قصۂ عہد ستم

قصۂ عہد ستم

23مارچ کو اسلام آباد شکرپڑیاں گرائونڈ میں روایتی فوجی پریڈ اور دفاعی ساز وسامان کی نمائش کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے ۔اس موقع پر وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف ،بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں نے شرکت کی ۔پریڈ میں چین ، سعودی عرب ،ترکی اور روس کے فوجی دستوں نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی جو دنیا اور خطے میں پاکستان کو تنہا کرنے کے بھارتی دعوؤں کا مذاق تھا۔ 23مارچ وہ تاریخی دن ہے جب اسلامیان ِبرصغیرنے لاہور کے منٹو پارک میں جمع ہو کر ایک ایسے الگ وطن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا جہاں وہ اپنی تہذیبی،ثقافتی اور دینی روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اپنی پسند کا نظام حکومت تشکیل دے سکیں۔چونکہ حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اس جلسے کی صدارت کی تھی اس لئے منٹو پارک اب اقبال پارک لاہور کے نام سے مشہورہے اور یہاں ایک طویل القامت مینار اسلامیان برصغیر کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جسے مینار پاکستان کہا جاتا ہے۔اس دن کی یاد میں 23مارچ یوم پاکستان کے طور منایا جاتا ہے اور اس دن ریاست پاکستان ایک فوجی پریڈ منعقد کر کے ریاست کی ترقی ،وجود اور دبدبے کا اظہار کرتی رہی ہے ۔اس تقریب میں کسی نہ کسی بیرونی سربراہ مملکت کو شریک کرکے تقریب کی رونق کو دوبالا کرنا بھی ایک ثقہ روایت رہی ہے۔بدقسمتی سے پاکستان جب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر امریکی جنگ میں الجھ گیا تو اس ملک کے عسکری اتحادی پورس کے ہاتھی بن کر اس ملک کو ہی کچلنے اور روندنے لگے ۔جس کے بعد ملک میں دہشت گردی کا ایک سیلاب سا آگیاشہر محفوظ رہے نہ دور دراز قصبات،تعلیمی ادارے بچے نہ مساجد،درگاہیں،بازار محفوظ رہے نہ سڑکیں۔دہشت اور وحشت کی ایک آندھی تھی جو ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی ۔ریاست کو اپنے وجود کے لالے پڑگئے تھے ۔چہار سو ایک شور محشر برپا تھا کہ کان پڑی آوازسنائی نہیں دے رہی تھی۔اس صورت حال میں یوم پاکستان کی روایتی فوجی پریڈ کو منانے کا روایتی انداز تبدیل کرنا پڑا کیونکہ فوجی پریڈ کے انتظامات کا سلسلہ وسیع ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہزاروں افراد کسی نہ کسی طور سے منسلک ہوتے ہیں جن میں صرف فوجی ہی نہیں سویلینز بھی شامل ہوتے ہیں۔ملک کو اس حال تک پہنچانے کا ذمہ دار کون تھا ؟ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا محرک کون تھا ؟اس کا واضح جواب کسی کے پاس نہیں تھا ۔حکمران طبقات اور رائے عامہ تقسیم اور کنفیوژن کا شکار تھی۔دہشت گرد روز بروز حوصلہ پکڑ رہے تھے وہ ریاست پر قبضے کے منصوبے بنا رہے تھے ۔ایک طرف اپنے معاشرے کے بگڑے ہوئے لوگ تھے تو دوسری طرف ریمنڈ ڈیوس طرح کی پراسرار بیرونی مخلوق ریاست کے اندر ریاست بنانے کی حکمت عملی پر کاربند تھی۔پاکستان ایک ملک کی شناخت کھو رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ کوئی کارواں سرائے ہے جہاں کسی ازبک ،چیچن کا جی چاہے منہ اُٹھا کر چلا آئے اور کسی امریکی اور یورپی کا من کرے تو سفارتی ویزہ لئے دندناتا ہوا ملک میں داخل ہوجائے۔دنیا کی کسی منظم ریاست میںیہ تماشا نہیں ہوتا جس کاسامنا پاکستان کو رہا ۔اس صورت حال کی بھاری قیمت پاکستانی عوام اور افواج نے چکائی ۔آپریشن ضرب عضب کے نام سے فوج نے ایک آپریشن شروع کیا تو سیاسی قیادت اور حکومت نے اس آپریشن کو اوونر شپ دی ۔جس کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کے نام سے ہمہ جہتی منصوبہ شروع ہوا۔اس کے بعد دہشت گردوں کو ان کے گھروں اور ٹھکانوں میں جالینے کا عمل شروع ہوا ۔اس سے پہلے کہ وہ پاکستان کے گھروں اور بازاروں میں آکر پھٹنے لگتے پاک فوج کے جوانوںنے انہیں وہیں جا لیا ۔ سینکڑوں دہشت گرد مارے گئے ۔ سینکڑوں زخمی ہوگئے ۔ایک معمولی تعداد ڈیورنڈ لائن عبور کرکے افغانستان میں پہنچ گئی ۔یوں حکومت اور ریاست کی رٹ قائم ہوتی چلی گئی ۔جو ریاست سال بھر پہلے مجبور ولاچار اور بے بسی کی تصویر بن کر حالات زار پر فریاد کناں تھی اب ایک نئی انگڑائی لے چکی ہے۔دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کو دنیا بھر میں مذاق اور تماشا بنا دیا گیا تھا آج وہ ریاست اپنی رٹ کو چیلنج کرنے والے ہر گروہ کو وہ شہری ہویا دیہی ،پہاڑی ہو یا میدانی ،لسانی ہو یا مذہبی سبق سکھا رہی ہے ۔اس آپریشن کے اثرات جلد ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔اب یہی آپریشن رد الفساد کے نئے نام کے ساتھ جاری ہے ۔دہشت گردی کا فوری خاتمہ تو شاید ممکن نہ ہومگر پاکستا ن بطور ملک اور بطور ریاست جینے کی امنگ کے ساتھ آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے ۔پاکستان کو خلفشار زدہ ملک بنانے اور اس کی آڑ میں اسے ایٹمی طاقت سے محروم کرنے والے پاکستان کی نئی انگڑائی کو دیکھ کر دنگ رہ گئے ہیں ۔اس تبدیلی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اب تین سال سے یوم پاکستان پوری آن بان اور شان کے ساتھ کھلی فضائوں میں منایا جا رہا ہے ۔یہ حالات میں تبدیلی کا ایک واضح ثبوت ہے ۔پاکستان کے امن کی راہوں پر گامزن ہونے کا پتہ دیتا ہے ۔یہ ایک امید افزا صورت حال ہے ۔اس دن کے لئے پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔اس دن فقط یہی کہا جا سکتا ہے
وہ دن بھی آہی گیا جس کی آس پر برسوں
تیرے شہید الجھتے رہے اندھیروں سے

متعلقہ خبریں