جستجوجو کرے وہ چھوئے آسماں

جستجوجو کرے وہ چھوئے آسماں

عقل و دانش کی بات اگر مقبول عام ہو تو کوٹھوں چڑھتی ہے اور اگر قبولیت عوام حاصل نہ کر سکے تو اس کا حشر بھینس کے آگے بین بجانے جیسا ہو جاتا ہے ۔ سروینٹیز Carvantes ایک ہسپانوی فوجی اور لکھاری تھے 1605ء میں انہوں نے اپنے ناول ''ڈان کو یئکز ٹ ''Don Quixote'' میں چند ایسے جملے لکھے جو چارسو سال بعد آج بھی اس طرح بر محل ہیں جیسا آج ہی کے دور کا کوئی ناول نگار یا مفکر زمانہ حال کیلئے کسی تخیل کا اظہار کرے۔ سروینٹیز نے اپنے ناول ڈان کو ئیکزٹ میں چند ایسے پر تخیل جملے لکھے ہیں جو آج بھی کثرت سے لکھے اور بولے جاتے ہیں ۔ ان کا ناول انگریزی میں نہیں بلکہ ہسپانوی زبان میں لکھا گیاتھا جس کا ترجمہ انگریزی زبان میں ہو ا ۔ہسپانوی زبان میں لکھے گئے جملوں کا انگریزی ترجمہ کس قدر مقبولیت کا درجہ پاگئے ان جملوں کو ہسپانوی زبان و ادب میں کتنی مقبولیت حاصل ہوئی آیا یہ جملہ ہسپانوی زبان میں بھی اسی طرح مستعمل ہیں یا نہیں اس بارے میں مجھے اپنی کم علمی کا اعتراف ہے۔البتہ انگریزی میں ان کے ترجمہ شدہ جملوں سے تقریباً ہر کوئی واقف ہے ان کا استعمال اکثر لوگ کرتے ہیں مگر کم ہی کو معلوم ہوگا کہ یہ جملے جو انگریزی لسان و ادب کی زینت بن گئے ہیں دراصل ہسپانوی لکھاری کے ہیں ۔ تمہید کچھ زیادہ ہی لمبی ہوگئی وہ جملے یہ ہیں۔ Sky is the limitجستجو جو کرے چھوئے آسمان،اس کا مطلب ہے کہ ہر چیز ممکن ہے ۔ 

Don,t put all your eggs in one basket
کسی چیز کی جدوجہد میں انسان کو اپنے آپ کو محدود نہیں کرنا چاہیئے ۔
Wild goose chase اس کا لفظی ترجمہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ جنگلی بطخ کا تعاقب کرنا ۔ لیکن اس کا مفہوم ایسی کوشش جو غیر حقیقت پسندانہ ہو اور جس کی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہو کے ہیں سراب کے پیچھے بھاگنا اس کا درست مفہوم ہوگا ۔ یہ تو ایک ہسپانوی ناول نگار کے فرمودات تھے جن سے مکمل اتفاق ضروری نہیں ۔ فی الوقت میں آپ کو Sky is the limitکی ایک عملی مثال سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جس سے آگاہ کرنے اور تحریر بھجو انے پر میں محمد شہزاد ایم فل الیکٹرانکس لیکچرار سرحد یونیوسٹی پشاور کا تہہ دل سے مشکور ہوں ۔
کیپیٹل یونیورسٹی آف سائینس اینڈ ٹیکنالوجی (کسٹ) اسلام آباد نے پاکستان کے پہلے فیزڈ ایرے ریڈار Phased Array Radarکا کامیاب فیلڈ ٹرائل کر لیا ہے۔یونیورسٹی کے طالب علموں نے انتھک محنت اور تحقیق کے بعد ایک ایسا جدید ریڈار تیار کر لیا ہے جو اپنی نوعیت کا جدید ترین ریڈار بتا یا جاتا ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ ریڈار دشمن کے جہازوں کی بروقت نشاندہی کر سکتا ہے۔سادہ لفظوں میں اس ریڈار کی فریکسونسی اتنی طاقتور ہے کہ یہ ریڈار دشمن طیاروں کے ریڈار میں آنے سے قبل ان طیاروں کی آمد کا دور سے ہی کھوج لگا کر ٹارگٹ کرنے کا موقع بر وقت فراہم کر سکتی ہے جس کے باعث دشمن طیاروں کو حملے کا موقع نہیں مل سکے گا ۔ یوں دشمن طیاروں کے ناپاک ارادوں کا بر موقع پتہ چلنے پر ان کے ارادوں کو خاک میں ملا نا ممکن ہوگا ۔ ریڈار کو کسٹ کے کنٹرول اینڈ سگنل پروسیسنگ ریسرچ (CASPR) ڈیپارٹمنٹ کے زیرنگرانی تیار کیا گیا ہے اور اس کو فضائی نگرانی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ آپ کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ روایتی ریڈارز فضا میں ایک باریک شعاع خارج کرتے ہیں تاہم جدید ریڈارز میں ایسے انٹینا ہوتے ہیں جن کو کمپیوٹر سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور برقی صلاحیت کے ذریعے ان سے نکلنے والی شعاعوں کو کسی بھی سمت میں انٹینا ہلائے بغیر مو ڑا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کی ایک مقامی یونیورسٹی کے ایسا ریڈار بنانے کو ایک بہت بڑی کامیا بی قراردیا جارہا ہے۔یہ ریڈار نہ صرف پاکستان کی بری، بحری، اور فضائی افواج کے لئے مددگار ثابت ہوگا بلکہ دیگر دلچسپی کی حامل پارٹیز کے لئے بھی مفید ثابت ہوگا۔
فیزڈ ایرے ریڈار ہے کیا ؟
فیزڈ ایرے دراصل انٹیناز کا ایک گروپ ہوتا ہے جن کی مجموعی تابکاری کے خاکے کو انفرادی عناصر کے سگنلز کی فیزنگ کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مختلف عناصر کی فیزنگ میں تبدیلی کے ذریعے مجموعی تابکاری کے خاکے کو تبدیل کیا جاسکتا ہے تاکہ یہ متعین سمتوں میں بھرپور انداز سے سفر کر سکیں۔
فیزڈ ایرے انٹینا سسٹمز ہماری جدید زندگی میںایک بہترین وائرلیس بینڈوڈتھ (Bandwidth)کو فروغ دینے میں مرکزی کردار ادا کرینگے۔ یہ ریڈارز موسمیاتی پیشگوئی اور فضائی سفر کو تیز تر بنانے میں مددگار ثابت ہونگے۔ فیزڈایرے ریڈارز دفاع، موسمیات، اور ہوابازی سمیت کئی شعبوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے نہایت تکنیکی معلومات کے ترجمے میں سقم موجود ہواسے میری کم علمی پر محمول کیا جائے بہر حال ان ساری معلومات کو آپ سے شیئر کرنے کا مد عا فقط یہ بتا نا تھا کہ ہمارے نوجوانوں کی تحقیق کی صلاحیت کسی سے کم نہیں ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے نیز جہاں وسائل اور سر پرستی کی ضرورت ہو وہاں اگر سرکاری ادارے بخل سے کام نہ لیں تو دفاعی پیداوار کے شعبے میں ہم خود کفیل اور جدید دنیا کے ہم پلہ ہو سکتے ہیں ۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

متعلقہ خبریں