طالبان کا دس نکا تی معاہد ہ

طالبان کا دس نکا تی معاہد ہ

آزاد ذرائع کے مطا بق روس اور طالبان میں دس نکا تی معاہد ہ ہو ا ہے تاہم سرکا ری ذرائع سے نہ تو اس کی تصدیق ہوئی ہے اورنہ تردید جس کا مفہو م یہ ہے کہ معاہد ہ ہو ا ہے جس کو سرعام نہیں کیا گیا ہے۔ عرب کا نفرنس اور ون بیلٹ اور ون روڈ کا نفرنسو ں کے ساتھ ہی اگر طالبان روس معاہد ے کا جا ئزہ لیا جا ئے تو اس امرکا کھو ج لگتا ہے کہ آئندہ دو تین سال عالمی طا قتو ں کی سرگرمیو ں کے عروج کا سال ہو گا جس میں مر کزی حیثیت افغانستان اور مشرق وسطیٰ کو حاصل رہے گی ۔ جہا ںتک افغانستان کا تعلق ہے تویہ خطہ اب چین اور روس کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہو گیا ہے اور افغانستان کی جو مو جو دہ صورت حال ہے اس میں طالبان کے کر دار کو نظر اند از نہیںکیا جا سکتا کیو ں کہ طالبان کا نہ صرف وجود قائم ہے بلکہ پو رے افغانستان میں ان کا سب سے زیادہ مو ثر کنٹرول بھی نظر آتاہے چاہے امر یکا کتنا ہی اس حقیقت سے صرف نظر کر ے ۔ ذرائع کے مطا بق طالبان سے جو دس نکا تی معاہد ہ طے پایا ہے اس میں روس افغان طالبان کو تسلیم کر ے گا ، طالبان حکومت کے قیا م کے بعد رو س طالبان کو عسکری امد اد فراہم کر ے گا ۔طالبان ہیروئن اور افیون کی کا شت ختم کر نے ساتھ ساتھ چیچن ایغور اور حزب التحریر کے جنگجوؤں کو افغانستان میںتربیت کی اجا زت نہیں دیں گے بلکہ ان کے خلا ف کا رروائی کر یں گے ، روس کو مطلو ب افراد گر فتا رکر کے حوالے کیے جا ئیں گے ، رو س ا ور چین طالبان کے بلیک لسٹ لیڈروں کو فہر ست سے خارج کر نے میں مخالفت نہیں کر یںگے اور فرانس و بر طانیہ کو بھی ا س امر پر راضی کر یں گے کہ وہ بھی مخالفت نہ کر یں ، افغان طالبان روسی گیس پائپ لا ئن کی مرکزی پا ئپ لائن جو ون بیلٹ ون رو ڈ کا حصہ ہو گی اس کی قند ھا ر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے راستے ، بھارت ،بنگلہ دیش اور چین تک حفاظتی رسائی کا بند وبست کر یں گے جس کے عوض ان کو معاوضہ ادا کیاجا ئے گا ، وسطی ایشیا میں متحرک عنا صر کی طالبان کوئی مد دنہیں کر یں گے ، افغان طالبان افغانستان سے امر یکا کے انخلا ء کے بعد ایر ان کے خلاف بھی کوئی کا رروائی نہیں کر یں گے ، داعش کے خلاف افغان طالبان رو س ،چین ، پاکستان اتحاد کا حصہ بنیں گے اور ان کے خلا ف تما م آپر یشن کے لیے سہولیا ت فراہم کر یں گے ، داعش کے متحرک افراد کی فہرست بھی فر اہم کریں گے ۔ روس کا فی عرصہ سے اس کا وش میں تھا کہ طالبان کے ساتھ ایسا کوئی معاہد ہ ہو جائے تاکہ خطے میں جہا ں امن کے قیام کو یقینابنایا جانا ممکن ہو سکے وہا ں خطے سے بیر ونی طا قتو ں کے عمل دخل کا خاتمہ کیا جا سکے اور ایسا علا قائی ممالک کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اس معاہد ے کی راہ میں امریکا نے مسلسل رکا وٹیں کھڑی کیے رکھیں ۔ملا منصور کا قتل بھی اسی رکا وٹ کا کھڑاک تھا کیو ں کہ اسی معاہدے کی کا وشو ں کے سلسلے میں 2015ء میں روسی صدر پیوٹن اور طالبان کے امیر مولا اختر منصو ر کے درمیان ایر ان کی سمند ری حدو د میں ہی ملا قات کر ائی گئی تھی۔ جبکہ امر یکا کی جانب سے بھی ملا منصور کو دنیا بھر میں سفر کر نے کی سہولت حاصل تھی مگر اس کے باوجود ملا منصور کوپاکستان میں ایر ان سے واپسی پر نشانہ بنا یا گیا۔ اس طر ح امریکا نے رو س افغان طالبان معاہد ے کو سبو تاژکیا ،علا وہ ازیں اپنے وعدے کی خلاف ورزی بھی کی ۔ دلچسپ امریہ ہے کہ ملا منصور کے بعد طالبان نے مذکرات نہ کر نے کا اعلا ن تو کیا مگر پس پر دہ مذاکرات کو جا ری رکھا اور امریکا کو اس کی ہو ا نہیں لگنے دی ۔ روس کے معاہد ے کے بعد افغان طالبان اب افغانستان میں زیا دہ متحرک ہو تے نظر آرہے ہیں۔ مو سم بہا ر طالبان کی کا رروائیوں کی بہا ر کا مو سم ہو تا ہے چنا نچہ گما ن یہ کیاجا رہا تھا کہ طالبان اس سال بھی اپنی کا رروائیاں شمالی اور وسطی یا پھر معمول کے مطا بق مشرقی صوبوں سے کر یں گے مگر انہو ں نے تا زہ ترین کا رروائیا ں جنوبی افغانستان سے کیں جس میں انہوں نے غیر معمولی صلا حیتو ں کا مظاہرہ کیا ، طالبان کی کا میا بی اور امریکا کی نا کا میوں پر انہو ں نے دنیا بھر میں اپنی صلا حیتوں کو منو الیا ہے کہ طالبان مزاحمتی جنگ کے علا وہ حملہ آور لڑائی کی بھی صلا حیت رکھتے ہیں ۔ امریکانے افغانستان میںما در بم کا تجر بہ کر کے علا قائی ممالک کو خبردار کرنے کی سعی کی کہ امریکا افغانستان میں کسی اور کا اثر رسوخ برداشت نہیں کر ے گا مگر جن مقاصد کی غر ض سے یہ بم استعمال کیا گیا اس کے نتائج بھی الٹے برآمد ہو رہے ہیں کہ ایک مشکوک شخص کو نشانہ بنانے کی غرض سے ساڑھے چارلا کھ ڈالر میں تیا ر کر دہ بم استعمال کرے ۔ایک انتہا ئی بھاری رقم خرچ کر نے کے باوجو د نتائج حاصل نہ کیے جا سکے۔ جبکہ افغان عوام میں اس کے اثرات غم وغصہ میں برآمد ہوئے ہیں ۔عوامی حلقوں میں مزید نفرت بڑھ گئی ہے ، اس کے علا وہ حکمت یار کی جلال آباد آمد کی وجہ سے بھی حالا ت ساز گار نہیں ہو پار رہے ہیں کیو ں کہ حزب اسلا می کے رہنما کی جانب سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کا دباؤ کم نہیںہو ا ہے ، جبکہ افغانستان کی اکثریتی آبادی پشتونوں میں احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے جس کی بنیا دی وجہ یہ ہے کہ امریکا نے افغانستان پر تسلط کے ساتھ ہی غیر پشتو ن آبادی کو مسلط کرنے کی پالیسی اپنائی تاکہ افغانستان میں نسلی اور لسانی تقسیم کو ابھا را جا سکے اور افغانستان کے اسی بنیا دپر حصے بخرے کر دئیے جائیں اور افغان عوام کو کمزور کر دیا جا ئے ، اس پا لیسی نے افغانستان میں پشتون اور غیر پشتون آبادی کے درمیا ن نفر ت کے بیج بو ئے تو ہیں مگر کامیابی کے امکا نا ت ممکن نہیں ہیں کیو ںکہ ایسا بر سو ں پہلے ما ضی میں بھی ہو چکا ہے ۔ گو روس یا طالبان کی جانب سے دس نکا تی معاہد ے کے بارے میں خامو شی ہے تاہم اس معاہد ے کی تصدیق بھی ضروری ہے کیوںکہ اس معاہد ے کے روبہ عمل ہو نے سے خطے کی صورتحال ایک نئی کر وٹ سے دوچار ہو جائے گی ، البتہ امر یکا کی جانب سے یہ الزام لگا یا جاتا رہا ہے کہ رو س طالبان کو ہتھیا ر فراہم کررہا ہے۔ روس نے اس الزام کی تردید کی ہے یہ امر بھی سوچ کا حامل قرار پا تا ہے ۔

متعلقہ خبریں