الوداع راحیل شریف

الوداع راحیل شریف

خالص جمہوری معاشروں میں تو حکومتوں کی تبدیلی کسی بھونچال اور طویل بحث وتمحیص کا موضوع نہیں ہوتی چہ جائیکہ ایک جرنیل کی رخصتی اور تبدیلی پر قہوہ خانوں سے ٹی وی سٹوڈیوز تک اور جلسہ گاہوں سے اخباری کالموں تک مہینوں مباحثہ ہوتا رہے ۔پاکستان جیسی لڑکھڑاتی اور ڈگمگاتی جمہوریتو ں میں کسی فوجی سربراہ کا مارشل لاء لگائے اور شیروانی پہنے بغیر ہی وردی میں رخصت ہونا بلاشبہ ایک غیر معمولی واقعہ ہی تصور کیا جاتا ہے ۔ایسا بھی نہیں کہ پاکستان میں ہر آرمی چیف وردی کی جگہ شیروانی پہن کر اور فوجی سے سویلین حکمران بن کر ہی رخصت ہوا ہو ۔جنرل ایوب خان ،جنرل یحییٰ ،جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کو چھوڑ کر پاکستانی فوج کے بہت سے سربراہ اپنی مدت ملازمت قواعد و ضوابط کے مطابق پوری کرکے رخصت ہوتے رہے ۔جنرل راحیل شریف کو ان دونوں فہرستوں میں موجود ناموں میں اس لئے الگ نہیں رکھا جا سکتا کہ انہوں نے ملکی سیاست کی بساط لپیٹ کر حکمران بننے کی کوشش نہیں کی ۔بلاشبہ جنرل راحیل شریف نے بدترین حالات کے باوجود ایسا نہیں کیا مگر ایسا نہ کرکے انہوں نے پاکستانی قوم پر کوئی احسان نہیں کیا ۔یہ ان کے حلف کا تقاضا تھا اور وہ سسٹم کے ساتھ چلتے رہے ۔کون نہیں جانتا کہ جنرل راحیل شریف کو سسٹم سے بہت سی شکایات بھی رہیں مگر وہ ایک اچھے سپہ سالار کی طرح حالات سے نباہ کئے رہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک حالات کی کسی نئی دلدل میں دھنسنے سے محفوظ رہا ۔فوجی حکومتیں تو پاکستان میں قائم ہوتی رہیں مگر حالات ٹھیک کرنے اور ملک کو تباہی کی دہلیز سے واپس لانے کے نام پر اقتدار میں آنے والے جرنیل اقتدار کے ایوانوں سے رخصت ہوتے رہے تو اپنے پیچھے پہلے سے زیادہ بڑے مسائل چھوڑ جاتے رہے ۔جنرل راحیل شریف کا مارشل لاء نہ لگانا انہیں اپنے پیش روئوں سے ممتاز اور ممیز نہیں کرتا ۔انہوں نے آئین کی بساط لپیٹنے سے گریز کیا تو یہ قوم وملک پر ان کا احسان نہیں فرض شناسی اور حلف کی پاسداری ہے ۔راحیل شریف کو جس بات نے عزت اور احترام دیاوہ ملک کے حالات سے نمٹنے کے لئے ان کی کامیاب حکمت عملی ہے ۔ پاکستان کے پاور سٹرکچر کی ایک زمینی حقیقت پاک آرمی بھی ہے۔گردوپیش کے حالات اور خطرات نے پاک فوج کا کردار بڑھا نے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فوج ملکی حالات سے دامن بچا کر نظریں چرا کر نہیں رہ سکتی۔یہ حقیقت بھی تسلیم کی جانی چاہئے کہ فوج جب اقتدار میں آتی ہے تو یہ کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ ایک ادارے کا فیصلہ ہوتا ہے اور جب حکومتی ایوانوں سے رخصت ہوتی ہے تو اس میں عالمی اور مقامی حالات اور مجبوریوں کے ساتھ ساتھ ادارے کے فیصلے کا دخل بھی ہوتا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ پاک فوج نے اقتدار میں آنے اور اپنی پیشہ ورانہ راہ پر گامزن رہنے کے نتائج اور عواقب کی ایک بیلنس شیٹ مرتب کر کے ہی براہ راست مداخلت سے گریز کا راستہ چن لیاہے ۔جنرل راحیل شریف نے جب پاکستان کی کمان سنبھالی توملک معاشی اورعسکری دہشت گردی کی دلدل میں دھنس رہا ہے ۔ملک میں چھوٹے چھوٹے پاور سینٹر اُبھرے ہوئے تھے یوں لگ رہا تھا کہ ملک وار لارڈز میں تقسیم کر دیا گیا ہے ۔دہشت گردوں کو بیرون ملک بھارت اور افغانستان جیسی پناہ گاہیں میسر تھیں تو اندرون ملک بھی ہر گلی اور محلے میں انہیں پناہ اور آمدورفت،علاج معالجے کی سہولت حاصل تھی ۔ملک کے وسائل بری طرح لوٹ کر بیرون ملکوں میں منتقل کئے جا رہے تھے ۔ریاست کے اندر ایک ریاست تو دہشت گردوں نے قائم کررکھی تھی ایک اور ریاست غیر ملکی بنائے ہوئے تھے جو کنٹریکٹرز ،سفارت کاروں ،سیاحوں ،این جی اوز کے پردے میں ملک میں اپنے پیر جمائے ہوئے تھے ۔دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور اس غیر ملکی نیٹ ورک میں گہرے روابط تھے ۔راحیل شریف نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا انتہائی تلخ اورمشکل فیصلہ کیا ۔بظاہر یہ ریت میں مچھلیاں تلاش کرنے کے مترادف تھا ۔دہشت گردی کی شکلیں جدا تھیں ،علاقے مختلف تھے ،سرپرست الگ تھے اور ان میں سے ہر ایک گروہ سے نمٹنے کے لئے الگ حکمت عملی کی ضرورت تھی جو قطعی ناممکن تھا ۔راحیل شریف نے براہ راست اقتدار میں آئے بغیر اس چیلنج سے نمٹنے کا راستہ اختیار کیا اور وہ اس حکمت عملی میں کامیاب بھی رہے ۔انہوں نے قومی اور سیاسی قیادت کو اس عمل میں ساتھ لے کر چلنے کی روایت قائم کی اور اگر کسی نے ناراض ہو کر بدکنے کی کوشش بھی کی تو اسے واپس مرکزی دھارے میں لایا گیا۔یوں پاکستان سی پیک جیسی ذمہ داری اُٹھانے کے قابل ہوا ۔طوائف الملوکی کا شکار ملک میںچین جیسی محتاط عالمی طاقت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی ۔راحیل شریف نے بھارت کے ساتھ پاکستان کے اصولی اور تاریخی اختلافات کو اوونر شپ دی ۔آج جب راحیل شریف ڈھائی فٹ کی کمانڈ سٹک اپنے جانشین کو پیش کرنے جا رہے ہیں تو پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پرہمیشہ سے زیادہ مستحکم اور ایک واضح سنگ میل کے ساتھ درست سمت میں محو سفر ہے ۔وہ اقتدار سے چمٹے رہنے اور اس خواہش کے لئے انتخابات میں دھاندلی ،روپے پیسے کے بے دریغ استعمال ،سیاسی جماعتوں کو لمیٹڈ کمپنیوں کی طرز پر چلانے جیسے اقدامات پر یقین رکھنے والے سیاست دانوں کے لئے بھی ایک قابل تقلید مثال چھوڑ کر جارہے ہیں جن کا خیال تھا کہ ملک میں سار ا بحران جنرل راحیل کی ملازمت میں توسیع کا شاخسانہ ہے ۔وقت نے ثابت کیا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان متنازعہ مسائل اپنی جگہ موجود ہیں اور ان کا راحیل شریف کی آمدورفت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔فوجی جرنیلوں سے قواعد ،قانون اور آئین کی پاسداری کرنے والوں کو اب خود بھی سیاست اور طاقت کے کھیل میں آداب اور قواعد کو اپنانا ہوگا ۔

متعلقہ خبریں