آٹھواں آسمان ہوتی ہے ماں

آٹھواں آسمان ہوتی ہے ماں

فضیل بن عیاض نے حافظے پر دستک دی '' تم کیا سمجھوگے کہ اس کرب کو جو متاع جاں گنوانے پر روح کو چیر دیتا ہے''۔ بس اچانک ہی اماں حضور یاد آئیں اور آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایسا اکلاپا جو ماں کی رحلت کے بعد مقدر ٹھہرتا ہے اس کا ذائقہ ہر اس ذات نے چکھا جس کی ماں دنیا سے رخصت ہوئی۔ ڈیڑھ عشرہ گزر گیا۔ اب تو عادی ہو جانا چاہئے لیکن نہیں ہوسکا۔ اب بھی ملتان جاتا ہوں تو اماں حضور کی لحد پر حاضری واجب ہوتی ہے۔ واجب سے منہ کیسے موڑا جائے۔ شاہ حسین نے صحیح ہی تو کہا تھا۔ '' مائے نی میں کینوں آکھاں دردوچھوڑے دا حال نی'' ( اے میری ماں میں بھلا کس سے کہوں گا تجھ سے جدائی اور دکھوں سے بھرے لمحوں کی داستاں) زندگی لیکن یہی ہے اسے اس کے تلخ حقائق کے ساتھ بسر کرنا لازم ہے۔ اپنے والدین کی اولاد میں سے میں واحد ہوں جس نے زندگی کا تقریباً سارا حصہ ( ان کی حیات میں ان سے دور کراچی اور دوسرے شہروں میں پہلے حصول علم اور غم روز گار سے بندھ کر گزارا' ماں مگر کبھی دور نہیں رہیں ہر قدم پر ان کی دعائوں کے حصار میں خود کو محسوس کیا۔ گلیوں اور سڑکوں پر چلتے قید و بند کی صعوبتوں کے ماہ و سال میں ان کی دعا ہی میری پہلی اور آخری آس رہی۔ پچھلا ڈیڑھ عشرہ کیسے بسر ہوا اس کا حال کیا کہوں۔ کہتا ہوں جب کبھی ان کی تربت پر پانتی کی طرف بیٹھنے کی سعادت ملتی ہے خوب حال دل بیان کرتا ہوں۔ کبھی یہ نہیں لگا کہ شہر خموشاں میں ایک قبر پر بیٹھا بپتا سنا رہا ہوں۔

ماں جداکب ہوتی ہے۔ دنیا سرائے سے رخصت بھی ہو تب بھی اولاد کے سینے میں دل کے اندر بستی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ عشرے کے دوران جب بھی یادوں نے دستک دی کہیں فوری یا چند ساعتوں کے وقفے سے مجھے فقیر راحموں کا وہ مرثیہ یاد آتا ہے جو انہوں نے میری اماں کی جدائی پر لکھا۔ '' سات آسمان دیکھ رہے ہیں' ان ساتوں سے مضبوط آٹھواں آسمان میرے سر سے ہٹ گیا۔ جب تک یہ آٹھواں آسمان موجود تھا مجھے کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ لوگوں' حالات اور موسموں میں سے کسی کی بھی نہیں۔ ہائے اب میرے سر پر آٹھواں آسمان نہیں ہے۔ہیں تو فقط سرد و گرم موسم' حالات ہیں۔ ایک سے ایک تیر ہے جو کلیجے میں پیوست ہوتا رہتا ہے۔ اے میری ماں آپ تھیں تو کل جہان کی پرواہ نہیں تھی۔ آپ کی دعائیں فولادی خود سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ مجھے محفوظ رکھتیں۔ اب میں ہوں اوریہ دنیا ہے ہر قدم پر جس کے رنگ بدلتے ہیں۔ زمانے کے لہجے میں کڑواہٹ اتر آئی ہے۔ اماں! مجھے اب سمجھ میں آیا کیوں کہا تھا کلیم اللہ سے اللہ نے احتیاط لازم ہے میرے کلیم کے اب تمہاری ماں نہیں رہی''۔
مجھے حاذق یاد آئے عربی زبان کے بلند پایہ شاعر' ماں کو مٹی کی چادراوڑھا کر لوٹے تو کہا۔ ''مالک دو جہاں حاذق سے معاملہ کرتے وقت یہ مد نظر رکھنا وہ دعائیں کرنے والی کو مٹی کی چادر اوڑھائے اب اس جہاں میں تنہا ہے'' عین ان لمحوں فقیر راحموں نے میرے کان میں کہا '' جن کی مائیں زندہ ہوتی ہیں ان کے غلط فیصلوں اور الٹے قدموں پر دعائیں سایہ کرلیتی ہیں۔ اب سوچ سنبھل کر چلو یہی حالات کا تقاضا ہے'' لاریب اس تلخ حقیقت سے انکار کس کو ہے سرائیکی زبان کے کسی شاعر نے کہا تھا '' ماں زندہ ہو تو سارے موسم بہار کے ہی ہوتے ہیں'' اولاد کے آنگنوں اور دلوں میں خزاں اترتی ہی ماں کے رخصت ہونے پر'' سچ یہی ہے خزاں کے طویل موسم کا انت معلوم نہیں بہار کے موسم ماضی کے قصہ ہوئے۔ دنوں یا مہینوں کے وقفے سے اب بھی جب کبھی اپنے جنم شہر کا رخ کرتا ہوں اور شہر یار میں کوئی شناسا پہچان کر پوچھ بیٹھے۔ آپ بی بی جی کے بیٹے ہو؟ تو نم آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھتا ہوں ساتویں آسمان کا پہلا آسمان دکھائی دیتا ہے۔ پر45برس تک سائبان بن پر سایا کرتا آٹھواں آسمان اپنی جگہ موجود نہیں ہوتا۔ جب کبھی ہمت ٹوٹنے لگتی ہے تو دو کام کرتا ہوں اماں کے حکم کے مطابق سورة کوثر کی تلاوت اور رسول مکرمۖ پر درود بھیجتا ہوں۔ قرار سا آجاتا ہے۔
پچھلے چند گھنٹوں سے عجیب سی کیفیت ہے۔ یادیں قطار اندر قطار اتری چلی آرہی ہیں۔ جی کرتا ہے آنکھیں بند کرکے کھولوں تو اماں کی تربت کی پانتی کی طرف بیٹھا ہوا ہوں۔ عجیب شان اور وقار سے زندگی بسر کی اماں حضور نے۔ اپنے عہد کی چند بڑی عالمائوں میں سے ایک تھیں۔ کئی نسلوں سے اماں حضور کے خاندان کی خواتین وعظ و میلاد کی محافل میں ذکر خیر کرتی رہیں۔ اس ذکر خیر کی بدولت ہی ملتانیوں کے خاندان' ہمارے گھرانے کو بی بیوں کا خاندان کہتے اور احترام کرتے ۔ یہ احترام ملتانیوں کے دل میں آج بھی ہے۔ ذکر و وعظ اور میلاد کی محافل میں خطابت کے بعد دعا کر واتیں سامع خواتین کی آنکھوں کے آنسو رکنے کا نام ہی نہ لیتے۔ ڈیڑھ عشرہ ہوگیا ان کی دعائوں کا تحفہ اور ہاتھوں کے لمس کو محسوس کئے ہوئے۔ وہ اب وہاں ہیں جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ قانون قدرت سے کون بھلا لڑ سکتا ہے۔ اقرارکو انکار میں بدلنے کی جرأت کس میں ہے۔ اپنا آٹھواں آسمان جب سر پر محسوس نہیں ہوتا تو محرومی کے ساتھ زندگی کی شاہراہ پر چلتے ہوئے سوچتا ہوں کہ زندگی اتنی تنگ داماں پہلے تو نہیں تھی جتنی اب ہے۔ پھر شاہ حسین یاد آجاتے ہیں آدمی کس کو حال دل سنائے اور درد بیان کرے جدائی کے۔ مرشدی و سیدی بلھے شاہ نے کہا تھا۔ ماواں ٹھنڈیاں چھاواں ( مائیں تو ٹھنڈا سایہ ہوتی ہیں) پھرسے عرض کروں کہ اماں حضور کی زندگی میں کوئی مشکل مشکل نہیں تھی یہاں تک کہ زندگی کے امتحان کاسوالی پرچہ بھی مرعوب نہیں کر پاتا تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ رتی برابر مشکل ہو یا مسئلہ ہزار سوچیں دستک دیتی ہیں '' ہائے میرے سر پر آٹھواں آسمان نہیں ہے۔ ہیں تو فقط سرد و گرم موسم۔ مائے نی میں کینوں آکھاں درد و چھوڑے دا حال نی''۔

متعلقہ خبریں