خیبر پختونخوا پولیس میں اصلاحات

خیبر پختونخوا پولیس میں اصلاحات

24 جنوری 2017 ء کو خیبر پختونخوا اسمبلی نے خیبر پختونخواپولیس ایکٹ پاس کیا تھا جس کی کوئی میڈیا کوریج نہیں کی گئی تھی۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ پولیس کے محکمے میں اصلاحات کی حوالے سے صوبائی سطح پر قانون سازی کی گئی تھی۔ اس وجہ سے یہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔ ان اصلاحات کا کریڈٹ پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کو جاتا ہے جنہوں نے اپنے منشور کی پاسداری کرتے ہوئے ایک ایسی قانون سازی کی جس کے ذریعے پولیس کو انتظامی لحاظ سے خود مختار، سیاسی لحاظ سے غیر جانبدار اور جمہوری تقاضوںسے ہم آہنگ کیا جاسکے گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قانون سازی سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز سے باقاعدہ مشاورت کی گئی تھی ۔ ملک میں محکمہ پولیس کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات ہمیشہ سے ناکام ہوتی رہی ہیں ، اس لئے کیا ماضی کی ان ناکامیوں کو مدِ نظر رکھ کر اصلاحات لائی گئی ہیں؟خیبر پختونخوا کی سیاسی حکومت، پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ساتھ دیگر اہلکاروں میں بھی محکمہ پولیس میں اصلاحات کے ذریعے احتساب اور شفافیت کی حقیقی خواہش پائی جاتی ہے۔اس حوالے سے سول سوسائٹی نے نظر ثانی کے عمل میں خواتین اور اقلیتوں کی شمولیت کے متعلق سوالات اٹھائے تھے جن میں سے خواتین سے متعلقہ تحفظات کو پراونشل سیفٹی کمیشن کی ممبر شپ سے متعلقہ سیکشن 48 میں دور کر دیا گیا ہے لیکن اقلیتوں کو کپیٹل سٹی پبلک سیفٹی اور ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیشن میں سے کسی ایک میں بھی ممبر شپ نہیں دی گئی۔ اسی طرح، خیبر پختونخوا ایکٹ 2017ء کے سیکشن 88 کے تحت پولیس کو ایک مہینے کی مدت تک گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اگر اس مدت کے بعد بھی رکاوٹیں نہ ہٹائی گئیں تو عوام کس کو شکایت درج کروائیں گے۔ کرمنل جسٹس کمیٹی ( سی جے سی سی ) کو اس ایکٹ کا حصہ بنانا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے جس کے ذریعے پورے صوبے میں ضلعی سطح پر کرمنل جسٹس سسٹم کے اہم ستونوں کے درمیان کوآرڈینیشن اور تعاون کو فروغ ملے گا۔ لیکن یہاں پر یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا ماضی میں سی جے سی سی کے تجربے کی ناکامی سے سبق حاصل کیا گیا ہے یا سی جے سی سی کے غیر موثر ہونے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی گئی ہے؟۔پروبیشن اور پیرول کے عمل کے بارے میں آگاہی اور پروبیشن اور ری کلیمیشن ڈیپارٹمنٹ کو فراہم کئے جانے والے وسائل کی کمی کی وجہ سے سی جے سی سی کی میٹنگز میں پروبیشن اور پیرول کو مطلوبہ توجہ نہیں مل سکی تھی۔ اس وجہ سے نئے قوانین میں اس خامی پر قا بو پا کر ایساریویو میکنزم بنایا جائے جس کے تحت صوبائی سطح پر سی جے سی سیز کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا رہے۔ اس ریویو میکنزم کے ممبران میں چیف جسٹس آف پشاور ہائی کورٹ ، ہوم سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور قیدیوں کو شامل ہونا چاہیے۔خیبر پختونخوا پولیس کو پولیس آرڈر 2002 ء کی ناکامیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ مذکورہ آرڈر میں پبلک سیفٹی کمیشن، سٹیزن پولیس لائیزن کمیٹی اور پولیس کمپلینٹ اتھارٹیز جیسے نگران اداروں اور عوام کی شمولیت سے متعلقہ شقوں پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس لئے خیبر پختونخواحکومت کو چاہیے کہ وہ فوراً ان نگران اداروں کو فعال کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کرے جس کے ساتھ ساتھ متعلقہ تما م سٹیک ہولڈرزکو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے۔ نگران اداروں کو فعال کرنے کے لئے سیکشن 143 کے تحت ایک سال کے لئے ایمپلی مینٹیشن کمیشنر کی تعیناتی کی جائے ۔ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے کمشنر کی تعیناتی کی ہے یا نہیں لیکن حکومت کی جانب سے ایکٹ کے نفاذ کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ ایک مثبت اشارہ ضرور ہے۔زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ ایک سال کے لئے کمشنر کی تعیناتی کی بجائے نفاذ کے عمل کی نگرانی کے لئے کرمنل جسٹس سسٹم کے تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جاتی ۔

اگر نگران ادارے ایک سال کے عرصے میں قائم کر دیئے جائیںلیکن ماضی کی طرح یہ ادارے اپنا کام سرانجام نہ دے سکیں تو پھر کیا لائحہِ عمل اختیار کیا جائے گا ؟ سندھ میں سول سوسائٹی نے پاکستان فورم فار ڈیموکریٹک پولیسنگ کے بینر تلے جمع ہو کر سندھ حکومت کی سندھ پولیس بل تیار کرنے میں معاونت کی تھی اور اس سارے عمل میں جسٹس ناصر اسلم زاہد کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ یہ بل سندھ کے متعلقہ وزیر اور سپیکر صوبائی اسمبلی کو پیش کردیا گیا ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور پنجاب میں بھی اگلے عام انتخابات سے پہلے پولیس میں اصلاحات کے لئے قانون سازی کی جانی چاہیے۔ تمام صوبوں میں پولیسنگ اور پولیس اہلکاروں کی تربیت اور کارکردگی کے حوالے سے کوئی خاص فرق نہیں پایا جاتا اس لئے تمام صوبوں کو اپنے اپنے دائرہِ اختیار میں پولیس کے پورے نظام کو بہتر بنانے کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔پولیس اصلاحات کے بغیر اچھی گورننس محض ایک خواب ہے اور بہتر گورننس جمہوریت کی بقاء کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ اس لئے موجودہ جمہوری حکومتوں پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنی اور جمہوریت کی بقاء کے لئے تمام صوبوں میںپولیسنگ اور پولیس اہلکاروں کی تربیت اور کارکردگی میں بہتری لائیں۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں