بے وقت کی راگنی

بے وقت کی راگنی

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کی وطن واپسی کے موقع پر قبل از وقت انتخابات کامطالبہ کرکے ایک مرتبہ پھر سیاسی مدوجزر کو بڑھا دیا ہے لیکن ان کا مطالبہ اسی قدر کمزور اور بے وزن ہے کہ سوائے ان کی جماعت کے کسی دوسری جماعت کو ان سے اتفاق نہیں۔ یہاں تک کہ خیبر پختونخوا میں شریک اقتدار اتحادی جماعت کے سربراہ سراج الحق بھی قبل از وقت انتخابات کے حامی نہیں بلکہ استحکام جمہوریت کے لئے عوامی مینڈیٹ کی مدت پوری کرنے کے حق میں ہیں۔ پیپلز پارٹی سمیت تمام قابل ذکر سیاسی جماعتوں کا بھی یہی موقف ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر کرائے جائیں۔ تحریک انصاف حکومتیں جانے اورانتخابات کی تاریخیں دینے کی شہرت رکھتی ہے لیکن اپنے موقف کی تائید و حمایت کے حصول اور سیاسی طریقے سے اس مطالبے کو منوانے کے لئے مشترکہ جدوجہد کی کبھی سعی نہیں کرتی۔ یہاں تک کہ ان کے اتحادیوں کو بھی ان کے موقف سے اتفاق نہیں جس کی بناء پر ان کا مطالبہ صدا بصحرا بن کر رہ جاتا ہے۔ ہمارے تئیں تحریک انصاف کی قیادت کا یہ رویہ خوداس کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ سیاست میں اولاً معقولیت' استدلال اور بعد ازاں مطالبے کی حمایت کے حصول اور اس کو منوانے کا آئینی اور اصولی طریقہ کار دیکھا جاتا ہے اور امکانات کا کئی کئی مرتبہ جائزہ لینے اور ہر سطح پر مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے جس کا پی ٹی آئی میں فقدان ہونے کے باعث ان کے مطالبات کے مضر ذیلی اثرات سے دو چار ہوتے ہیں جس کا سب سے زیادہ نقصان خود انہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس امر کو کھوجنا خاصا مشکل ہے کہ تحریک انصاف کے اس طرح کے بار بار مطالبات کا مقصد و مدعا کیا ہے مخالفین تو اسے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے لئے جلد ی ہونا قرار دے رہے ہیں۔ وزارت عظمیٰ یقینا ہر سیاستدان کی خواہش ہوتی ہے مگر اس کرسی کے حصول کے لئے بھی سانپ اور سیڑھی دونوں سے واسطہ پڑتاہے بالآخر منزل مقصود آجاتی ہے۔ ایک ممکنہ وجہ تو اس کی یہ ہوسکتی ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت سمجھتی ہو کہ اس کی جماعتی مقبولیت کا گراف 2018ء کے مقررہ وقت پر انتخابات تک یہ نہ رہے گو کہ این اے120 لاہور میں پی ٹی آئی نے مقابلہ تو خوب کیا مگر کامیابی نہ مل سکی صرف یہی نہیں ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو کامیابیاں نہیں ملیں۔ این اے 4پشاور کا ضمنی انتخاب تحریک انصاف کے لئے بعینبہ موت اور زندگی کامسئلہ ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے رکن اسمبلی کی وفات سے خالی شدہ نشست کو دوبارہ حامل نہ کر پائے تو صوبے میں آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں پر اس کا منفی اثر یقینی ہے۔ مستزاد عمران خان کی جانب سے عام انتخابات کے مطالبے کے بعد اگر یہ نشست حاصل نہ ہوئی تو مخالفین اسے عوامی ریفرنڈم سے تعبیر کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔ بہر حال یہ مشتے نمونہ از خروارے ہی سہی اس کے حصول کے لئے تحریک انصاف کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا چاہئے۔ تحریک انصاف کے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کے تناظر میں اس مطالبے کو کرنے والے اگر خود اپنی انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیں اور اپنی حکمت عملی پر نظر دوڑائیں تو دیگر سیاسی جماعتوں کی بہ نسبت ان کی تیاریاں شاید پوری نظر نہ آئیں۔ اس وقت صرف مسلم لیگ(ن) کی قیادت ہی کو قانونی و سیاسی چیلنجوں کاسامنا نہیں بلکہ خود عمران خان کو بھی ایسے سنجیدہ معاملات درپیش ہیں جن سے خلاصی کے بعد ہی ان کے لئے سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔ ہمارے تئیں 2018ء کے عام انتخابات میں ابھی اتنا زیادہ وقت بھی باقی نہیں کہ اس بارے عجلت کا مظاہرہ کیا جائے۔ بجائے اس کے کہ ایک نئے مطالبے پر وقت صرف کیا جائے اور ایک ایسا مطالبہ دہرایا جائے جس کو نہ تو سیاسی جماعتوں کی تائید و حمایت حاصل ہے اور نہ ہی کسی سیاسی و قانونی ذریعے سے اس کا حصول ممکن نظر آتا ہے۔ عمران خان کو وہ فارمولہ بھی واضح کرنا چاہئے جس کے ذریعے اس مقصد کا حصول ممکن ہوسکے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب معمول کے مطابق عام انتخابات کے دن نزدیک تر ہوتے جا رہے ہیں کیا تحریک انصاف کے لئے یہ بہتر نہیں کہ وہ انتخابی تیاریوں اور جیتنے کی صلاحیت و مقبولیت کے حامل دیانتدار امیدواروں کی تلاش کو اہمیت دے اور اس کو ممکن بنائے۔ تحریک انصاف کے لئے 2018ء کے انتخابات اس لئے بھی زیادہ اہم ہیں کہ دیگر جماعتوں کو جیتنے اور ہارنے کا تجربہ بھی ہے اور برداشت بھی جس کا پی ٹی آئی میں فقدان ہے۔ تحریک انصاف کے لئے آمدہ انتخابات اس لئے بھی ضروری ہیں کہ اس کی جدوجہد اور موقف کو عوام میں کتنی تائید حاصل ہوئی۔ تحریک انصا ف کو آئندہ کی کامیابیوں اور حکومت سازی میں حصہ داری کے لئے بھی سیاسی جماعتوں سے ہم آہنگی ضروری ہے۔ یہ شاید ہی ممکن ہو کہ تحریک انصاف کواتنی حمایت مل سکے کہ وزارت عظمیٰ کا تاج اسی کے امیدوار کے سر سج جائے۔ بہتر ہوگا کہ جذباتی مطالبات کی بجائے غور و فکر سے سیاسی حکمت عملی طے کی جائے او ر مقصد کے حصول کی جدوجہد اسی طرح کی جائے کہ راستہ دینے اور راستہ نکالنے کی گنجائش باقی رہے۔

متعلقہ خبریں