مشرقیات

مشرقیات


سیدالتابعین حضرت خواجہ حسن بصری علیہ الرحمتہ نے ایک غلام خریدا۔ اس سے پوچھا کہ اے غلام! تیرا کیا نام ہے؟ اس نے کہا: حضور! غلاموں کا کوئی نام نہیں ہوتا' مالک جس نام سے پکار لے وہی اس کا نام ہوتا ہے۔ پھر پوچھا کہ تو کیا کھانا پسند کرتا ہے؟ اس غلام نے کہا کہ حضور! غلاموں کا کوئی کھانا نہیں ہوتا' مالک جو کھلا دے وہی اس کا کھانا ہوتا ہے۔
حضرت حسن نے پوچھا کہ تمہارا بھی کسی چیز کے کھانے کو دل چاہتا ہے؟کہنے لگا: آقا کے سامنے غلام کی خواہش کیا چیز ہے؟ جو آقا کی مرضی ہے وہی غلام کی خواہش ہے۔پھر پوچھا کہ تو کون سا لباس پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا کہ حضور! غلاموں کا کوئی لباس نہیں ہوتا' مالک جو پہنا دے وہی اس کا لباس ہوتا ہے۔اس کا یہ جواب سن کر خواجہ حسن بصری رونے لگے کہ میرا بھی تو میرے مولیٰ کے ساتھ یہی معاملہ ہونا چاہئے۔ فرمایا کہ میں نے تجھ کو آزاد کیا۔ اس غلام نے کہا کہ حق تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
لیکن یہ تو بتائیے کہ کس خوشی میں آپ نے مجھے آزاد کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تو نے مجھے خدا کی بندگی سکھا دی اور اپنے آقا(حق تعالیٰ) کے ساتھ ادب کرنا سکھا دیا۔
اس نے اس پر دو شعر پڑھے:ترجمہ: اگر تیرے کسی بندے کی خدمت مجھ سے پوری پوری ادا ہو جائے تو اس سے بڑھ کر میرے لئے اور کیا نعمت ہوسکتی ہے؟ پس تو محض اپنے فضل سے میری کوتاہی اور غفلت کو معاف کر' اس لئے کہ میں تجھے بڑا محسن اور بڑا رحیم سمجھتا ہوں۔اسی اطاعت اور فرمانبردار ی اپنے مالک حقیقی کی کرنی چاہیئے تاکہ اس کی رضا حاصل ہو جائے اور اس کی رضا ہی اصل کامیابی ہے ۔
(روض الریا حین۔ فضائل صدقات)
حضرت جنید بغدادی کو ایک مرتبہ خلیفہ وقت نے کسی بات پر برہم ہو کر بلا بھیجا۔ حضرت شبلی ساتھ تھے۔ جب رو برو ہوئے تو خلیفہ نے برا بھلا کہنا شروع کیا۔ حضرت شبلی چونکہ نوجوان تھے نیز ان کے پیر کو برا بھلا کہا جا رہا تھا '' آپ کو جوش آیا'' قالین پر ایک شیر کی تصویر بنی ہوئی تھی' آپ نے اس پر نظر ڈالی تو وہ شیر مجسم ہو کر خلیفہ کی طرف خشم آگیں نظر سے دیکھنے لگا' حضرت جنید بغدادی کی جو اس پر نظر پڑی تو آپ نے حضرت شبلی کو گھور کر دیکھا اور اس شیر کو تھپک دیا۔ وہ مثل سابق شیر قالین ہوگیا۔ تھوڑی دیر میں حضرت شبلی نے اشارہ کیا اور پھر مجسم ہو کر سامنے ہوا۔ اس مرتبہ خلیفہ وقت کی نگاہ اس پر پڑی' خوف کے مارے تھرا گیا اور دست بستہ اپنی جرأت کی معافی چاہی۔ حضرت جنید بغدادی نے اس شیر کو مثل سابق کردیا اور خلیفہ وقت سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ کچھ اندیشہ نہ کریں' آپ کو کچھ گزند نہیں پہنچ سکتی۔ آپ خلیفہ وقت ہیں' آپ کی اطاعت اور ادب ہم پر واجب ہے' یہ لڑکا ہے' آداب شاہی سے واقف نہیں ہے' آپ کا جو دل چاہے کہئے۔
(امثال عبرت)

متعلقہ خبریں