مشرقیات

مشرقیات

حضرت ابو ایوب قریشی فرماتے ہیں کہ ان کے خاندان کی ایک خاتون بے انتہا عباد ت گزار اور نماز روزہ کی بے حد پابند تھیں ، ایک دن شیطان نے ان کے دل میں طرح طرح سے وسوسے ڈال کر بہکانا شروع کیا کہ اے نیک بخت خاتون ! اگر تم اس طرح سے روزہ رکھتی رہیں اور نماز ادا کرتی رہیں تو جسم لا غر ہو جائے گا ۔ اعضاء ڈھیلے پڑجائیں گے ، اس سے بہتر ہے کہ اپنی عباد ت میں کچھ کمی کرو تا کہ ذہنی و جسمانی نشاط باقی رہے اور تم زیادہ عبادت کر سکو ۔ ان پاکباز خاتون کا بیان ہے کہ یہ بات میری سمجھ میں آگئی اور میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ آج سے اس مشورے پر عمل کروں گی ، اسی روز میں مغرب و عشاء کے درمیان سرور کائنات ۖ کی خدمت میں سلام کی غرض سے مسجد نبوی ۖ میں حاضر ہوئی ۔ سلام عرض ہی کر رہی تھی کہ مجھ کو شیطانی وسوسہ سمجھ میں آگیا ، میں نے فوراً توبہ کی اور پروردگار سے عرض کیا کہ اے اللہ ! شیطان کے اس مکرو فریب سے مجھ کو دور رکھ ، کہ اچانک مجھ کو محسوس ہوا کہ ایک آواز اس طرح آرہی تھی ۔ (ترجمہ)'' بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے ، پس اس کو دشمن سمجھو، بے شک وہ اپنے جال کی طرف بلاتا ہے تاکہ لوگ جہنمی ہو جائیں ''۔اس آیت کا ذہن میں آنا تھا کہ گھبرا اٹھی اور میری آنکھوں سے آنسوںجاری ہوگئے ، لیکن خدا کا شکر ہے ، اس کے بعد سے پھر کبھی شیطان مجھ کو بہکا نے کی ہمت نہ کر سکا ۔
(صفتہ الصفوة الا بن الجوزی ج 2صفحہ نمبر 116)
چوتھی صدی ہجری میں منصور نامی ایک شخص اندلس کا حکمران گزرا ہے ۔ اس نے کسی جرم میں ایک آدمی کو گرفتار کرلیا ۔ مجرم کی والدہ نے بیٹے کی رہائی کے لیے رحم کی اپیل کی ، جس سے منصور مزید بگڑ گیا اور قلم ہاتھ میں لے کر لکھنا چاہا '' اسے پھانسی دی جائے ''لیکن لکھا ''اسے رہا کر دیا جائے ''۔ وزیر نے وہ رقعہ لے کر اس کی رہائی کا حکم جاری کیا ۔ منصور نے پوچھا کیا لکھا ، کہنے لگا ''فلاں کی رہائی کے لئے لکھا '' منصور بھڑک اٹھا ''' اسے پھانسی دی جائے ، رہائی کا کس نے کہا ہے ''۔وزیر موصوف نے اس کو پرچی تھمادی ، جس پر اسے رہا کیا جائے لکھا تھا کہنے لگا ، یہ غلطی سے لکھ دیا ہے ۔ اس کو پھانسی دینی ہے اور سابقہ حکم مٹا کر لکھنا چاہا '' اسے پھانسی دی جائے ۔ '' لیکن لکھا اسے رہا کیا جائے '' وزیر نے حکم کے مطابق رہائی کا حکم دیا ، منصور نے پوچھا ''کیا لکھا ؟ '' کہنے لگا فلاں کی رہائی کے لئے لکھا ، منصور آگ بگو لہ ہوا ، اسے پھانسی دینی ہے رہا ئی کا کس نے کہا ہے ؟ '' وزیر نے اسی کا لکھا ہو ا رقعہ سامنے کیا ، جس میں رہائی کے لئے لکھا تھا ، کہنے لگا '' یہ غلطی ہوگئی ہے '' لیکن تیسری بار بھی اسی طرح ہوا ۔ منصور کے قلم سے پھانسی کے بجائے اس کے لئے آزادی کا پروانہ جاری ہوا ، جب تین بار اس طرح ہوا تو تقدیر کے قاضی کے سامنے منصور کو بھی سر تسلیم کرنا پڑا ۔ کہنے لگا '' اسے میرے نہ چاہنے کے باوجود رہا کردیا جائے ، خدا جس کو رہا کرنا چاہے ، میں اسے نہیں روک سکتا ہوں ۔ جسے خدار کھے اس کو کون فنا کر سکتا ہے ۔ '' (جذوة المقتبس، صفحہ نمبر 118)

متعلقہ خبریں