بھارت کا اصل چہرہ

بھارت کا اصل چہرہ

وزیر اعظم پاکستان خاقان عباسی کی اقوام متحدہ میں پاکستانی قوم کی بھر پور نمائندگی کے حامل خطاب اور کشمیری عوام پر بھارت کے مظالم اور کردار سامنے لانے پر بھارتی وزیر خارجہ جس طرح سیخ پا ہوئیں اور جو جوابی حملہ کیا اس سے قطع نظر خود بھارتی میڈیا میں کھل کر اس امر کا اظہار کہ را اور کالعدم تحریک طالبان کے گہر ے روابط ہیں ایک ایسی گواہی ہے جس سے بھارتی قیادت کو منکر نہیں ہونا چاہیئے ۔ پاکستانی میڈیا پر اس قسم کی خبروں اور تبصروں کو پروپیگنڈہ قرار دینے کی گنجائش تھی مگر جب اپنا میڈیا گواہی دے رہا ہے تو بھارتی حکام کو سوچنا چاہیئے کہ ان کے موقف کو خود بھارت کے اندر کس نظر سے دیکھا جارہا ہے ۔ بھارتی میڈیا میں اس امر کا اعتراف کیا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسی ''را'' اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے آپس میں گہرے تعلقات ہیں اور اس حوالے سے امریکا کوبھی شدید تحفظات ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی اور ٹی ٹی پی کے تعلقات کم کرنے کے لئے بھارت پر دبا ئوبڑھانا شروع کردیا ہے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق ٹی ٹی پی اور را کے تعلقات کا انکشاف پہلی بار طالبان کمانڈر احسان اللہ احسان کی گرفتاری کے بعد ہوا اور امریکا نے بھی اس معاملے پر پاکستان کے موقف کو تسلیم کرلیا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان کے قیام امن میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔دوسری جانب امریکی وزیردفاع جیمز میٹس کل سے دورہ بھارت کا آغاز کریں گے جس میں وہ بھارتی عسکری و سیاسی قیادت سے ٹی ٹی پی اور را کے معاملے پر گفتگو کریں گے اور پیغام دیں گے کہ بھارتی ایجنسی را اور ٹی ٹی پی کے مابین تعلقات کو کم کیا جائے اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہ خود بھارت کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔بھارتی میڈیا میں بھارتی حکومت اور قیادت کو جو آئینہ دکھایا گیا ہے وہ ان کو نظر آنا چاہیئے اس سے آنکھیں چرانے کی بجائے اس حقیقت کو تسلیم کر کے اپنی اصلاح کی فکر کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا انحصار بھارت کے رویے پر ہی منحصر ہوگا ۔ اب جبکہ امریکہ کو بھارت کا حقیقی چہرہ نظر آہی گیا ہے اور وہ خطے میں قیام امن کا خواہاں ہے تو اس کو بھارت سے بھی وہی سلوک کرنا چاہیئے جو رویہ اس کا پاکستان کے ساتھ ہے ۔ بھارت راہ راست پر آجائے تو خطے میں قیام امن کے خواب کے شرمندہ تعبیر ہونے کی راہ خود بخود ہموار ہوگی۔ افغانستان میں بھارت کی سازشیں رک جائیں تو پاکستان میں استحکام امن ممکن ہوگا اور دو ہمسایہ ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا جس کے نتیجے میں افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں اعتماد اور بہتری آئے گی ۔ بھارت کے پرور دہ عناصر کی افغانستان میں مراکز کمزور پڑجائیں اور اگر ان کا صفایا ہو سکے تو افغانستان میں داخلی سازشوں کے باعث پید ا شدہ حالات کا تدارک ہوگا جس کے نتیجے میں افغانستان کی داخلی قوتیں قریب آئیں گی اور مذاکرات و مفاہمت کی فضا میں افغان مسئلہ طے ہو گا جس کے خطے پر مثبت اثرات یقینی ہوں گے ۔
انتظامیہ کی خفتگی اور خون آلود چائے
ہزار خوانی میں تین سال سے جاری خون ابال کر خشک کرکے چائے میں ملانے والوں کا دھندہ انتظامیہ کی غیر اعلانیہ سرپرستی اور چشم پوشی کے بغیر ممکن ہی نہیں علاقہ مکینوں کا خون ذخیرہ کرنے اور ابالنے سے جو حالت ہوئی ہوگی اس کا توصحیح علم انہی کو ہوگا لیکن اس صورتحال بارے پڑھ کر ابکائی آنا اور شدید ناگواری کا احساس فطری امر ہے۔ یہ مسئلہ قبل ازیں بھی میڈیا کے ذریعے حکام کے نوٹس میں لایا جا چکا ہے مسئلہ اس سے لا علمی کانہیں انتظامیہ سے کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی کجا کہ خون جمع کرکے ابال کر پورے علاقے کے مکینوں کو عذاب میں مبتلا کرنے کادھندہ پوشیدہ رہ سکے۔ اس مکروہ دھندے سے نہ صرف علاقہ مکینوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اس کی چائے میں ملاوٹ سے صوبہ بھر کے چائے نوش افراد کا بیماریوں کا شکار ہونا فطری امر ہوگا۔ یوں یہ موت بانٹنے کے مترادف معاملہ ہے مگر علاقہ مکین احتجاج کر کرکے تھک جاتے ہیں مگر ملی بھگت کرنے والی انتظامیہ علاقہ پولیس اور متعلقہ محکموں کے عمال کے کانو ں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس صورتحال کا کتنا ماتم کیا جائے۔ تبدیلی کی سرکار سے سوال ہے کہ کیا اسے تبدیلی کہتے ہیں کہ عوام تین سالوں سے ایک مکروہ اور غلیظ دھندے کو روکنے اورعلاقے سے اس کے کارخانے کے خاتمہ کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر مجال ہے کہ کوئی ان کی سنے۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور آئی جی پولیس سمیت متعلقہ محکموں کے تمام عمال کو اس کریہہ کاروبار کا فوری نوٹس لینا چاہئے عوام کے انتباہ کے بعد مقامی لوگوں کا اس ضمن میں کارروئی کرنے والی ٹیم سے تعاون فطری امر ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس دھندے کو مزید ایک دن بھی برداشت نہیں کیا جائے گا اور عوام کو چائے کی بجائے زہریلا خون آلود مشروب پینے کا مزید موقع نہیں دیا جائے گا اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہوگی بلکہ ان کو پابند سلاسل کیاجائے گا اور ملاوٹ شدہ چائے مارکیٹ سے ضائع کردی جائے گی۔

متعلقہ خبریں