اعلیٰ تعلیم کا المیہ اور پاکستان کا مستقبل

اعلیٰ تعلیم کا المیہ اور پاکستان کا مستقبل

دنیاکی اقوام کو تعلیم اور اس کی اہمیت اور قوت کا اندازہ باضابطہ طور پر اُس وقت ہوا جب اسلام اور مسلمان یورپ پہنچے ۔ تب دنیا کو پتہ چلا کہ تعلیم ہی ترقی کی بنیاد اور پہلی سیڑھی ہے لیکن مسلمانوں کے لئے تو تعلیم کا حصول فرض کی حیثیت رکھتا ہے ۔ وحی کی پہلی آیت اس بات کا ثبوت ہے اور تقاضا کرتی ہے کہ کوئی مسلمان ان پڑھ نہیں ہو سکتا ۔ لیکن آج کل تو دنیا کی ساری اقوام کے لئے تعلیم اور بالخصوص اعلیٰ تعلیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کی مثال کسی بھی قوم کے لئے وہی حیثیت رکھتی ہے جو ایک صحت و توانا جسم کے لئے صاف و صحت مند خون کی ہوتی ہے اعلیٰ تعلیم اقوام کو وہ قوت و طاقت مہیا کرتی ہے جس کے ذریعے وہ ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے بطور زینہ استعمال کرتی ہیں ۔آج جو قومیں اعلیٰ تعلیم میں آگے ہیں وہی ترقی یافتہ ، عزت مند اور غالب ہیں ۔ جس ملک میں سکول ، کالج اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور اُن میں طلبا ء کے لئے ریسرچ و تحقیق اور تخلیق کے مواقع میسر آتے ہیں ، اُن ہی اقوام کو ہسپتالوں ، تعلیمی اداروں اور حکومت و ریاست اور انتظامی دفاتر اور عدلیہ وغیرہ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ محققین اور افرادی قوت میسر آتی ہے اور اس کے ذریعے کسی ملک کی نالج اکانومی میں تیز رفتار اضافہ ہو تا ہے ۔ موجودہ دور میں ہر قوم کی سربلندی اور اعلیٰ تعلیم کی گہرائی اور گیرائی کا انحصار اسی کے مرہون منت ہے ۔ دنیا میں سائنسی ترقی سے اقوام اور معاشروں کی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی علوم اور تہذیب و تمدن میں ہوش ربا تبدیلیاں و قوع پذیر ہو چکی ہیں۔ اسی گلوبل ترقی کے اثرات ہمارے معاشروں پر مرتب ہورہے ہیں اورپاکستان میں بھی گزشتہ پندرہ بیس برس میں کافی ترقی ہوئی ہے اور اعلیٰ تعلیم کو بھی مقدار ی لحاظ سے بہت فروغ ہوا ہے ۔ میرے خیال میں پاکستان کے دور افتادہ مقامات بھی بغیر سکولوں کے نہیں رہے ۔ کالجز کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوا ہے ۔اس کے علاوہ اور بہت سارے ادارے ہیں جو ان جامعات سے منسلک ہیں ۔اس وقت وطن عزیز میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ان اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر داخلوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور بی اے ، بی ایس اور ایم اے وغیرہ میں تو بلا مبالغہ لاکھوں میں ہے ۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تقریباً سارے بڑے شہروں میں پبلک اور پرائیویٹ دونوں قسم کی جامعات کے الحاقی (Affilliated)اداروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ یہ ادارے خالص تجارتی بنیادوں پر کمپیوٹر سائنس ، سوشل سائنز اور بی بی اے ، ایم بی اے وغیرہ جیسے پروگرام مارننگ شفٹ کے ساتھ ساتھ ایوننگ میں بھی دھڑا دھڑ چلا رہے ہیں ۔ جامعات نے پیسہ کمانے کی غرض سے چھوٹے ضلعی ہیڈ کواٹرر تک میں اپنے کیمپس کھولے ہیں ۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور کالجوں اور سکولوں کے درمیان مقابلے جاری ہیں اور میڈیا کے ذریعے اشتہارات کی جنگ جیت کر اپنی کامیابی کے دعوئوں کے ذریعے ایک خلق خدا کو اپنے دامن میںسمیٹے ہوئے ہیں ۔ اس میں ایک ستم ظریفی یہ بھی ملا خطہ کرنے کے قابل ہے کہ یونیورسٹی میں (الا ما شا ء اللہ ) سب سے تگڑا شعبہ اسلامیات ہی کا نکلتا ہے کہ وہاں دھڑا دھڑ ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلے لیکر ڈگریاں پار ہے ہیں ۔ اچھا ہو اکہ HECنے ایم فل ختم کرلی اور دلدرکم ہوا اور یارلوگوں کو اب ڈائریکٹ پی ایچ ڈی میں داخلے ملتے ہیں ۔ اور اب ایم فل کے ذریعے معیار کا جو تھوڑا بہت بھرم قائم تھا وہ بھی گیا اکثر اداروں میں شام کے وقت ہفتہ اتوار کو کلاسیں ہوتی ہیں ،اس طرح ہمارے نوکر پیشہ حضرات کو ڈگریاں حاصل کرکے مزید ترقی پانے کے مواقع ہاتھ لگتے ہیں ۔ کسی نے کبھی سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے کہ جو ملازم چار بجے تک دفتر میں بھلے سے بغیر کام بھی صرف بیٹھ کر کلاس میں آیا ہو ، وہ مزید دو تین گھنٹے کر سی پر بیٹھ کر دھیان وتوجہ سے کوئی لیکچر سن سکے گا (بشرطیکہ وہاں کوئی استاد میسر آئے ) وطن عزیز میں ہر طرف پھیلتے تعلیمی ادارے (جامعات )اور ان کے سب کیمپس کاش واقعی پاکستانی قوم کی علمی پیاس بجھانے کا کام کرتے یہاں تو پبلک اور پرائیویٹ جامعات نے باقاعدہ پارٹنرشپ کر کے محض پیسہ بٹورنے کے حیلے وضع کئے ہیں جو ملک میں اعلیٰ تعلیم کا ستیا ناس کر رہے ہیں ۔ HECاگرچہ قانون سازی کر کے اور (QEC)اور Quality Assuranceجیسے سیل اور اداروں کے ذریعے کوشاں ہے لیکن سینہ زوری کے سامنے بند باند ھنا جان کھوں کا کام ہے ،جس ملک میں ایم بی بی ایس کی ڈگریاں تھرڈ کلاس میڈیکل کالجوں کے ذریعے بانٹی جارہی ہوں جس پر اس قوم کی صحت و جان کا دارومدار ہے وہاں کسی اور ڈگری کا کوئی کیا رونا ۔لیکن سوچنے کی بات اور المیہ یہ ہے کہ آئندہ عشروں میں جب اس قسم کے اداروں سے نکلنے والی نالائق و نااہل نسلیں ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گی تو کہیں وہ منظر واقعی نہ دیکھنا پڑے کہ
برباد گلستان کرنے کو ایک ہی اُلو کافی ہے
ہر شاخ پر اُلو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا

متعلقہ خبریں