خلیج میں امریکہ کا ''نظریۂ ضرورت''

خلیج میں امریکہ کا ''نظریۂ ضرورت''

امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جاری سردجنگ میں مسلمان دنیا دونوں طرف کے دلہائوں کے ساتھ محض شامل باجا رہنے کی بجائے شہ بالوں کی صورت موجود رہی ۔سرمایہ داربلاک میں بھی مسلمان آگے تھے اور کمیونسٹ بلاک میں عرب سوشلسٹوں کی صورت میں وہ آگے نہ سہی مگر شانہ بشانہ ضرور تھے ۔سرد جنگ کا انجام ہوا تو کسی ایک بلاک کا شہ بالا خوش رہا اور نہ اسے اپنی فتح بنا کر پیش کرسکا ۔سردجنگ کے بعد کے حالات کے گھن چکر میں سبھی پِس کر رہ گئے ۔کسی کا انجام پہلے ہوا اور کوئی انجام کو ٹالتا چلا گیا یہاں تک کہ ایک نئے تواز ن کی صبح طلوع ہونے لگی ۔تب بھی سرمایہ دارانہ نظام کے محافظوں نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ایک خوف اور خطرے کی رسی میں پرو کر استعمال کیاتھا اب جبکہ نئی صف بندی ہونے جا رہی تو بھی انہیں ایک مشترکہ خطرے کا خوف دلایا جارہا ہے ۔سرمایہ دار بلاک انہیں کمیونسٹ خطرے کی طرح ایک بار پھر ایران کے خطرے کے نام پر اپنے گرد جمع کررہا ہے ۔ایران خطرے کا پہلا نام ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خطرے کا یہ سائن بورڈ اپنے اصل مقام پر نصب ہوگا اور وہ ہوگا روس اور چین کے تعاون سے اُبھرنے والا نیا پول جو عدم توازن کی شکار دنیا کو دوبارہ توازن کی راہوں پر ڈال رہا ہے ۔پاکستان اور سعودی عرب ان ملکوں میں شمار کئے جا سکتے ہیں جو سردجنگ کے بعد اپنے انجام کو ٹالتے رہے ۔اب ڈونلڈ ٹرمپ اسی نئے خطرے کی دُہائی دیتے ہوئے سعودی عرب پہنچے ۔ ٹرمپ کی آمد سے پہلے ہی سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ ٔ سعودی عرب سے دو دن پہلے یہ دلچسپ بیان دیا تھا کہ امریکہ اور مغرب مسلمان دشمن نہیں۔یہ مغرب کے لئے بھی پیغام ہے کہ مسلمان مغرب دشمن نہیں۔اس دورے سے مغرب اور اسلام کے درمیان مکالمہ بدل جائے گا ۔سعودی وزیر خارجہ کے منہ میں گھی شکرمگر منظر میں حقیقی تبدیلی رونما ہوتی نظر نہیں آرہی ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد ہی پانچ مسلمان ملکوں کے شہریوں پر امریکہ میں سفری پابندیاں عائد کرکے خاصی تنقید کا سامنا کیا تھا اور اب انہوں نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کاآغاز ایک مسلمان ملک سعودی عرب سے کر تے ہوئے ایک سرپرائز دینے کی کوشش کی۔سعودی عرب اور امریکہ دہائیوں سے قریبی اتحادی چلے آرہے تھے مگر نائن الیون کے بعد امریکہ کی دوستی اور دشمنی کے پیمانے بدل گئے ۔امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں بالخصوص اور مسلمان ملکوں میں بالعموم مغربی طرز کی جمہوریت متعارف کرانے کا راستہ اپنایا ۔نائن الیون میں تمام حملہ آوروں کی سعودی شناخت اور القاعدہ کے فنانسرز کی جڑوں کی سعودی عرب میں موجودگی کے تاثر نے امریکیوں کو سعودی عرب سے ناراض کر دیا ۔یہاں تک نائن الیون کے مرنے والوں کے لواحقین کو سعودی عرب سے تاوان کا حق بھی مل گیا جس کے جواب میں سعودی عرب نے امریکی بینکوں سے سرمایہ نکالنے کی دھمکی دی ۔جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تنائو بڑھتا چلا گیا ۔یہاں تک کہ حسب روایت خطے میں امریکہ کے مفادات تبدیل ہوگئے۔عراق میں صدام کا تختہ اُلٹنے کے لئے ایران کی خدمات حاصل کی گئیں اور ایسا کرتے ہوئے ایرانی بھی امام خمینی کا دیا ہوا خطاب '' شیطان بزرگ'' بھی بھول گئے اور امریکی ماضی کی تمام مخاصمت کو فراموش کر بیٹھے ۔مشرق وسطیٰ میں سوشلسٹ نظریات کے حامل حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد اب شام میں ایران اور امریکہ آمنے سامنے آگئے ۔اس تبدیل شدہ صورت حال میں امریکہ کو بھولے بسرے سعودی عرب کی ضرورت پیش آگئی ۔جب امریکی صدر سعودی عرب کا دورہ کرنے والے تھے تو امریکی نیوز چینل فاکس نیوز کو ایران کے سابق بادشاہ رضا شاہ پہلوی کے بیٹے نے ایرانی عوام سے سول نافرمانی شروع کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ایران میں حقیقی جمہوریت قائم کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ ریاست کا نظام مفلوج کر دیا جائے۔اس سے خطے میں جاری کھیل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ایسے میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی طرف سے امریکہ کے اسلام دشمن نہ ہونے پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا ۔ ٹرمپ سعودی عرب کے بعد اپنے دورہ مشرق وسطیٰ کے دو سرے مرحلے پر اسرائیل اور فلسطین بھی گئے جہاں انہوں نے اسرائیل کے وزیرا عظم بن یامین نیتن یاہو اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے ملاقاتیں کیں ۔ٹرمپ کا یہ دورہ اس بات کی غماضی کررہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کے طویل ترین تنازعے کو زمینی حقائق کی بنیاد پر حل کرنے کی سوچ اپنا رہا ہے ۔یعنی اسرائیل کا وجود بھی ایک حقیقت ہے اور فلسطین عوام اور ان کی خواہشات اپنے مادر وطن سے ان کی اٹوٹ وابستگی بھی ایک زمینی حقیقت ہے ۔یہ اس قدر بڑی حقیقت ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ستر برس سے طاقت ،وسائل اور منصوبہ بندی کے باوجود اس کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔اس کے لئے تاریخ کا وہ کون سا ظلم ہے جو اسرائیل کی صیہونی حکومت نے فلسطینیوں پر روا نہ رکھا ہو۔ان کے گھر مسمار کر دئیے گئے ،باغ اجاڑے گئے ،بازار ملبے کے ڈھیر بنادئیے گئے ۔اب ڈونلڈ ٹرمپ کو ماضی کی غلطیوں کا احسا س ہوا یا وہ محض اسرائیل کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ہر دو صورتوں میں فلسطینی عوام کی جائز خواہشات اور قربانیوں کو پیش نظر رکھنا ہو گا۔مسئلہ فلسطین کے حل کے نام پرمصنوعی انتظام اس تنازعے کو مزید خراب کرنے کا باعث بنے گا۔

متعلقہ خبریں