کار کردگی بمقا بلہ تنخواہ

کار کردگی بمقا بلہ تنخواہ

نواز لیگ کے ایک ترجمان طلال چودھری صاحب ہیں ۔ باری تعالیٰ نے اُنہیں زبان وبیان کی خوبیوں سے بدرجہ اتم نوازا ہے ۔ وہ آج کل شب و روز نواز لیگ کے فلسفہ سیاست کی تشریح و توضیح میں مصروف رہتے ہیں ۔ شنید ہے کہ وہ اس سے پہلے ق لیگ کے سیاسی محا ذ پر توپ بردار تھے ۔ یہ جو کل اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 150فیصد کا اضافہ ہوا ہے اس پر موصوف نے فرمایا ہے کہ یہ اضافہ مہنگائی کے تناسب سے اب بھی اونٹ کے منہ میں زیرے سے بھی کم ہے بقول ان کے شبانہ روز قو م کی خدمت میں مصروف قومی نمائندوں کے پٹرول کے اخراجات بھی اس میں بمشکل پورے ہو سکتے ہیں۔ دو لاکھ ماہانہ تنخواہ وصول کرنے والے وفاقی وزیر اور ڈیڑھ لاکھ جو اب پارلیمنٹ کے ممبر کو ہر ماہ ملیں گے ، 75ہزار ماہانہ حلقہ الائونس ، یو ٹیلٹی کے 50ہزار اور آفس کے ایک لاکھ اخراجات اس کے علاوہ ہیں کیا ان کو اس بات کا احساس ہے کہ ملک کے ڈھائی کروڑبچے سکول نہیں جاتے اور 60فیصد آبادی غربت سے دوچار ہے اور یہ کہ 500روپے دیہاڑی پر کام کرنے والا مزدور اس میں اپنا کنبہ کیسے پالتا ہے ۔ ہم تو کہتے ہیں کہ قومی خزانہ پارلیمنٹ میں بیٹھے مسکینوں کے حوالے کر دیا جائے ۔ اُن سے جو تلچھٹ رہ جائے باقی قو م اس پر گزارہ کر لے گی ۔ سچ پوچھئے تو ہمیں اراکین پارلیمنٹ کے حق محنت پر اس لئے بھی کوئی اعتراض نہیں انہوں نے تو اپنی پوری زندگی قوم کی خدمت کے لئے وقف کر رکھی ہے ۔ جسکااندازہ ان کی پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت سے لگا یا جا سکتا ہے۔ چیف ایگز یکٹو کو تو جانے دیجئے وہ تو اپنے دیگر انتظامی امور میں اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ وہ پہلے پارلیمانی سال کے قومی اجلاسو ں میں صرف سات بار شریک ہوئے ۔ جبکہ فافن کی اطلاع کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال کے دوران وہ ایوان بالا میں ایک دن کے لئے بھی تشریف نہیں لائے۔ پارلیمانی لیڈروں کی پارلیمان میں حاضری کا اوسط 60فیصد رہا ۔تحریک انصاف کے سربراہ پہلے پارلیمانی سال میں صرف گیارہ دنوں کے لئے پارلیمان میں آئے ۔جمعیت العلماء اسلام کے سربراہ 100دنوں میں پندرہ بار تشریف لائے قومی اسمبلی کے تین اجلاسوں میں انہوں نے شرکت نہیں فرمائی ، ق لیگ کے پارلیمانی لیڈرکی بھی پارلیمان میں حاضری 11سے آگے نہ بڑھی پارلیمان کے لئے کچھ ایسے با کمال لوگوں کا بھی انتخاب ہوا ہے جنہوں نے سارے پارلیمانی سال کے صرف دو اجلاسوں میں شرکت کی جن میں ایک کا تعلق بلوچستان سے ہے اور دوسرے پختونخواسے ہیں ۔ ہمارے وفاقی وزیر خزانہ جن کی نظر ہمیشہ دو چیزوں پر ہوتی ہے ۔ ایک تو یہ کہ بچے آئس کریم کھانے کی عیاشی نہ کرسکیں اور غریب خاندانوں کو پیٹ بھر کر روٹی کھانا نصیب نہ ہو ، انہوں نے جب ایک اخباری اطلاع کے مطابق وزیر اعظم کے سامنے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضا فے کی تجویز رکھی تو انہوں نے مسکرا تے ہوئے فرمایا ہم آپ کی سفارشات کو منظورکرتے ہیں مگر ان اراکین کو بھی کہیں کہ وہ بھی اپنی کا ر کردگی کو بہتر بنائیں ۔ اس کے بعد کا بینہ کے اجلاس میں بیک جنبش قلم پارلیمان کے ممبر وں کی تنخواہوں میں 150فیصد اضافے کی منظوری دے دی جو بقول طلال چودھری ان کے پٹرول کے اخراجات کے لئے بھی ناکافی ہے ۔ اس کے جواب میں تو یہی کہا جاسکتا ہے ۔ مڑیدل خو دگو رپہ خاورو کیگی ۔ ان کی لالچ تو صرف قبر کی مٹی سے ہی ختم ہو سکتی ہے ۔ دوسری جانب آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہر سال نئے بجٹ کے آنے سے پہلے سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لئے آواز اٹھاتے ہیں جسکے جواب میں اس اضافے کے لئے کمیٹی بنادی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ فیلر بھی چھوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ اضافہ اس سال انشاء اللہ 25سے 30فیصد تک متوقع ہے پہلی کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینے کے لئے ایک نئی کمیٹی بنتی ہے تین چار ہ ماہ تک شش و پنج میں مبتلا رکھنے کے بعد کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق تنخواہ اور پنشن میںصرف 8سے 10فیصد تک کے اضافے کا اعلان ہوتا ہے۔ گزشتہ دس یا بارہ سال کے دوران اس سے زیادہ اضافہ سامنے نہیں آیا وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ قومی خزانہ اس سے زیادہ کا بوجھ برداشت کرنے کا متحمل نہیں۔ یقین جانئے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں صرف یہ گزارش ہے کہ یہ اضافہ ان کی کار کردگی سے منسلک کر دیا جائے ۔بائیومیڑک سسٹم کے ذریعے پارلیمان میں ان کی حاضری لگائی جائے ۔ افغانستان کے پارلیمنٹ کے اراکین کو ان کی بھی پارلیمان میں شرکت کا حساب لگا کر تنخواہ دی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار یہاں بھی اپنا یا جائے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کے فیصلے بھی کمیٹیوں کی سفارشات پر کرنے کی بجائے وزیراعظم از خود کیبنٹ کے اجلاس میں کریں جیسے کہ انہوں نے پارلیمان کے اراکین کی تنخواہ میں اضافے کے لئے کسی کمیٹی کی سفارشوں کا انتظار نہیں کیا اور اپنی صوابدیدپریہ فیصلہ صادر کر دیا ۔ جیسے کہ ہم نے عرض کیا یہ اضافہ 150فیصد تک کیا گیا ہے جسکے نتیجے میں قومی خزانے پر 40کروڑ روپے تک اضافے کا تخمینہ لگا یا گیا ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ اس اضافے کے بعد وہ جووزیراعظم نے توقع ظاہر کی ہے ہمارے قومی نمائنددں کی کارکردگی میں کیا بہتری آتی ہے یا ہمارے گل بہادر خان یوسف زئی کے بقول اگر یہ لوگ تنخواہ کو ماجب سمجھ کر وصول کرتے ر ہے پھر تو حالات بدستور رہیں گے ۔ 

متعلقہ خبریں