پانی' پانی

پانی' پانی

اگلے سال عام انتخابات متوقع ہیں اس لیے ملک میں ترقی کے دعوؤں اور وعدوں کا شور ہے۔ وفاقی حکومت سڑکوں کا جال بچھانے کے منصوبوں پر عمل کر رہی ہے۔ اور اس کی حکمت یہ بیان کی جا رہی ہے کہ ترقی کے لئے انفراسٹرکچر بہت ضروری ہے۔ بجلی کے کارخانے لگیں گے (چاہے تھرمل بجلی کے کارخانوں کے ماحولیاتی اثرات کچھ بھی ہوں) ان سے کارخانے چلیں گے اور سڑکوں کے ذریعے تجارت ہو گی تو ملک خوشحال ہو گا۔ اپوزیشن کی ایک تگڑی جماعت تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ سماجی ترقی پہلے ہونی چاہیے۔ پولیس کا نظام درست ہو' علاج معالجے کا نظام درست ہو' تعلیم کا نظام درست ہو تو اس سے انسانی زندگی کی کوالٹی میں بہتری آئے گی۔ لیکن عام آدمی کی زندگی کو صحت عامہ کی طرف عدم توجہ سے جو بڑا خطرہ درپیش ہے اس کی طرف توجہ بہت کم دی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں جہاں اس کی حکومت ہے ،حکومت قائم ہونے کے فوراً بعد پولیو کے خلاف ایک بھرپور مہم کا آغاز کیا تھا۔پاکستان میں پولیو کا مرض قابوں میں نہیں آرہا ۔بڑے کثیر خرچ سے پولیو کے خلاف مہم کا آغاز کیا گیا۔ پولیو کے انسدادی قطرے پلانے کے لیے گھر گھر ٹیمیں بھیجی گئیں۔ لیکن پولیو پر پوری طرح قابو نہ پایا جا سکا۔ ایک بین الاقوامی ادارے نے رپورٹ جاری کی جس میں لکھا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پولیو کا جو وائرس پایا جاتا ہے وہ دنیا کے دوسرے حصوں میں پائے جانے والے وائرس کی نسبت سخت جان ہے۔

ان دنوں انہی کالموں میں لکھا تھا کہ پانی کی خبر لیجئے جو انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اور انسان نے اس کو اتنا گدلا کر دیا ہے کہ اب پانی بھی زہر کا کام کرنے لگا ہے۔ سارے ملک میں یہی حال ہے۔ خاص طور پر پشاور کا پانی جو ایک عرصے تک سارے میں ملک شفاف اور صحت بخش ہونے کے لیے مشہور تھا انسانی صحت کے لیے خطرہ بن چکا ہے، انگریز کے وقت میں جو واٹر سپلائی اور سیوریج کی لائنیں بچھائی گئی تھیں وہ ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ سپلائی کے پائپ عموماً گندی نالیوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ صورت حال صرف پشاور تک محدود نہیں ، سارے ملک کا یہی حال ہے۔ 1998ء میں ایک یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے راولپنڈی کے پانی پر تحقیق کی۔ اس نے راولپنڈی کے مختلف محلوں سے پانی اکٹھا کیا ۔ لیبارٹری نے بتایا کہ ان تمام نمونوں میں دیگر آلائشوں کے ساتھ ساتھ انسانی فضلہ بھی شامل تھا۔ اب کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی تحقیقی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں سارے صوبوں کے پانی کو انسانی صحت کے لیے مضر قرار دیا گیا ہے ۔ تحقیقی پرچے کے مطابق خیبر پختونخوا کے 18اضلاع سے 485نمونے حاصل کیے گئے جن میں سے 140کا پانی انسانی صحت کے لیے مضر نکلا۔ دریا' کنویں اور ٹیوب ویل سب کا پانی آلودہ ہے۔ دریاؤں، ندی نالوں میں تو ہم خود گندگی پھینک دیتے ہیں۔ جو گندا پانی زمین میں جذب ہوتا ہے ، جس میں زہریلی کھادیں بھی شامل ہوتی ہیں وہ زمین کی نچلی تہوں تک سرایت کر چکا ہے اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے برآمد ہوتا ہے ۔ پانی کے لیے جائیں تو جائیں کہاں ۔ پانی اور ہوا انسانی زندگی کے لیے لازمی ہے اور یہ نعمتیں انسانوں کے لیے مفت ہوا کرتی تھیں۔ اب پانی بھی پرچون کی دکانوں پر فروخت ہوتا ہے اور نئی ٹیکنالوجی کے دلدادہ نہایت شوق سے یہ پانی خریدتے ہیں اور اسے استعمال کرتے ہیں کہ یہ پانی صاف ہے۔ پہلے پہل اسے منرل یعنی معدنی پانی کے طور پر فروخت کیا جاتا تھا۔ لیکن سال بھر پہلے اس کی حقیقت بھی ایک انگریزی روزنامے نے کھول دی۔ بوتل بند پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کے پانی بھی ایک ریسرچ کے نتیجے میں صاف نہیں تھے۔ ان کے پلانٹ بھی ندی نالوں کے قریب لگائے ہوئے پائے گئے۔ تو متمول حضرات کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جس پانی کو صاف سمجھ کر خریدتے ہیں وہ بھی اکثر ویسا ہی ہوتا ہے جو عوام الناس نلکوں سے حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں بھی صاف پانی کے لیے آواز اُٹھانی چاہیے ۔ جب پیٹ کی بیماریوں کا موسم آتا ہے تو اعلان کیے جاتے ہیں کہ پانی اُبال کر پیا کروا۔ ابالنے سے پانی میں جو کچھ ہے وہ مر تو جاتا ہو گا لیکن رہتا تو پانی میں ہی میں ہوگا۔ پانی کی سپلائی کی پائپ لائنیں شہروں میں ستر سال سے زیادہ عرصہ سے پہلے بچھائی گئی تھیں ۔ ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ظاہر ہے کچھ سرکاری محکموں کی تھی ۔ ان محکموں میں جو لوگ آج کام کرتے ہیں اور جو گزشتہ پچاس ساٹھ سال کے دوران ریٹائرہو گئے وہ کیا کرتے رہے؟ ان افسر اوران کے افسر کیا کرتے رہے؟ وہ کیوں مواخذے سے بالاتر ہیں؟ دیہات میں بڑے طمطراق سے کیمیائی کھادوں کو مقبول عام کیا گیا۔ وہ لوگ جو اس کی حمایت کرتے رہے ان سب کو معلوم تھا کہ ایک دن ان کھادوں کی باقیات زمین کی نچلی تہوں تک پہنچ جائیں گی اور زیرِ زمین پانی بھی استعمال کے لائق نہ رہے گا۔ پینے کے پانی اور نکاس کے پانی کی لائنوں کو الگ کرنے پر زرِ کثیر خرچ آتا ہے۔ کھاد نہ ڈالیں تو زمین سے پیداوار کیسے حاصل ہو۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے میں ہماری سماجی عادات نہایت مایوس کن ہیں۔ لیکن اب بھی ایک امید ایک نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے قائم ہوتی نظر آتی ہے۔ چھ سو فٹ کی گہرائی تک پائپ پہنچا کر ٹربائنیں لگا دی جاتی ہیں ۔ اس سے محدود آبادی کو صاف پانی میسر آتا ہے۔ اس پر دس سے 14لاکھ روپیہ صرف ہوتا ہے۔ اگر حکومت تھوڑی سنجیدہ ہو تو علاقے کے لوگوں کے ساتھ شراکت داری سے ایسے ٹربائن لگانے کی طرف سوچ سکتی ہے۔ یہ کام بلدیاتی ادارے بھی کر سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اتنی گہرائی تک آلودگی نہیں گئی ہے اور صاف پانی میسر آ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں