مشرقیات

مشرقیات

ایک بار مولانا روم کی شریک حیات نے اپنی ملازمہ کو سخت سزا دی ۔ اتفاقاً مولانا بھی اسی وقت تشریف لے آئے ۔ بیوی کی یہ حرکت دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور غم زدہ لہجے میں فرمانے لگے ''تم نے خدا کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا ، یہ اسی کی ذات پاک ہے جو غلاموں کو آقا اور آقائو ں کو غلام بنا دیتی ہے ۔ ایک لمحے کے لئے اس وقت کا تصور کر وجب تم کنیز ہوتیں اور یہ عورت مالکہ کی حیثیت رکھتی ، پھر تمہارا کیا حال ہوتا ؟ '' مولانا کی یہ اثر انگیز گفتگو سن کر شریک حیات نے اس ملازمہ کو آزاد کردیا اور پھر جب تک زندہ رہیں ، خادمائوں کو اپنے جیسا کھلاتیں اور پہنا تیں ۔
مولانا روم کا ہمدردانہ سلوک صرف انسانوں ہی کے لئے مخصوص نہیں تھا ۔

ایک بار امیر شہر معین الدین پروانہ کے یہاں محفل جاری تھی ، کسی معزز خاتون نے شرکا ئے مجلس کی تواضع کے لئے مٹھائی کے دوبڑے طباق بھیجے ۔ 

بیشتر حاضرین کلام معرفت میں کھوئے ہوئے تھے ۔ اتفا ق سے ایک کتا محفل میں گھس آیا اور اس نے آتے ہی طباق میں منہ ڈال دیا ۔ اہل محفل میں سے کسی کی نظر پڑی تو اس نے بلند آواز میں کتے کو ڈانٹ کر بھگا نا چاہا ۔ مولا نا روم جو بہت دیر سے آنکھیں بند کئے کیفیات میں گم تھے ، چیخ سن کو چونک پڑے اور جب یہ منظر دیکھا تو اس شخص کو ہاتھ کے اشارے سے روک دیا ، جو کتے کو بھگانے کی کوشش کر رہا تھا ، کتے نے گھبراکر شیر ینی کھانی شروع کر دی اور پھر کچھ مٹھائی کے دانے دبا کر چلا گیا ۔ کتے کے جانے کے بعد مولانا نے فرمایا اس کی بھوک تم لوگوں کے مقابلے میں تیز تھی اس لیئے مٹھائی پر بھی اسی کا حق زیادہ تھا ۔''
ایک بار مولانا اپنے مریدوں کے ہمراہ ایک تنگ گلی سے گزر رہے تھے ۔اتفاق سے وہاں ایک کتا اس طرح سو رہا تھا کہ راستہ بند ہو گیا تھا ۔ اچانک ایک شخص جو مولانا روم کو جانتا تھا ، گلی کی دوسری جانب سے آرہا تھا ۔ اس نے مولانا کو کھڑا دیکھ کر کتے کو پتھر مارا ۔ وہ چیختا ہوا بھاگ گیا ۔ راستہ تو صاف ہو گیا ، لیکن مولانا کے چہرے پر دلی تکلیف کے آثار صاف نظر آرہے تھے ۔ جب وہ شخص قریب آیا تو آپ نے اس سے فرمایا '' اے بندہ خدا تو نے ایک جانور کی دل آزاری کر کے کیا پایا؟ میں کچھ دیر اس کے جاگنے کا انتظار کر لیتا ۔ '' ایک مرتبہ مولانا روم بازار سے گزر رہے تھے جب کچھ لڑکو ں کی آپ پر نظر پڑی تو وہ بھاگتے ہوئے آئے اور مولانا کے ہاتھو ں کو بوسہ دینے لگے ۔
مولانانے بچوں کو خوش کرنے کے لئے جواباً ان کے ہاتھ چوم لیے ۔ ایک لڑکا کسی کام میں مشغول تھا ، اس نے چلا کر کہا '' مولانا ابھی جایئے گا نہیں ، میں ذرا کام سے فارغ ہو جائو ں ۔ '' مولانا نے اس کی آواز سنی اور مسکرا نے لگے پھر آپ بہت دیر تک اس لڑکے کے انتظار میں کھڑے رہے ، جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر آیا تو اس نے مولانا کے ہاتھوں کو بوسہ دیا ، تب آپ تشریف لے گئے ۔ (سیرت اولیا)

متعلقہ خبریں