امریکہ سعودی اتحاد میں پاکستان کا کردار؟

امریکہ سعودی اتحاد میں پاکستان کا کردار؟

جدہ میں منعقد ہونے والی عرب اسلامک امریکن کانفرنس میں سوڈان کے صدر عمر البشیر نے یہ کہتے ہوئے شرکت سے انکار کر دیا کہ امریکہ نے سوڈان پر 1997سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جب تک امریکہ سوڈان سے پابندیاں نہیں اٹھا لیتا تب تک سوڈان امریکہ کی جانب سے دی جانے والی ہر دعوت کا بائیکاٹ کرتا رہے گا،سوڈان کی طرح ترکی کی نمائندگی بھی نہیں تھی۔اس کانفرنس کی تفصیلات میڈیا میں آچکی ہیںجس کا لب لباب امریکہ اور سعودی عرب کی سر پرستی میں ایران کوتنہا کرنا تھا ،ہمارے لئے غور طلب بات یہ ہے کہ اس اتحاد میں پاکستان بھی امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ۔تسلیم کہ ایران اور سعودی عرب کے تنازعات ہیںاسی کے پیش نظر دونوں ممالک میں کھینچا تانی بھی رہتی ہے لیکن ان تنازعات میں پاکستان کیونکر شامل ہے؟ پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہے اس لئے اس کی ایسی حیثیت ہونی چاہئے کہ تلخیاں ختم کرکے برادر اسلامی ممالک میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے لئے فعال کردار ادا کرے ،پھر ایران تو ہمارا پڑوسی بھی ہے ہم کسی اور کیلئے اپنے ہمسائے کے ساتھ تعلقات کیوں خراب کریں،اس تناظر میںدیکھا جائے تو پاکستان کو بھی اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دینا چاہئے تھا ۔

امر واقعہ یہ ہے کہ برادر اسلامی ملک ایران کو تنہا کرنے کی سازشیں عالمی سطح پر ایک عرصہ سے کی جا رہی ہیں۔ جس وقت ایران کے صدر احمدی نژاد تھے تب بھی امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ اس وقت ایران کی قیادت نے ایک متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم کفایت شعاری کو اپنائیں گے اور مشکلات کا سامنا کر لیں گے لیکن عالمی استعماری قوتوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ عوام چونکہ حکمرانوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں اس لیے حکمرانوں کی کفایت شعاری کو دیکھتے ہوئے ایران کے عوام بھی کفایت شعار بن گئے۔ جب امریکہ نے ایران کی ثابت قدمی کو دیکھا تو اپنی پابندیاں اُٹھانے پر مجبور ہوا۔ ایک سینئر صحافی سے میری اس موضوع پر گفتگو ہو ئی تو میں نے کہا اب جب کہ ایران سے اقتصادی پابندیاں اُٹھالی جائیں گی تو ایران کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہوگی توسینئر صحافی نے کہا کہ یہ بھی امریکہ کی چال ہے وہ اس طرح کہ جب امریکہ نے محسوس کیا کہ ایرانیوں نے مشکل حالات میں بھی جینا سیکھ لیا ہے تو امریکہ سمیت اہل مغرب کو فکرلاحق ہو گئی کہ ایران کروڑوں کی آبادی والا ملک ہے' ہم نے جو اس پراقتصادی پابندیاں لگائی ہیں ، ایران کو تو اس کا نقصان نہیں ہوا بلکہ ہماری ملٹی نیشنل کمپنیاں جو ایران سے سالانہ اربوں ڈالر کما رہی تھیں وہ بند ہو گیا۔سو امریکہ نے ایران سے جوپابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ ایران کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے طور پرنہیں بلکہ اپنی مصنوعات کو بیچنے کے لیے ہے۔ خیریہ تو چند سال پہلے کی بات تھی ، اب بھی نقشہ کچھ ویسا ہی بن رہا ہے لیکن اس بار امریکہ کی طرف سے اظہارِ ہمدردی اور دست شفقت سعودی عرب کے سر پر ہے جس میں ایران کو تنہا کرنے کے لیے چند ایک ممالک مل کر اپنے تئیں کوشش کر ر ہے ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا امریکہ اور عرب اتحاد اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ایران کو تنہا کرسکے؟ میرے خیال میں یہ سعی لاحاصل ہے کیونکہ ایران خطے میں ابھرتی ہوئی 17ویںمعاشی قوت ہے ،ایران قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے۔ ایران وہ ملک ہے جس کے پاس باقاعدہ پیشہ ورفوج ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ کرۂ ارض پرایران' شام ' مصر' یمن 'لبنان، عراق ' فلسطین ' سعودی عرب اور پاکستان سمیت کئی ایک ممالک ہیں جہاںایرانیوں کی سوچ کے لوگ موجود ہیں۔ اگر ہم پاکستان کا ہی جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ پاکستان کی آبادی کا اہم جزو ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی پڑھے لکھے اور سوال اُٹھانے والے لوگ ہیں ۔ اگر تنہا کرنا ہی ہے تو صرف ایران نہیں ان درجن بھر ممالک کو تنہاکیجئے ، کیا عربی اتحاد میں ایسا کرنے کی ہمت ہے؟ ہر گز نہیں! ان تمام حقائق کے باوجود اگر ایسی غلطی دہرائی گئی تو پوری دنیا سے اس کا سخت ترین ردعمل آئے گا یوں خدشہ ہے کہ عالم اسلام کے حالات ناگفتہ بہ ہو جائیں ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ کے جھانسے میں آنے کے بجائے اس کے چنگل سے باہر نکلا جائے کیونکہ امریکہ کی سابقہ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ تمام عرب ممالک سعودی عرب کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں ایک پاکستان سے توقع تھی کہ امت کا شیرازہ بکھرنے سے بچانے کے لئے پاکستان بھر پور کردار ادا کرے گا ۔اس اتحاد میں شامل ہونے کے بجائے ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ امریکہ اور سعودی عرب مل کر جو آگ لگا رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس آگ میں خوامخواہ ایندھن بن جائیں،اس سے قبل ہم پاک افغان جنگ میں بھی امریکہ کا ساتھ دیکر نقصان اٹھا چکے ہیں اس جنگ کے شرارے ابھی ختم نہیں ہوئے کہ ہم ایک اور اتحاد کا حصہ بننے جا رہے ہیں ،ہمیں سوچنا ہو گا اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے ۔

متعلقہ خبریں