نادرن گیس (ٹربل )

نادرن گیس (ٹربل )

بہت سی ای میلز موصول ہوتی ہیں ۔ان میںسے کچھ توکالموں پر تبصرے ہوتے کچھ اپنے مسائل پر لکھنے کی درخواست ہوتی ہے ۔ہمارے ہاں مسائل بھی اتنے ہیں کہ جو لاینحل تو کسی صورت نہیں ہوتے لیکن ہمارے رویے انہیں ایسے مقام پر لے آتے ہیں کہ وہ ایک ناسوربن جاتے ہیں ۔ ایک ای میل گورنمنٹ کالج پشاور کے طلباء نے لکھ کربھیجی ہے ۔اس ای میل کا سب سے پہلا حوالہ تو اس کی زبان ہے کہ جس میں مجھے ایک ادبی شان دکھائی دی ۔دوسرا اس ای میل کا لہجہ بڑا مہذب تھا۔اگر چہ اس میں ایک چھوٹاسا مسئلہ بیان کیا گیا ہے لیکن میں اسے ایک بڑا مسئلہ سمجھتا ہوں ۔ ان بچوں نے لکھا کہ کالج کے انٹرنل ہاسٹل میں تما م ٹاپر رہتے ہیں ۔اور یہ ٹاپرز وہ ہیں جنہوں نے میٹرک کے امتحان میں ایک ایک ہزار یا اس سے تھوڑے کم نمبرزحاصل کیے ہیں ۔اس ہاسٹل میں مصیبت یہ ہے کہ نومبر کے شروع ہوتے ہی گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوجاتی ہے ۔ اس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے گیزر کام نہیں کرتے اورانہیں اس سرد موسم میں یخ بستہ پانیوں کے ساتھ وضو کرنا پڑتا ہے ۔ اس گیس کی لوڈ شیڈنگ کا ایک نقصان انہیں ناشتے ، دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے میں بھی برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ گیس کے روٹھ جانے کی وجہ سے ہاسٹل کے باورچیوں کو روایتی اندازسے لکڑیوں کی آگ جلاکر اس پر کھانا پکانا پڑتا ہے ۔میرے قارئین بھی کہیں گے کہ پاناما لیکس،سی پیک کی آمد، انڈیا کی جارحیت ، دہشت گردی ، ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح ، وغیرہ جیسے ملکی وبین الاقوامی موضوعات کی فراوانی میں مجھے کیا پڑگئی کہ میں ایک چھوٹے سے کالج کے ایک چھوٹے سے مسئلے کو بیان کرکے کیوں قارئین کا ٹائم ضائع کررہا ہوں ۔تو اس ضمن میں میر اموقف یہ ہے کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے مسائل اجتماعی طور پرمسائل کاپہاڑ بن جاتے ہیں ۔ایف ایس سی کرنے والا نوجوان عمر کے اس حصے میں ہوتا ہے کہ جہاں اس کا مستقبل سنورتا بھی ہے اور بگڑتا بھی ہے ۔ اب ایک نوجوان کہ جو اپنا گھر بار چھوڑ کر اس ہاسٹل میں مسافری کی زندگی گزار رہا ہے ۔اس بچے کو پیس آف مائنڈ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ان افسروں کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ وہ بچے کیسے صبح سویرے ٹھنڈے پانیوں کے ساتھ منہ ہاتھ دھوتے ہوںگے ۔ گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے ہاسٹل کے ان بچوں کے کھانے کے ٹائم ٹیبل میں کتنا حرج ہوتا ہوگا۔کیونکہ ان بچوں نے ایک ٹائم ٹیبل پر ہی کام کرنا ہوتا ہے ۔صوبائی حکومت نے آتے ہی تعلیم کے شعبے میں ایمرجنسی نافذ کررکھی ہے اور اس ایمرجنسی کے نفاذ میں صوبائی حکومت نے بہت سے اچھے اقدامات کیے ہیں ۔ ان اقدامات کا مقصد ظاہر سی بات ہے کہ تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کوایک اچھا ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے ، اور ایک حکومت اس ضمن اتنا ہی کرسکتی ہے ۔ باقی کا کام تو ان اداروں کو چلانے والے ہی کرتے ہیں اور سہولیات فراہم کرنے والے ادارے اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ تعلیمی ایمرجنسی کی حالت میں نادرن گیس والوں کی یہ پرفارمنس یقینا حکومت کے کاز کے لیے مایوس کن ہے ۔ میں اس مسئلے کی جانب جناب وزیر اعلیٰ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ وہ ان اداروں کے ذمہ داروں سے باز پرس کریں ۔ کیونکہ یہ مسئلہ پچھلے پانچ برسوں سے چل رہا ہے ۔شدید سردیوں میں سوئی نادرن والے منہ چھپا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ہر بار یہ کہا جاتا ہے کہ آبادی میں اضافے کی وجہ سے لوڈ زیادہ ہے اور لائنیں پرانی ہیں ۔ تو بھائی پانچ برسوں میںآپ نے کیا کیا ہے ؟ کیا جنات آکر یہ کام کریں گے ۔ لائنیں پرانی ہیں تو اس کا بھی کوئی حل ہوگا۔ بعض وی آئی پی علاقوں میں آپ ہی کے ادارے نے لوپ لائنیں ڈال کر ان وی آئی پیز کو خوش کردیا تھا تو صاحب والاشان ہم بھی ان طالب علموں کی جانب سے آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ مستقبل کے ان اصلی وی آئی پیز کے لیے بھی کوئی راست اقدام کرلیں ۔تنخواہ تو حکومت پاکستان دیتی ہے لیکن ثواب اللہ دیتا ہے ۔علم کے متلاشی بلاشبہ اللہ کے دوست ہوتے ہیں اور اللہ کے دوستوںکی دعائیں تو بہرحال لگ ہی جاتی ہیں ۔ تومیری بھی نادرن گیس والوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی منصبی کوتاہیوں کو دورکریں اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں ۔ ہمارا صوبہ 20فیصد قدرتی گیس ملک کود یتا ہے لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہیں ۔بچے پڑھ نہیں سکتے ۔اور سردی اور خشک سالی کا یہ عالم ہے ہرسو بیماریاں پھیلی ہیں ۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ بے حسی کا ایک ایسا عالم ہے کہ کوئی کسی کی بات نہیں سنتا ۔ گیس والے پہلے تو اخبارپڑھتے نہ ہوں گے ۔ پڑھیں گے تو ہماری گزارش کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں گے ۔ مگر ہم کیا کریں کہ ہم نے ان خوبصورت لوگوں کو کہ جو ہمارا مستقبل ہیںگورنمنٹ کالج کے ان ہونہار طالب علموں سے ہم نے جوابی ای میل کے ذریعے وعدہ کرلیا ہے کہ جب تک ان کے ہاسٹل کے پائپوں میں گیس کی فراوانی نہیں ہوگی میں ان کے مسئلے کو اپنے کالموں میں جگہ دیتا رہوں گا ۔ کیو نکہ کالم نگار کا ایک کام فریاد کرنا بھی ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ جو فریاد دوسروں کے لیے ہو اسے اللہ بھی سن لیتا ہے پھر انسان کی کیا حیثیت و اہمیت ۔
اک طرز تغافل ہے سو ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

متعلقہ خبریں