پولیس کے سمگلروں سے تعلقات ؟

پولیس کے سمگلروں سے تعلقات ؟

چیف کیپٹل پولیس پشاور نے سمگلروں سے تعلقات اور عرصہ دراز سے تھانہ حیات آباد اور پولیس چوکیوں میں تعینات پولیس افسروں اور اہلکاروں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس حکام کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ تھانہ حیات آباد اور اس کی پولیس چوکیوں میں تعینات پولیس اہلکاروں کے سمگلروں سے تعلقات ہیں اور وہ ان سے باقاعدہ رشوت وصول کر کے نان کسٹم پیڈ سامان سمگل کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیشتر افسر اور اہلکار عرصہ دراز سے تعینات ہیں ایسے افسر اور اہلکار بھی ہیں جنہیں جب تبدیل کیا جاتا ہے تو وہ دوبارہ اپنے پرانے مقامات پر تبادلے کرواتے ہیں ۔ اس ضمن میں ایک عمومی کلیئے کو اگر ذہن میں رکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اگر عرصے تک پانی بھی ایک جگہ کھڑا رہے تو اس کے کناروں پر کائی اور اس کی سطح پر زنگ جم جاتا ہے ، اس میں بد بو پیدا ہو جاتی ہے اور جراثیم اس کے اندر پلنا شروع ہو جاتے ہیں ، اس لئے اس قسم کے جو ہڑوں کو صاف کرنا بھی لازمی ہو جاتا ہے۔ دوسرا اصول سر کاری ملازمتوں کے حوالے سے یہ ہے کہ انگریز کے دور میں اور بعد میں قیام پاکستان کے بعد بھی کوئی سرکاری ملازم ایک جگہ پر تین سال سے زیادہ عرصے تک تعینات نہیں رکھا جاتاتھا یہ اصول آج بھی قائم ودائم ہے مگر اب اس پر کم کم ہی عمل کیا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ایک ہی جگہ پر عرصہ دراز تک تعینات رہنے والوں تک قانون شکن افراد کے لئے رسائی بہت آسان ہو جاتی ہے اور متعلقہ اہلکاروں کو بھی یہ فکر نہیں رہتی کہ ان کے خلاف کسی شکایت کی اوپر کی سطح پر شنوائی ہو سکے گی ۔ جہاں تک پولیس کے محکمے کا تعلق ہے اوپر کی سطح پر اگر ایمانداری کا کوئی شائبہ ہو تو ہو مگر نچلی سطح پر کرپشن اب بھی اس محکمے میں سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ اس کا ثبوت گزشتہ روز ایک ٹی وی فوٹیج کے منظر عام پر آنے سے دو اہلکاروں کی گرفتاری کے احکامات ہیں ، یہ تو وہ لوگ تھے جن کی نشا ندہی ہوگئی تھی ورنہ اس قسم کی ''وارداتیں '' صوبے کے کس مقام پر عام نہیں ہیں ، اس لئے جن لوگوں کو تبدیل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ان کی واپسی کے لئے کوئی سفارش قبول نہ کی جائے اور اسی طرح دوسرے علاقوں کے تھانوں کے بارے میں بھی خفیہ انکوائریاں کر وائی جائیں تو مزید کئی لوگ سامنے آسکتے ہیں جن کے خلاف تا دیبی کارروائی لازمی ہے ۔

متعلقہ خبریں