ترک سکولوں اور اور سیز پاکستانیوں کے مسائل

ترک سکولوں اور اور سیز پاکستانیوں کے مسائل

برادر ملک ترکی میں ناکام بغاوت سے جو مسائل پیدا ہوئے وہ بہت گمبھیر ہیں ۔ ہم پاکستانیوں کی اکثریت نے اس بغاوت کی ناکامی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا تھا اور اب یہ دعا کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ترکی اور پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کو ہرآفت سے محفوظ رکھے ۔ کیونکہ اسلامی دنیا بالخصوص عرب ممالک جن کی خوشحالی اور سماجی ترقی پر ہم جیسے ممالک کے لوگ رشک کرتے تھے اب وہاں کے لوگ جان کی امان پانے کی تلاش میں سرگرداں پھر رہے ہیں۔ان کھاتے پیتے اور عیاشی کی حد تک مسرف ملکوں کے احوال دیکھ کر بے اختیار زبان پر قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ جاری ہو جاتی ہے ۔''ترجمہ ۔ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی (قدرت ) کی الگ نشان ہوتی ہے ۔ '' کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ اگلے لمحہ کیا ہو گا ۔ اس لئے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ہر دم اللہ سے خیر وعافیت کی دعا کرے ۔ بہر حال ، 2016ء کا عالم اسلام کا یہ حادثہ اور سانحہ سب سے خطر ناک تھا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔ اس واقعہ کے بعد طیب اردوان کی حکومت نے اُن لوگوں کے خلاف سخت ایکشن لیا ۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں ہزاروں لوگ مختلف محکموں ، شعبوں بالخصوص فوج اور پولیس سے برخاست کئے گئے ۔ یقینا یہ بحیثیت مجموعی مسلمانوں کا نقصان ہے کیونکہ ان برخاست شدہ لوگوں میں اپنے اپنے کام اور فن کے بڑے ماہر لوگ بھی فارغ ہو چکے ہوں گے ۔ جس سے ترک حکومت اور معاشرے کے کام متاثر ہورہے ہوں گے کیونکہ ان لوگوں کا نعم البدل پیدا کرنا ایک وقت طلب کام ہوگا ۔د وسری طرف ان لوگوں کے خاندان کے افراد کی معاشی حالت بھی متاثر ہو ئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ لیکن حکومت کی مجبوری ہے کہ ان لوگوں پر مزید اعتما د و اعتبار بھی تو نہیں کیا جا سکتا ۔اب صورت حال یہ ہے کہ ترکی کی و ہ حکومت جو گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے ترک عوام کی خوشحالی اور ملکی استحکام کے لئے شبانہ روز کام کر رہی تھی ، ملک کے اندر اس تحریک کے لوگوں پر نظر رکھنے کے لئے بہت سارے وسائل استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نا دیدہ خوف وخلجان میں بھی مبتلا ہے ۔ اور اسلام مخالف عناصر اس سے فائدہ اُٹھا تے ہوئے ترکی کے اندر دھماکے کر رہے ہیں جس سے قیمتی جانو ں کے ضیاع کے علاوہ تجارتی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں ۔ ترک صدر ایران ، پاکستان ،سعودی عرب اور روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میںمصروف ہیں ۔ اس سلسلے میں پچھلے دنوں ترک صدرنے پاکستان کا دوروزہ دورہ کیا تو یہاں بھی سب سے اہم مسئلہ وہی سامنے آیا جو ناکام بغاوت کے سبب بنا تھا ۔ یعنی جہاں کہیں گولن عناصر کی موجودگی کا شائبہ بھی پایا جائے تو اُس کے خلاف اقدامات کئے جائیں ۔ اسی تسلسل میں ایک مدت سے پاکستان میں ترک سکولوں کا مسئلہ سامنے آیا ۔ پاکستان میں ترک سکولوں کو ختم کرنے کے حوالے سے پچھلے دنوں بہت شور اُٹھا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک مشکل مسئلہ اس لئے تھا کہ ایک طرف ترک حکومت کا پاکستان سے بحیثیت برادر ملک مطالبہ تھا کہ ترک سکولوں کو فی الفور ختم کیا جائے اور دوسری طرف ہزاروں طلبہ اورسینکڑوں اساتذہ کے بے روزگار ہونے کا معاملہ تھا ۔ اس حوالے سے بعض شہروں بالخصوص ترک صدر کی آمد کے موقع پر چند مظاہرے بھی ہوئے لیکن ترک سکولوں کا بند ہونا امر واقعہ ہو چکا تھا ، لہٰذا سکول بند ہوگئے ۔ لیکن اب متعلقہ محکموں کو چاہئیے کہ ان طلبہ کو دیگر سکولوں میں ترجیحی بنیادوں پر داخلے دیئے جائیں تاکہ ان کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچا یا جا سکے اور ان سکولوں کے اساتذہ کو متبادل سکولوں میں ملازمت دی جائے یا گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے تا کہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو ۔ لیکن اس سلسلے میں ہم سب کو یہ بات یا د رکھنا ہوگی کہ بہر حال ان سکولوں کا سلسلہ فتح اللہ گولن نے چلایا ہے لہٰذاپاک سرزمین پر اس وقت ان کا جاری رکھنا مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہے کیو نکہ فتح اللہ گولن کے لوگ اس وقت سخت زخمی ہیں ۔اس لئے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام بالخصوص ترک سکولوں کے طلبہ اور پاکستانی اساتذہ احتیاط سے کام لیں ۔ اسی طرح ایک اور اہم عوامی مسئلہ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کا ہے۔ وہاں لاکھوں پاکستانی گزشتہ ڈیڑھ صدی سے وطن عزیز کے لئے قیمتی زرمبادلہ کما رہے تھے ، لیکن عراق ، لیبیا ، شام اور وہاں کی خانہ جنگیوں کے اثرات خلیجی ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان امیر ممالک میں تجارتی ، تعمیراتی اور دیگر معاشی سرگرمیاں بہت کمزور پڑ گئی ہیں ۔ اس کے نتیجے میں ایک طرف ان مزدور لوگوں کو اُن کی جائز مزدوری کا معاوضہ ملنے میں دشواریاں درپیش ہیں اور دوسری طرف بہت بڑی تعداد میں لوگ واپس آرہے ہیں ۔ اور سیز ایمپلائنٹ ڈیپارٹمنٹ کو چاہئے کہ ان لوگوں کے بارے میں تفصیلی ہوم ورک کر کے ان کو پاکستان میں مختلف شعبوں میں صحیح مقام کی طرف رہنمائی فراہم کرنے کے انتظامات کرے ۔ اور اس کے علاوہ دیگر امیر ممالک اور مغربی ممالک میں ان کے لئے روزگارکے مواقع تلاش کئے جائیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو پاکستان کے اند ر سی پیک منصوبہ میں ایسے مواقع پید ا کئے جائیں کہ بیرون ملک تجربا ت کے حامل اس مین پاور کو بے روز گار ہونے سے بچا کر ملک و قوم کی ترقی میں لگا یا جا سکے ورنہ لاکھوں لوگوں کی اچانک واپسی سے بہت سارے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔ لہٰذا ان کے بارے میں صحیح منصوبہ بندی حکومت کی اولین ترجیحات میں ہونی چاہیئے ۔ 

متعلقہ خبریں