کتنی بار کر چکا تو امتحان ہمارا

کتنی بار کر چکا تو امتحان ہمارا

پاک فضائیہ نے بھارتی ائیرچیف کی دھمکیوں کے بعد دفاع وطن اور پاک فضائیہ کی تاریخ دہرانے کیلئے اپنے تمام فارورڈ ایئربیس آپریشنل کردیئے ہیں۔ مختلف جنگی طیاروں کی سیاچن کے قریب پروازیں جاری رہیں۔ایئرچیف مارشل سہیل امان سیاچن محاذ کے قریب اسکردو میں فارورڈ آپریٹنگ بیس پر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے پہنچے ایئر چیف نے نہ صرف فضائی سرحدوں کی حفاظت پر مامور جوانوں کے جذبے کو سراہا بلکہ فارورڈ آپریشنل ایریا میں میراج طیارہ اڑا کر جنگی مشقوں میں حصہ بھی لیا۔یاد رہے کہ بھارتی ایئر چیف مارشل بی ایس دھانوا نے 30 مارچ کو ذاتی حیثیت میں 12 ہزار افسروں کو مختصر نوٹس پر آپریشنز کیلئے تیار رہنے کا خط لکھا تھا جس کے بعد پاک فضائیہ نے بھی مشرقی سرحدوں پر بڑھتے ہوئے خطرات کو بھانپتے ہوئے بھر پور تیاریاں شروع کردیں۔پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان نے کہاہے کہ دشمن نے جارحیت کی تو ہمارا جواب ان کی نسلیں یاد رکھیں گی۔دوسری طرف نیول چیف ایڈمرل ذکا اللہ نے کہا ہے کہ سمندری سرحدوں کی حفاظت کے لئے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے ۔دریں اثناء بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر خنجرسیکٹر میں سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر کی گاڑی کو نشانہ بنایا ۔امریکی انٹیلی جنس چیف نے امریکی کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ بھارت سرحد پار حملوں کو بہانا بناکر پاکستان کے خلاف جارحیت پر اتر سکتا ہے۔امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل وینسنٹ اسٹیوورٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ بھارت، پاکستان کو سفارتی طور پر دنیا سے الگ تھلگ کرنا چاہتا ہے اور اس کیلئے وہ مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور بھارت، اسلام آباد پر سرحد پار دہشت گردی کا الزام لگا کر تادیبی کارروائی کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر فار نیشنل انٹیلی جنس ڈینیل آر کوسٹس نے خبردار کیا کہ ایل او اسی پر دونوں جانب سے فائرنگ کے واقعات میں اضافہ، جس میں مارٹر شیل فائر بھی شامل ہیں، دونوں جوہری ہمسایہ ممالک کے درمیان غیر ارادی جنگ کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔دو روز قبل پاک فوج نے بھارتی آرمی کے ان دعوئوں کی تردید کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک آپریشن کے دوران ہندوستانی فورسز نے ایل او سی پر ایک پاکستانی پوسٹ کو تباہ کیا، ۔ ادھرہندوستان کی کابینہ نے مہنگی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور مقامی سطح پر تیار کردہ اعلیٰ تکنیکی دفاعی آلات کو فروغ دینے کی پالیسی منظور کر لی۔نئے اسٹر یٹجک پارٹنرشپ ماڈل کے تحت حکومت ہندوستانی کمپنیوں کا انتخاب کرے گی جو غیر ملکی آرگنائزیشن کے تعاون سے مقامی سطح پر ہیلی کاپٹر، سب میرین، فائٹر جیٹ اور بکتر بند گاڑیاں تیار کریں گی۔ہندوستان نے ملک میں غیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے فارن انویسٹمنٹ پروموشن بورڈ کو ختم کردیا ہے جس کی بدولت اب غیر ملکی سرمایہ کاری کی منظوری وزارتیں انفرادی سطح پر دے سکیں گی۔یہ ساری صورتحال اس امر کا اندازہ لگانے کیلئے کافی ہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی کی نوعیت کس مقام پر ہے ۔ جوں جوں سی پیک کے منصوبوں پر پیشرفت سامنے آرہی ہے اور پاکستان بھارتی جاسوس کلبھوشن کو انجام تک پہنچا نے کی تیاری میں ہے بھارت پاگل پن کی حدود کو چھو رہا ہے ۔ کشیدگی کی اس فضا میں بھی ایک حلقے کا یہ خیال ضرور ہے کہ پاک بھارت کشیدگی اور کسی حد تک ممکنہ چھیڑ چھاڑ کی حدتک معاملات لیجاکر ایک فضا پیدا کر کے دونوں ممالک اس مسئلے پر کوئی مفاہمت کر سکتے ہیں۔ کشیدگی کا مقصد دونوں طرف کے عوام کے جذبات کامداوا ہوگا۔ بہرحال یہ ایک سطحی نوعیت کا موقف ہے جسے کسی کسوٹی پر پر کھ کر حقیقت اور غیر حقیقی ہونے کی پہچان مشکل ہے۔ فی الوقت کا منظر نامہ دونوں ممالک کے درمیان نہایت کشیدہ ہے ۔ پاک فضائیہ تو کار گل کی جنگ کے دوران اس سطح کی تیاریوں تک نہیں آئی تھی یا پھر اس کا اظہار نہیں کیا گیا تھا جو تیاری اس وقت شاہینوں نے کر رکھی ہے اور پاک بحریہ گوادر سے لیکر اور ماڑہ اور کیماڑی تک تیاری کی جس حالت میں ہے اس کا صاف اور صریح الفاظ میں دونوں فورسز کے سربراہوں نے بر ملا اظہار کیا ہے جبکہ بری فوج تو پہلے سے ہی عملاً میدان عمل میں ہے ۔ بھارتی فوج کی اقوام متحدہ کے مبصر ین پر لائن آف کنٹرول کے دورے میں فائرنگ ازخود اس امر کا بین ثبوت ہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر ارتکاب جارحیت چھپا نے کی سعی میں ہے ۔اقوام متحدہ کے مبصرین کی نیلی جھنڈے والی گاڑی پر فائرنگ اقوام عالم کے خلاف جارحیت ہے جس کا اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک اور فورمز کو نوٹس لینا چاہیے۔ بھارت پاکستان کی جانب سے مسلم ممالک کے اتحاد اور ریاض کی وساطت سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات پر بھی برہم ہے ۔ اگر چہ اس اتحاد کے پاکستان کے حوالے سے نافع نہ ہونے او ر دیگر تحفظات موجود ہیں لیکن بادی النظر میں اس سے پاکستان کی اہمیت میں اضافے کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں جس سے بھارت خائف ہے۔ پاک چین اور روس تعلقات اور تعاون کی نوعیت کے معاملات بھی بھارت کیلئے پریشان کن ہیں ۔ اس ساری صورتحال کا بھارت کے پاس لائن آف کنٹرول اور سرحدی خلاف ورزیوں کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں فٹبال میچ میں بھی کشمیر کا ترانہ پڑھا جانا اور مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی روز شب تقویت پکڑ تی حریت کی تحریک سے بھی بھارت کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں ۔اس خفت کا اظہار بھی مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور آزاد کشمیر پر سرحدی خلاف ورزی کی صورت ہی میں کرنا اب معمول بن چکا ہے ۔ بھارت کا ہتھیاروں کی تیاری اور معاہدوں سے جنگی جنون اور اضطراب کا اظہار بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اس ساری صورتحال میں امریکی انٹیلی جنس چیف کا بھارت کی جانب سے سرحد پار حملوں کے خطرات سے کا نگریس کو آگاہ کرنے کا معاملہ سنجیدہ امر ہے ۔ اس ساری صورتحال کے باوجود مقام اطمینان امر یہ ہے کہ پاکستان کی شیر دل فوج اور عوام بھارت سے کسی بھی جارحیت سے پوری قوت کے ساتھ ٹکرانے کیلئے بالکل تیار ہیں۔ پاکستان اب ایک ایٹمی قوت ہے اور اس کی اعلیٰ ایٹمی صلاحیتوں تیاریوں دفاع اور جوابی وار کی صلاحیت سے دنیا واقف ہے۔ ایسے میں بھارت کا کوئی اقدام لمحوں میںاس پورے خطے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا سبب بن سکتا ہے ۔ اقوام عالم کو اس صورتحال کا سنجید گی سے نوٹس لینا چاہیئے اور دونوں ممالک کے درمیان کشید گی کو کم کرنے کی ہنگامی سعی کر لینی چاہیئے ۔ ہم دفاع وطن کا مقدس فریضہ نبھانے والے کمر بستہ ہیں اور پوری قوم کا جب بھی وقت آتا ہے اچانک ایک مٹھی ہونے کا خوشگوار تجربہ بھی سامنے ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ خطے میں کشیدگی کی صورتحال زیادہ دیر نہیں رہے گی اور بھارت ہوش کے ناخن لے گا۔

متعلقہ خبریں