وزیر اعظم اور آرمی چیف کا انتباہ

وزیر اعظم اور آرمی چیف کا انتباہ

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم بے گنا ہ شہریوں خاص طور پر بچوں ،خواتین ، ایمبولینسوں اور خاص طور پر سویلین ٹرانسپورٹ کو دانستہ طور پر نشانہ بنائے جانے کو ہر گز برداشت نہیں کر سکتے ، انہوں نے کہا کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے ، ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی جدو جہد آزادی سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ وزیر اعظم نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنانے اور بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کا نوٹس لے۔ اس بات کا اظہار گزشتہ روز وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا جس میں بھارت کی جانب سے وادی نیلم کے قریب مسافر بس پر خون ریز حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ اس واقعے میں بھارتی افواج کی جانب سے دانستہ طور پر ایک سویلین بس اور بعد ازاں زخمیوں کو لانے کے لئے جانے والی ایمبولینسز کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ دریں اثنا اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جان الیا سن اور سیکرٹری جنرل بانکی مون کے چیف ڈی کیبنٹ اینڈ منڈمولے کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کنڑول لائن پر بھارتی جارحیت خصو صاً مسافر بس اور ایمبولینسوں پر حملہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ ادھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں شاہد آفریدی کرکٹ سٹیڈیم کے افتتاح کے موقع پر قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے سرجیکل سڑائیک کا ڈرامہ رچایا ہم نے اگر سرجیکل سڑائیک کیا تو بھارت اپنے بچوں کو نصاب میں پڑھائے گا ۔ دوسری جانب پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان نے کہا ہے کہ بھارتی عزائم سے بخوبی واقف ہیں اور پاک فضائیہ دشمن کو منہ توڑجواب دینے کی بھر پور صلا حیت رکھتی ہے۔ کراچی میں آئیڈیا ز 2016ء نمائش میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایئر چیف نے کہا کہ پاک فضائیہ کی تربیت اعلیٰ معیار کی ہے اور ہماری صلاحیت پر کسی کو شک نہیں ہو نا چاہیئے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بھارت کے حکمرانوں کو نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی آزادی کی تازہ لہر کے حوالے سے وہا ں نہتے کشمیری عوام پر توڑ ے جانے والے مظالم بلکہ خود اپنے اندرونی مسائل سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے کنٹرول لائن پر گزشتہ تقریباً دو ڈھائی ماہ سے مسلسل جارحانہ کارروائیا ں کرنا پڑ رہی ہیں تاکہ نہ صرف عالمی برادری کو دھوکہ دیا جا سکے بلکہ اس وقت بھارت کے اندر مودی حکومت کے خلاف جس قسم کی مخالفت کا سامنا ہے اور بھارت کے طول وعرض میں مودی کے پتلے اور بھارتی جھنڈا جلائے جانے کی تحریک زور پکڑ تی جا رہی ہے ، اس سے عوام کو باز رکھنے اور ان کی توجہ کشمیر کنٹرول لائن کی جانب مبذول کرنے کی کوششوں میں بھارتی سیکورٹی فورسز عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کنٹرول لائن کے پار مسافر بسوں اور سویلین آبادیوں پر حملے کر رہی ہیں ، یہاں تک کہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لئے آنے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرتیں ، جو انسانیت سوز سلوک کے زمرے ہی میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ سویلین آبادی اور ایمبولینسوں کو تو جنگوں کے دوران بھی نشانہ بنانے سے احتراز کیا جاتا ہے ۔ جبکہ بھارتی حکومت میں اتنی بھی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ پاکستانی افواج کی جانب سے جوابی کارروائی میں نشانہ بنانے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کو ہی تسلیم کرے ، حالانکہ بھارتی اشتعال انگیزی میں پاکستان کے فوجی افسروں اور نوجوانوں کی شہادت کو تسلیم کرلیا جاتا ہے اور جواب میں اس سے کہیں زیادہ بھارتی فوجیوں کو جہنم رسید کر لیا جاتا ہے ، جس کو تسلیم کرنے پر بھارت بادل ناخواستہ ہی تیار ہوتا ہے۔ بہر حال وزیر اعظم نے بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان عام بے گنا شہریوں کی شہادتوں کو ہرگز قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ اور اقوام متحدہ کے علاوہ عالمی برادری کو اس جارحیت کا نوٹس لینے کا کہہ کر حکومتی سطح پر مثبت اقدام کیا گیا ہے ، جبکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ائیر چیف نے جس طرح بھارتی حکومت کو پاکستانی افواج کی صلاحیتوں کے حوالے سے انتباہ کیا ہے ، بھارتی حکومت اور بھارتی افوا ج کے سربراہ کو ان باتوں پرسنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہیئے کیونکہ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرکنٹرول لائن پر اسی طرح جارحانہ کارروائیاں کرتے ہوئے معصوم عوام کی جانوں سے کھیلتا رہے گا یاپاکستانی مسلح افواج کی چوکیوں پر جارحیت مسلط کرکے کوئی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا تویہ اس کی بھو ل ہے۔بھارتی افواج جارحیت کریں گی تو انہیں کئی گنا زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا اس لئے یہ بھارت کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ کنٹرول لائن پر جارحیت ختم کرے اور مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام پرتوڑے جانے والے مظالم بند کر کے کشمیر کے تنازعے کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کے لئے مذاکرات کی میز پر آئے تاکہ خطے میں مستقل امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے ۔

متعلقہ خبریں