں ایک دوسرے عالم نے بھی ذاتی دلچسپی لی۔ دیکھتے ہیں اب یہ گاڑی مزید کتنے دنوں تک چلتی ہے۔ یاد رہے کہ اس شادی کا بھی ٹی وی چینلز پر ایک ہنگامہ برپا تھا۔ میاں بیوی کے انٹرویوز نشر ہو رہے تھے ان سے متوقع اولاد کی تعداد پوچھی جا رہی تھی۔ دونوں کے درمیان محبتوں کے رنگ سامنے لائے جا رہے تھے اور پھر ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر اس شادی کی رخصتی کا منظر دوبارہ ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا تو دینی حلقوں نے اس پر بڑی لے دے کی۔ اس پرائیویٹ چینل کو تنبیہہ کی گئی اس پر جرمانہ عائد ہوا۔ پروگرام کی خاتون اینکر پرسن کو جو خود بھی بفضل تعالیٰ دو بار مطلقہ ہیں' بیرون ملک جان بچا کر بھاگنا پڑا۔ لگتا ہے دینی حلقوں نے انہیں معاف کردیا اور اب پھر ٹی وی پروگراموں میں مصروف ہیں۔ ایان علی کا معاملہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ اس کیس کی تفصیلات نے جو پرائیویٹ چینلز پیش ہوتی رہیں ناظرین کو دو سال تک مصروف رکھا۔ اب یہ کیس کس مرحلے میں ہے ہمیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں البتہ ایان علی بوریا بستر باندھ کر بیرون ملک رخصت ہوچکی ہے اور وہ انسپکٹر جو اس کیس کی انکوائری کر رہا تھا وہ بھی دنیا میں موجود نہیں۔ خیر یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جسے کسی دوسرے وقت کے لئے اٹھائے رکھتے ہیں فی الوقت تو یہ بتانا مقصود تھا کہ ہم نے زیر نظر تحریر کے آغاز میں جس ممثلہ کاذکر کیا تھا انہوں نے ایک اخباری اطلاع کے مطابق پنجاب کے خادم اعلیٰ سے کہا ہے کہ وہ پاکیزہ بننا چاہتی ہیں اور انہیں پاکیزہ زندگی بسر کرنے کے لئے دو لاکھ روپے ماہانہ اورایک کروڑ یک مشت ادا کئے جائیں۔ انہوں نے اس مالی امداد کے لئے یہ جواز پیش کیا ہے کہ ملک کی فلمی انڈسٹری پر زوال کیا آیا کہ میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئی ہوں۔ گاڑی وغیرہ سب کچھ بیچ چکی ہوں اور اب لاہور کے گلی کوچوں میں پیدل جوتے چٹخاتے پھر رہی ہوں۔ اخبار کے کلچر رپورٹر نے اس خبر پر یہ حاشیہ آرائی کی ہے کہ ممثلہ نے اپنی غربت کی جو کہانی سنائی ہے اس کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے دو گھر ڈیفنس اور ایک دوسرے کسی ٹائون میں ہے۔ ہسپتال کے نام پر بھی اس نے اندرون ملک اور بیرون ملک لاکھوں روپے اکٹھے کئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ میڈیا کے سامنے خود کو انتہائی غریب ظاہر کرکے حکومت سے مالی امداد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اصل حقیقت کیا ہے ہم اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ خادم اعلیٰ جو غریب و نادار لوگوں کی سرپرستی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں اب انتظار اس بات کا ہے کہ وہ اس ممثلہ کی جوانی پر رحم کھاتے ہوئے اس پر کب توجہ دیتے ہیں۔ دیتے بھی ہیں یا نہیں ' یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس ممثلہ کی گزشتہ خدمات جو سکینڈلز ہی کی صورت میں ہی کیوں نہ ہوں پیش نظر رکھتے ہوئے دو لاکھ روپے ماہانہ وظیفہ کا پروانہ جاری کردیں۔ شنید ہے کہ خادم اعلیٰ بڑے رحم دل واقع ہوئے ہیں اور وہ ہمیشہ ضرورت مندوں کو سایہ عاطفت میں لینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اس کیس میں تو ایک جواں سال ممثلہ از خود مالی امداد کی استدعا کر رہی ہے اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا ایک ایسا معاملہ ہے جو میرٹ کی بنیاد پر ان کی توجہ کا مستحق بن سکتا ہے۔ البتہ خدشہ ہمیں اس بات کا ہے کہ ممثلہ کو مالی امداد کی یہ اکلوتی مثال قائم کردی گئی تو ان کے نام درخواستوں کا ایک ایسا طومار بندھ جائے گا جسے سنبھالنا ان کے لئے ایک نا ممکن بات ہوگی۔ ہم سن رہے کہ پاکستان کی فلمی صنعت کا پھٹہ بیٹھ چکا ہے چنانچہ فی الوقت فارغ اور بے کار ممثلائوں کی جانب سے ان کے سامنے مالی امداد کی درخواستوں کا انبار لگ جائے گا اور پھر ممکن ہے کہ وہ اس کے لئے ایک علیحدہ وزارت قائم کردیں اور اس کا چارج اپنے پاس رکھ کر فارغ خواتین فنکاروں کی مالی امداد کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر شروع کردیں۔ کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر نے جب ملک میں موسیقی پر پابندی لگا دی تو اس وقت کے فنکاروں نے آلات موسیقی چار پائیوں پر لادے' ان پر سفید چادر پھیلائی اور بین کرتے ہوئے ان کے محل کے سامنے سے گزرنے لگے۔ بادشاہ کے پوچھنے پر بتایاگیا کہ فنکار اور ممثلائیں آلات موسیقی کے جنازے پر سینہ کوبی کر رہے ہیں۔ بادشاہ نے کہا' اس مردے کو دفن کرنے کے لئے اتنا گہرا گڑھا کھودا جائے کہ یہ دوبارہ باہر نہ نکل سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فلم انڈسٹری سے مستقل طور پر نجات حاصل کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہوسکتا ہے تاکہ کسی فارغ ممثلہ کو آئندہ کے لئے مالی امداد کی توقع ہی نہ رہے۔

متعلقہ خبریں