زہر آلود ہ پانی ، صفائی کے چند قدرتی طریقے

زہر آلود ہ پانی ، صفائی کے چند قدرتی طریقے

خیبر پختونخوا میں دریائو ں ، ٹیوب ویلوں اور کنوئوں اور چشموں ہی سے حاصل شدہ پانی آبنوشی کیلئے استعمال نہیں ہوتا بلکہ جو ہڑوں کا پانی بھی پیا جاتا ہے ۔ ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق صوبے کی اسی فیصد سے زائد آبادی پانی کی صورت میں زہر انڈیلتی ہے ۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے سے قبل تو صوبے کی آبادی کے پاس لاعلمی کی صورت میں عذر بھی تھا۔ حکومت لاعلم تو نہ ہوگی مگر لاتعلق ضرورتھی۔ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد عوام کی پانی کے زہر آلود اور مضر صحت ہونے سے آگاہی کے بعد نفسیاتی طور پر بھی ان کا اعتماد مجروح ہونے کے باعث پانی کے مضر اثرات سے زیادہ متاثر ہونا فطری امر ہوگا جبکہ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے ہنگامی اقدامات نہ کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جانتے بوجھتے عوام کی صحت اور زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کے زمرے میں آئے گا ۔ موجودہ اور سابق صوبائی حکومتوں کی جانب سے پشاورکے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے کئی دعوے کئے گئے زنگ آلود اور شکستہ پائپ لائینوں کی تبدیلی کا بار بار دعویٰ کیا گیا مگر صورتحال جوں کی توں ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کا حال یہ ہو تو صوبے کے پسماندہ تر ین علاقوں میں جہاں پانی ہی دستیاب نہیں کیا عالم ہوگا وہاں انسان اور حیوان ایک ہی گھاٹ سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ جوہڑوں کا پانی ہو تالاب کا یا پھر ٹینکروں کا پانی یہاں تک کہ ٹیوب ویلز کا پانی بھی صاف نہیں کہ زیر زمین ذخیرہ آب اور تعمیر شدہ بالائی ذخیرہ ہائے آب کی برسوں صفائی نہیں ہوتی ایسے میں پانی کے ہر نمونے کا مضر صحت نکل آنا فطری امر ہوگا۔ صرف یہی نہیں بعض ٹیوب ویلز کا تازہ پانی پینے سے بھی جی متلانے اور معدے کی خرابی کی شکایات سامنے آئی ہیں جو اس امر کا مظہر ہے کہ ٹیوب ویلز کا پانی آبنوشی کے معیار کے مطابق نہ ہونے کے باوجود عوام کو فراہم کیا جاتا ہے ۔ بعض قدرتی چشموں کا بظاہر شفاف پانی قدرتی طور پر بھی مضر صحت ہوتا ہے اگر دیگر تمام وجوہات کو مد نظر رکھ کر صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے تو نتیجہ شاید ہمارے نمائندے کی تحقیقی رپورٹ سے بھی زیادہ بھیانک نکلے اور ایسا ہونا بھی بعید نہیں ۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ حکومت ازخود عوام میں بیماریاں بانٹ رہی ہے اس سے قطع نظر عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ممکنہ طور پر پانی کی صفائی کا انتظام کریں اولاً پانی ابال کر ٹھنڈا کر کے استعمال کیا جائے یہ سب سے محفوظ اور آزمودہ طریقہ ہے ۔ پانی کو پھٹکری سے صاف کیا جائے ۔ کلورین کی گولیاں ڈالی جائیں پانی کو سردابہ میں ذخیرہ کر کے استعمال کیا جائے جو محفوظ طریقہ ہے ۔ شہروں میں واٹر فلٹر لگائے جا سکتے ہیں مٹکے میںرکھا پانی اور مٹی کے برتنوں میں پانی پینا بھی آبنوشی کی صفائی کا ایک نسخہ ہے ۔ غرض جہاں جہاں حالات او رصورتحال کی مناسبت سے جو بھی ممکنہ طریقہ اختیار کیا جا سکے اسے اختیار کیا جائے۔ جہاں تک محکمہ آبنوشی اور پبلک ہیلتھ انجینئر نگ پی ڈی اے اور ڈبلیو ایس ایس پی جیسے متعلقہ محکموںکا تعلق ہے اس ضمن میںیہ ادارے ہنگامی بنیادوں پر منصوبے تشکیل دے کر عوام کو صاف پانی کی فراہمی کا بندوبست کریں زنگ آلودپائپوں کی تبدیلی اور ذخیرہ ہا ئے آب کی مختلف طریقوں سے صفائی پر صوبائی حکومت کو فوری توجہ دینی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں